}); بھینس کی قربانی ثابت نہیں – ابن حنبل انٹرنیشنل
احکام و مسائل

بھینس کی قربانی ثابت نہیں

۱:قربانی کرنا عبادت ہے ،اس کے لئے وہی جانور کرنا ہو گا جس کا قرآن وحدیث سے ثبوت ملے گا ۔ہر عبادت کا طریقہ الگ الگ ہے ۔
اور وہ جانور ہیں اونٹ ،گائے ،چھترا ،بھیڑ اور بکری۔
۲:رسول اللہ ﷺ ،صحابہ کرام ،تابعین ،تبعہ تابعین ،ائمہ دین اور متقدمین و متاخرین محدثین کرام میں سے کسی سے بھی بھینس کی قربانی کرنا ثابت نہیں ہے ۔حالانکہ تابعین وغیرہ نے جاموس کو الگ نام لیا ہے ۔
۳:ہر حلال جانور قربانی پر نہیں لگتا ہرن ،گھوڑا وغیرہ حلال ہیں لیکن قربانی پر جائز نہیں ہیں ۔کیونکہ ثابت نہیں ہیں ۔
۴:تمام محدثین نے بھینس کا ذکر کیا ہے زکوۃ کے بیان میں لیکن کسی نے بھی قربانی کے بیان میں بھینس کا ذکر نہیں کیا ۔کیونکہ زکوۃ ایک الگ عبادت ہے اور قربانی ایک الگ عبادت ہے ایک دوسری پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
۵:بھینس گائے کی جنس سے نہیں ہے اگر اسی جنس سے ہوتی تو بیل بھینس کو جفتی کرتا ۔اس طرح نہیں ہے کیونکہ ا ن دونوں کی جنس ایک نہیں ہے ۔
۶:زکوۃ کے بیان میں بعض اہل علم نے بھینس کو نوع من البقر کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوۃ دینے میں بھینس کو گائے کی طرح ایک قسم قرار دیا جائے گایعنی بھینس کو زکوۃ میں گائے کے ساتھ ملایا جائے گا ۔ملایا جائے گا ۔اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ کہ بھینس گائے کی جنس سے نہیں ہے ،اگر جنس سے ہوتی تو بھینس کو نو ع کہنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔
۷:تابعین وغیرہ نے بھینس کی زکوۃ کے بارے میں فتوے دیے لیکن کسی نے قربانی کے متعلق اس کا ذکر تک نہ کیا ۔اگر کوئی کہے کہ وہ بھینس کو گائے ہی سمجھتے تھے اس لئے ذکر نہیں کیا تو عرض ہے کہ انھیں زکوۃ کے بیان میں بھینس کا الگ ذکر کیوں کیا ۔بس وہ زکوۃ میں بھی گائے کا ہی ذکر کرتے ۔زکوۃ کے باب میں گائے اور بھینس کو الگ الگ ذکر کرنا اورقربانی کے بیان میں صرف گائے کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محدثین بھینس کی قربانی نہیں کیا کرتے تھے اور نہ گائے کی جنس سے سمجھتے تھے ۔فافھم ۔
۸:شک والی چیز کو چھوڑنا واجب ہوتا ہے اسی میں ایمان کی سلامتی ہوتی ہے ۔مجتھدین کی بھینس کی قربانی کے متعلق دو رائے ہیںہیں چند متاخرین کہتے ہیں کہ جائز ہے حالانکہ یہ عمل
رسول اللہ ﷺ ،صحابہ کرام ،تابعین ،تبعہ تابعین ،ائمہ دین اور متقدمین محدثین کرام میں سے کسی سے کرنا ثابت نہیں ہے ۔
۹:دین قرآن و حدیث کا نام ہے ۔افسوس کہ بھینس کی قربانی کے لئے دلیل قرآن و حدیث کو چھوڑ کر کسی اور سے دی جاتی ہے ۔
۱۰:بہیمۃ الانعام سے مراد اونٹ ،گائے ،بھیڑ اور بکری ہے ۔اس کی وضاحت قرآن مجید (الانعام:۱۴۲۔۱۴۴)میں بھی ہے اور امام قرطبی (تفسیر قرطبی ج۱۲ص۳۰)
اور امام شوکانی نے یہی چار جانور مراد لئے ہیں اور لکھا ہے کہ قربانی صرف انھیں چار جانوروں میں سے ہو گی (فتح القدیر :ج۳ص۴۵۲،۴۵۱)
نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :انعام کی قید اس لئے لگائی ہے کہ قربانی انعام کے سوا اور کسی جانور کی درست نہیں اگرچہ اس کا کھانا درست ہی ہو ۔(ترجمان القرآن :۷۴۱)
سید سابق مصری فرماتے ہیں :قربانی اونٹ ،گائے اور بھیڑ بکری کے علاوہ جائز نہیں ۔(فقہ السنۃ :ج۳ص۲۶۴)
۱۱:
محدثین کی تحقیقات

ابن حجر لکھتے ہیں کہ نبی کریم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بغیر اونٹ ، گائے اور بکر ی کے کسی قسم کے حیوان کی قربانی کرنا منقول نہیں ہے (تلخیص الحبیر :ج۲ص۲۸۴)

محدث عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ
اگر کوئی بندہ طلاق کے بارے میں یہ قسم اٹھاتا ہے کہ اگر اس نے بھینس کا گوشت کھا لیا تو اس کی بیوی کو طلاق ،اگر اس نے گائے کا گوشت کا کھا لیا کیا اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گا ؟؟
اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس طرح قسم کی قسم سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔یعنی وہ اپنی قسم میں حا نث نہیں ہوگا ۔تو اس سے پتا چلتا ہے کہ بھینس گائے کی جنس سے نہں اور جنس سے ہوتی تو گائے کا گوشت کھانے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ۔
بعض علماء کا نوع من البقر کہنا اس میں تساہل ہے اصل یہ ہے کہ وہ کہتے کہ الجاموس کالبقرۃ یا کہتے الجاموس بمنزلۃ البقرۃ ۔حسن بصری نے کہا کہ الجاموس بمنزلۃ البقر(مصنف ابن شیبۃ )اس سے ثابت ہو ا کہ جاموس بقر میں سے نہیں ہے ۔
[ الجامو بمنزلۃ البقر کا معنی محقق العصر عبدالقادر حصاری لکھتے ہیں :جیسے تیس گائیوں پر زکوۃ ہے ویسے ہی تیس بھینوں پر ہے ۔(فتاوی حصاری ج۵ص ۴۴۳)جیسے زید من الاسد اور زید کالاسد اس میں بہت واضح فرق ہے اہل علم پر مخفی نہیں اور استاد محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :زکوۃ کے سلسلے میں اس مسئلے پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے (فتاوی علمیہ ج۲ ص۱۸۱)یہی بات ہم کہتے ہیں کہ زکوۃ کے مسئلے میں بھینس گائے کی نوع سے ہے ۔از ناقل] میرے نزدیک سے زیادہ احوط بات یہ ہے کہ قربانی صرف انھیں جانور کی کرے جو سنت صحیحہ سے عملا ،قولا اور تقریرا ثابت ہو ۔اور اس کی طرف التفات نہ کرے جو نبی کریم ﷺ ،صحابہ ،تابعین سے منقول نہ ہو ۔
(مرعاۃ المفاتیح :ج۱ص۳۵۳۔۳۵۴)
حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :۔۔۔۔یاد رہے کہ بعض مسائل احتیاط کے لحاظ سے دو جہتوں والے ہوتے ہیں اور عمل احتیاط پر کرنا پڑتا ہے ام المومنین حضرت سودہ کے والد زمعہ کی لونڈی سے زمانہ جاہلیت میں عتبہ بن ابی وقاص نے زنا کیا لڑکا پید ا ہوا جو اپنی والدہ کے پاس پروش پاتا رہا زانی مر گیا اور اپنے سعد بن وقاص کو وصیت کر گیا کہ زمعہ کی لونڈی کا لڑکا میرا ہے اس کو اپنے قبضہ کرلینا فتح مکہ کے موقع پر سعد بن ابی وقاص نے اس لڑکے کو پکڑ لیا اور کہا یہ میرا بھتیجہ ہے زمعہ کے بیٹے نے کہا کہ یہ میرے باپ کا بیٹا ہے لہذا میرا بھائی ہے اس کو میں لوں گا مقدمہ دربار نبوی میں پیش ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا الولد للفراش وللعاہر الحجر ۔اولاد بیوی والے کی ہے اور زانی کے لئے پتھر ہیں یعنی وہ ناکام ہے اور اس کا حکم سنگسار کیا جانا ہے بچہ سودہ رضی اللہ عنھا کے بھائی حوالے کر دیا جو حضرت سودہ کا بھی بھائی بن گیا لیکن حضرت سودہ کو حکم فرمایا کہ وہ اس سے پردہ کرے کیونکہ اس کی شکل وصورت زانی سے ملتی تھی جس سے شبہ ہوتا تھا کہ یہ زانی کے نطفہ سے ہے۔
دیکھئے اس مسئلہ میں شکل و صورت کے لحاظ سے تو پردے کا حکم ہوا اور جس کے گھر میں پیدا ہوا اس کے لحاط سے اس کا بیٹا بنا دیا گویا احتیاط کی جانب کو ملحوظ رکھا ایسا ہی معاملہ بھینس کا ہے اس میں دونوں جہتوں میں احتیاط پر عمل ہوگا ،زکوۃ ادا کرنے میں احتیاط ہے اور قربانی نہ کرنے میں احتیاط ہے اس لئے بھینس کی قربانی جائز نہیں ۔
اور بعض نے جو یہ لکھا ہے کہ الجاموس نوع من البقر یعنی یعنی بھینس گائے کی قسم ہے یہ بھی زکوۃ کے لحاظ سے ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بھینس دوسری جنس ہے ۔(فتاوی اہل حدیث ج۲ ص۴۲۶)
اس فتوے پر تبصرہ کرتے محقق العصر عبدالقادر حصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :کہ آپ (محدث روپڑی از ناقل)کے مجتہد اور جامع المغموص ہونے کا بندہ پہلے ہی معترف ہے مگرگزشتہ پرچہ (تنظیم اہل حدیث جلد ۱۶شمارہ ۴۲ ،۱۷ اپریل ۱۹۶۴ )میں بھینسا کی قربانی کے فتوی میں آ پ نے حدیث زمعہ سے اجتہاد فرما کر زکوۃ اور قربانی میں احتیاطی صورت کو جس طرح مدلل کیا ہے وہ آ پ کے مجتہد مطلق ہونے پر بین دلیل ہے ،اور ہمیں فخر ہے کہ ہماری جماعت میں بفضلہ تعالی مجتھد موجود ہیں ۔۔۔آپ نے جو جواب دیا ہے اس سے حنفیہ کا اعتراض اور استدلال رفع ہو گیا ہے ۔(فتاوی حصاریہ ج ۵ ص ۴۴۲)
مفتی مبشر ربانی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :ائمہ اسلام کے ہاں جاموس یعنی بھینس کا جنس بقر سے ہونا مختلف فیہ ہے مبنی بر احتیاط اور راجح موقف یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ مسنون قربانی اونٹ ،گائے ،بھیڑ بکری سے کی جائے جب یہ جانور موجود ہیں تو ان کے ہوتے ہوئے مشتبہ امور سے اجتناب ہی کرنا چاہئے اور دیگر بحث و مباحثے سے بچنا ہی اولی وبہتر ہے۔(احکام ومسائل ص۵۱۱)
استاد محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ لکھتے ہیں :زکوۃ کے سلسلے میں اس مسئلے پر اجماع ہے کہ بھینس گائے کی جنس میں سے ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بھینس گائے کی ہی ایک قسم ہے تاہم چونکہ نبی کریم ﷺ یاصحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے صراحتا بھینس کی قربانی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا لہذا بہتر یہی ہے کہ بھینس کی قربانی نہ کی جائے بلکہ صرف گائے ،اونٹ ،بھیڑ اور بکری کی ہی قربانی کی جائے ۔اور اسی میں احتیاط ہے ۔(فتاوی علمیہ ج۲ص۱۸۱)
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا فتوی :
ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنھما کے گھر بچہ پیدا ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کو کسی نے کہا کہ عقیقہ کے لئے اونٹ ذبح کیا جائے تو آپ نے فرمایا معاذ اللہ ہم تو وہی کریں گے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم عمر دو بکریاں ذبح کی جائیں (سنن الکبری للبیھقی :ج۹ ص۳۰۱)
اس واقعے سے دو باتیں ثابت ہوئیں کہ امی عائشہ رضی اللہ عنھا نے اونٹ کو عقیقہ میں ذبح کرنا درست نہیں سمجھا حالانکہ اونٹ قربانی میں ذبح کیا جاتا ہے ۔اور یہی سنت کی اتباع ہے ،افسوس ہے ان لوگوں پر جو اپنے آپ کو سنت کا متبع بھی قرار دیتے ہیں پھر عقیقہ میں بھینس کو بھی ذبح کرتے ہیں اسی طرح بھینس کی قربانی میں جواز کا فتوی دینے والے عقیقہ میں بھی بھینس کو ذبح کرتے ہیں ۔امی عائشہ رضی اللہ عنھا کے فتوی کی روشنی میں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب عقیقہ میں اونٹ ذبح نہیں کیا جا سکتا تو عقیقہ میں بھینس بالاولی ذبح نہیں کی جا سکتی جب بھینس عقیقہ میں ذبح نہیں ہو سکتی تو اس کو قربانی میں ذبح کرنا تو بہت دور کی بات ہے ۔فافھم ۔یہی اتباع ہے ۔
نبی کریم ﷺ کے دور میں اونٹ عام تھے جب ان کی موجودگی میں بھی آپ نے عقیقہ میں ذبح نہیں کیے ،تو ان لوگوں کا اعتراض کہ آ پ کے زمانے میں بھینس نہیں تھی اس لئے آ پ نے قربانی نہیں کی بے جا ہے ،بات یہ نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ مسنون قربانی وہی ہے جو آ پنے کی بس اسی میں نجات ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھینس کی قربانی کا حکم
اقول کے بعد میری (ابن بشیر الحسینوی)تحریر ہے ۔
ایک محترم لکھتے ہیں :
بھینس کی قربانی جائز ہے یا نہیں، اس بارے میں ایک تحقیق پر مبنی تحریر ملاحظہ فرمائیں :
قربانی کے جانور

قرآنِ کریم نے قربانی کے لیے بھِیم النعام کا انتخاب فرمایا ہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ِگرامی ہے :
(ویذکروا اسم اللہِ فِی ایام معلومت علی ما رزقہم مِن بہِیمِ الانعامِ فکلوا مِنہا واطعِموا البائِس الفقِیر) (الحج 22:28)
”اور وہ معلوم ایام میں بھِیم النعام پر اللہ کا نام ذکر (کر کے انہیں ذبح) کریں، پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔”
خود قرآنِ کریم نے النعام کی توضیح کرتے ہوئے ضان(بھیڑ)، معز(بکری)، اِبِل(اونٹ) اور بقر(گائے)،چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا۔اور ان کے مذکر و منث کو ملا کر انہیں ثمانِی زواج (جوڑوں کے لحاظ سے آٹھ )کہا۔(الانعام 6:144-142)
جانوروں کی نسل کا اعتبار ہو گا،علاقائی ناموں کا نہیں

انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت ِمسلمہ کے نزدیک اجماعی و اتفاقی طور پر مشروع ہے۔ان جانوروں کی خواہ کوئی بھی نسل ہو اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی نام دیتے ہوں، اس کی قربانی جائز ہے۔مثلا بھیڑ کی نسل میں سے دنبہ ہے۔اس کی شکل اور نام اگرچہ بھیڑسے کچھ مختلف بھی ہے،لیکن چونکہ وہ بھیڑ کی نسل اور قسم میں شامل ہے،لہذا اس کی قربانی مشروع ہے۔اسی طرح مختلف ملکوں اور علاقوں میں بھیڑ کی اور بھی بہت سی قسمیں اور نسلیں ہیںجو دوسرے علاقوں والوں کے لیے اجنبی ہیں اور وہ انہیں مختلف نام بھی دیتے ہیں۔اس کے باوجود ان سب کی قربانی بھیڑ کی نسل و قسم ہونے کی بنا پر جائز اور مشروع ہے۔اسی طرح اونٹوں وغیرہ کا معاملہ ہے۔
قربانی کے جانوروں میں سے ایک ”بقر”(گائے)بھی ہے۔اس کی قربانی کے لیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔اللہ تعالی نے موسیu کی زبانی ان کی قوم کو ”بقر” ذبح کرنے کا حکم دیا،لیکن قومِ موسی نے اس کی ہیئت و کیفیت کے بارے میں سوال پر سوال شروع کر دیے جس کی بنا پر انہیں سختی کا سامنا کرنا پڑا۔سورہء بقرہ کی کئی آیات اس کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
انہی آیات کی تفسیر میں امام المفسرین،علامہ ابوجعفر، محمد بن جریر بن یزید بن غالب، طبریa(310-224ھ)صحابہ و تابعین اور اہل علم کا قول نقل فرماتے ہوئے لکھتے ہیں : نھم کانوا فِی مسلتِھِم رسول اللہِ صلی اللہ علیہِ وسلم، موسی ، ذلِک مخطِئِین، ونھم لو کانوا استعرضوا دنی بقر مِن البقرِ، ِذ مِروا بِذبحِھا، ۔۔۔۔۔، فذبحوھا، کانوا لِلواجِبِ علیھِم، مِن مرِ اللہِ فِی ذلِک، مدِین، ولِلحقِ مطِیعِین، ِذ لم یکنِ القوم حصِروا علی نوع مِن البقرِ دون نوع، وسِن دون سِن، ۔۔۔۔۔، ون اللازِم کان لھم، فِی الحالِ الولی، استِعمال ظاھِرِ المرِ، وذبح یِ بھِیم شا وا، مِما وقع علیھا اسم بقر .
”قومِ موسی،گائے کے بارے میں سیدنا موسی علیہ السلام سے سوالات کرنے میں غلطی پر تھی۔جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیاتھا،اس وقت وہ گائے کی کوئی ادنی قسم بھی ذبح کر دیتے تو حکم الہی کی تعمیل ہو جاتی اور ان کا فرض ادا ہو جاتا،کیونکہ ان کے لیے گائے کی کسی خاص قسم یا کسی خاص عمرکا تعین نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ پہلی ہی دفعہ ظاہری حکم پر عمل کرتے ہوئے کوئی بھی ایسا جانور ذبح کر دیتے ،جس پر ‘بقر’ کا لفظ بولا جاتا تھا۔”(جامع البیان عن تویل آی القرآن [تفسیر الطبری] : 100/2)
معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالی گائے ذبح کرنے کا حکم فرمائے تو گائے کی کوئی بھی قسم یا نسل ذبح کرنے سے حکم الہی پر عمل ہو جاتا ہے اور یہ بات لغت ِعرب میں اور اہل علم کے ہاں طے ہے کہ جس طرح بختی،اِبِل(اونٹ)کی ایک نسل ہے، اسی طرح بھینس، بقر (گائے)کی ایک نسل و قسم ہے ۔
اس سلسلے میں ہم ہر دور کے چیدہ چیدہ علمائے لغت ِعرب کے اقوال پیش کرتے ہیں:
1 لیث بن ابوسلیم تابعی(اختلط فی آخر عمرہ)(م : 138/148ھ)کا قول ہے :
الجاموس والبختِی مِن الزواجِ الثمانِیِ .
”بھینس(گائے کی ایک قسم) اور بختی(اونٹ کی ایک قسم)ان آٹھ جوڑوںمیں سے ہیں جن کا اللہ تعالی نے ذکر کیا ہے۔”(تفسیر ابن بی حاتم : 1403/5، وسندہ، حسن)
2 لغت و ادب ِعربی کے امام،ابومنصور،محمدبن احمد،ازہری،ہروی(370-282ھ) فرماتے ہیں :
وجناس البقرِ، مِنھا الجوامِیس، واحِدھا جاموس، وھِی مِن نبلِھا، وکرمِھا، وکثرِھا لبانا، وعظمِھا جساما .
”گائے کی نسلوں میں سے جوامیس(بھینسیں)ہیں۔اس کی واحد جاموس ہے۔یہ گائے کی بہترین اورعمدہ ترین قسم ہے۔یہ گائے کی سب اقسام میں سے زیادہ دودھ دینے والی اور جسمانی اعتبار سے بڑی ہوتی ہے۔”(الزاھر فی غریب لفاظ الشافعی، ص : 101)
3 امامِ لغت ،علامہ، ابوالحسن،علی بن اسماعیل،المعروف بہ ابن سیدہ(458-398ھ) لکھتے ہیں :
والجاموس نوع مِن البقرِ .
”بھینس،گائے کی ایک نسل ہے۔”(المحکم والمحیط العظم : 283/7)
4 عربی زبان کے ادیب اور لغوی ،ابوالفتح،ناصربن عبد السید،معتزلی،مطرزی (610-538ھ)لکھتے ہیں :
والجاموس نوع مِن البقرِ .
”بھینس،گائے ہی کی نسل سے ہے۔”(المغرب فی ترتیب المعرب، ص : 89)
5 مشہور فقیہ ومحدث ،علامہ عبد اللہ بن احمدبن محمد،المعروف بہ ابن قدامہ، مقدسی a(620-541ھ)فرماتے ہیں :
والجوامِیس نوع مِن البقرِ، والبخاتِی نوع مِن الِبِلِ .
”بھینسیں،گائے کی نوع(نسل)سے ہیںاور بختی،اونٹوں کی نوع(نسل)سے۔”(الکافی فی فقہ المام حمد : 390/1)
6 شیخ الاسلام ابن تیمیہaکے جد امجد،محدث و مفسر،ابوالبرکات،عبد السلام بن عبد اللہ،حرانیa(652-590ھ)فرماتے ہیں:

والجوامِس نوع مِن البقرِ .
”بھینسیں،گائے کی ایک نوع (نسل) ہیں۔”
(المحرر فی الفقہ علی مذہب المام احمد بن حنبل : 215/1)
7 شارحِ صحیح مسلم،معروف لغوی،حافظ ابوزکریا،یحیی بن شرف،نوویa (676-631ھ)،ابواسحاق شیرازی(474-393ھ)کی کتاب التنبیہ فی الفقہ الشافعی کی تشریح و تعلیق میں فرماتے ہیں :
وینکر علی المصنِفِ کونہ، قال : والجوامِس والبقر، فجعلہما نوعینِ لِلبقرِ، وکیف یکون البقر حد نوعیِ البقرِ ۔۔۔۔۔، قال الزھرِی : نواع البقر، مِنھا الجوامِیس، وھِی نبل البقرِ .
”مصنف کا [والجوامِیس والبقر] کہنا قابل اعتراض ہے، انہوں نے گائے اور بھینس کو گائے کی نسلیں قرار دیا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ گائے ہی گائے کی دو نسلوں(بھینس اور گائے میں سے)ایک نسل ہو؟۔۔۔ازہری کہتے ہیں کہ بھینس،گائے کی ایک نوع ہے اور یہ گائے کی تمام نسلوں سے عمدہ ترین نسل ہے۔ ”
(تحریر لفاظ التنبیہ، : 106)
8 لغت ِعرب میں امام وحجت کا درجہ رکھنے والے علامہ،ابوالفضل،محمدبن مکرم، انصاری،المعروف بہ ابن منظور افریقی(711-630ھ)فرماتے ہیں :
والجاموس نوع مِن البقرِ .
”بھینس،گائے کی ایک نسل ہے۔”
(لسان العرب : 43/6)
9 معروف لغوی،علامہ ابوالعباس،احمدبن محمدبن علی،حموی(م:770ھ) لکھتے ہیں :
والجاموس نوع مِن البقرِ .
”بھینس،گائے کی ایک نسل ہے۔”
(المصباح المنیر فی غریب الشرح الکبیر : 108/1)
0 لغت ِعرب کی معروف و مشہور کتاب ”تاج العروس” میں مرقوم ہے :
الجاموس نوع مِن البقرِ .
”بھینس ،گائے کی نسل سے ہے۔”
(تاج العروس من جواھر القاموس لبی الفیض الزبیدی : 513/15)
! لغت ِعرب کی معروف کتاب ”المعجم الوسیط” میں ہے :
الجاموس حیوان ھلِی، مِن جِنسِ البقرِ .
”بھینس،گائے کی نسل سے ایک گھریلوجانور ہے۔”(المعجم الوسیط : 134/1)
نیز اسی کتاب میں لکھا ہے :
البقر : جِنس مِن فصِیلِ البقرِیاتِ، یشمل الثور والجاموس .
”بقر،گائے کے خاندان سے ایک جنس ہے جو کہ بیل(گائے) اور بھینس پر مشتمل ہے۔”(المعجم الوسیط : 65/1)
اس سے معلوم ہوا کہ چودھویں صدی کے بعض انتہائی قابل احترام اہل علم کا یہ کہنا کہ ‘بھینس کاگائے کی نسل سے ہونا اہل علم سے واضح طور پر ثابت نہیں،بلکہ بھینس بعض احکام میں گائے کی طرح تھی اور اس کے لیے لفظکالبقرِ/بِمنزِلِ البقرِ(گائے جیسی)مستعمل تھا۔اور کسی لغوی کو غلطی لگنے کی وجہ سے اس نے کالبقرِ/بِمنزِلِ البقرِ(گائے جیسی)کے بجائے نوع مِن البقر(گائے کی نسل) لکھ دیا۔۔۔’قطعادرست نہیں،کیونکہ غلطی کسی ایک اہل علم یا لغوی کو لگنی تھی یا سارے اہل علم اور لغویوں کو؟بہت سے معروف لغویوں اور اہل علم نے اپنی مشہور زمانہ کتب میں بھینس کے گائے کی نسل ہونے کی تصریح کی اور ہمارے علم کے مطابق تیرہویں صدی ہجری تک کسی ایک بھی لغوی نے اس کی تردید یا انکار نہیں کیا۔اگر یہ بات غلط ہوتی تو ماہرین لغت ِعرب ضرور اس کی وضاحت کرتے۔
اقول:اہل لغت کو ہم سے بہت زیادہ محدثین جانتے تھے انھوں نے بھی اپنی کتب میں زکوۃ کے باب میں جاموس کو بقر کی نوع قرار دیا توہے قربانی کے باب میں نہیں فافھم ۔راقم کی علم میں کوئی ایسا محدث نہیں ہے جس نے قربانی کے باب میں جاموس کا ذکر کیا ہو ۔
کیا اہل لغت کا کوئی اعتبار ہے؟
بعض لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ کیا شریعت میں لغت ِعرب دلیل بن سکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور سنت ِرسول کا سارا ذخیرہ عربی زبان میں ہے۔قرآن و سنت پر عمل تب ہی ہو گا،جب اس کا معنی و مفہوم سمجھا جائے گا اور قرآن و سنت کا معنی و مفہوم تب ہی سمجھا جا سکتا ہے،جب لغت ِعرب کو سمجھا جائے گا۔کوئی شخص اگر قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کا ترجمہ کرتا ہے تو وہ لغت ِعرب کو پڑھ اور سمجھ کر ہی اپنی کاوش میں کامیاب ہو سکتا ہے اور اس کے ترجمے کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کے لیے لغت ِعرب ہی راہنمائی کرے گی۔جو لوگ لغت ِعرب کا اعتبار نہیں کرتے،ان سے سوال ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ ”بقر” کا معنی ”گائے”کیوں ہے؟
بھینس کا نام ہی گائے ہے
بعض لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ گائے اور بھینس کے نام ہی میں فرق ہے۔اگر بھینس ،گائے کی نسل سے ہوتی تو اس کا نام گائے ہوتا،نہ کہ کچھ اور۔جب عرف میں اسے کوئی گائے کہتا اور سمجھتا ہی نہیں تو یہ گائے ہے ہی نہیں۔ان کے لیے عرض ہے کہ بھینس کے لیے عربی میں لفظ ِ”جاموس”استعمال ہوتا ہے جو کہ فارسی سے منتقل ہو کر عربی میں گیاہے۔فارسی میں یہ نام ”گامیش”تھا۔عربی زبان کی اپنی خاص ہیئت کی بنا پر اس کا تلفظ تھوڑا سا بدل گیا اور یہ ”جاموس” ہو گیا۔اس بات کی صراحت لغت ِعرب کی قریبا تمام امہات الکتب میں لفظ ”جاموس” کے تحت موجود ہے۔اس فارسی نام میں واضح طور پر لفظ ”گا”(گائے) موجود ہے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھینس اصل میں گائے ہی کی ایک نسل ہے۔چونکہ گائے کی یہ نسل(بھینس)عربی علاقوں میں موجود نہیں تھی،بلکہ عجمی علاقوں میں ہوتی تھی،عربوں کے ہاں معروف نہ تھی،اسی لیے اس کا نام فارسی سے عربی میں لانا پڑا۔
اس کی وضاحت کے لیے ہم معروف عرب عالم ومفتی،شیخ محمدبن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421-1347ھ) کا قول نقل کرتے ہیں۔ان سے بھینس کی قربانی کے بارے میں سوال ہوا اور پوچھا گیا کہ جب بھیڑ اور بکری دونوں کا ذکر قرآنِ کریم نے کیا ہے (حالانکہ یہ ایک ہی نسل [غنم] سے ہیں)تو بھینس اور گائے دونوں کا ذکر کیوں نہیں کیا(اگر یہ بھی ایک ہی نسل ہیں)؟تو انہوں نے فرمایا :
الجاموس نوع مِن البقرِ، واللہ عز وجل ذکر، فِی القرآنِ، المعروف عِند العربِ الذِین یحرِمون ما یرِیدون، ویبِیحون ما یرِیدون، والجاموس لیس معروفا عِند العربِ .
”بھینس،گائے ہی کی نسل ہے۔اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں صرف ان جانوروں کا ذکر کیا ہے،جو عربوں کے ہاں معروف تھے۔(دور جاہلیت میں)عرب اپنے پسندیدہ جانوروں کو حلال اور اپنے ناپسندیدہ جانوروں کو حرام قرار دیتے تھے۔بھینس تو عربوں کے ہاں معروف ہی نہ تھی(اور مقصد حلت و حرمت بتانا تھا،نہ کہ نسلیں)۔”
(مجموع فتاوی ورسائل فضیل الشیخ محمد بن صالح العثیمین : 34/25))
اقول: بے شمار محدثین نے زکوۃ کے باب میں الجاموس من نوع البقر قرار دیا ۔جب ایک بھینس گائے ہی ہے تو انھوں نے اس طرح کیوں کہا ؟؟؟
محدثین کی اس طرح وضاحتیں اس بات پر بین دلیل ہیں کہ ان کے ہاں گائے اور ہے او ر بھینس اور ہے ۔دونوں ایک نہیں ہیں ۔ورنہ وہ جاموس کا ذکر کرتے ہیں نہ ۔
اس پر سہاگہ یہ بھی کہ انھوں نے زکوۃ کے باب میں تو یہ کہا لیکن قربانی کے باب میں لفظ جاموس کا ذکر تک نہ کیا ۔
تنبیہ :
بعض لوگوں کا یہ کہنا درست نہیں کہ چونکہ نبی اکرمeاور صحابہ کرام نے بھینس کی قربانی نہیں کی،لہذا اس کی قربانی سے احتراز بہتر ہے اور یہ احوط واولی ہے۔ہمارا ان اہل علم سے مدبانہ سوال ہے کہ ان کی یہ احتیاط صرف گائے کی ایک نسل ”بھینس”ہی کے بارے میں کیوں ہے؟ان کو چاہیے کہ گائے کی جو جو نسلیں نبی اکرمeاور صحابہ کرام نے قربانی میں ذبح کیں،صرف انہی کی اجازت دیں۔کیا بھینس کے علاوہ موجودہ دور میں پائے جانے والی گائے کی تمام نسلیں نبی اکرمeاور صحابہ کرام نے قربانی میں ذبح کی تھیں؟ اس طرح تو دیسی،ولائتی،فارسی،افریقی، تمام قسم کی گائے کی قربانی سے احتراز کرنا ہو گا اور اسی طرح بھیڑ و بکری اور اونٹ کا بھی معاملہ ہو گا۔پھر ہر شخص قربانی کے لیے عربی گائے،عربی اونٹ،عربی بھیڑ اور عربی بکرا کہاں سے لائے گا؟اگر کوئی عربی نسل سے کوئی جانور تلاش بھی کر لے تو اسے تحقیق کرنا پڑے گی کہ یہ بعینہ اسی نسل سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے قربانی کی تھی یا بعد میں پیدا ہونے والی کوئی نسل ہے!!!
اقول: یہ بات فضول ہے عرب میں بقر اور جاموس موجود تھی ،انھوں نے ان دونوں کا فرق کیا ہے اسی
پھر یہ احتیاط والی بات اس لیے بھی عجیب سی ہے کہ اگر بھینس،گائے نہیں تو اس کی قربانی سرے سے جائز ہی نہیںاور اگر یہ گائے ہے تو اس کی قربانی بالکل جائز ہے۔اس میں کوئی درمیانی راستہ تو ہے ہی نہیں۔
الحاصل :
بھینس،گائے کی ایک نسل ہے۔اس کی قربانی بالکل جائز ہے۔اس میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔
واللہ علم بالصواب وعلمہ برم وحکم !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقول: شیخ رفیق طاہر حفظہ اللہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :اس ساری بحث میں بھینس کی قربانی پر کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے ۔
صرف لفظ بقر کو جاموس یعنی بھینس پر صادق کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اور اسکے لیے بھی اہل عرب کے اقوال پیش کیے گئے ہیں ۔ جبکہ اہل عرب کا قول اس میدان میں حجت نہیں ہے ۔ کیونکہ عرب میں گائے ہی پائی جاتی تھی بھینس موجود نہ تھی ۔ بھینس بعد میں وہاں پہنچی تو انہوں نے اسے گائے کی ہی جنس سمجھ لیا ۔
جبکہ برصغیر پاک وہند میں گائے اور بھینس دونوں جانور مدتوں سے موجود ہیں اور یہ لوگ عرب کی نسبت ان دونوں جانوروں کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ۔ اور ماہرین دونوں کو الگ الگ جانور قرار دیتے ہیں نہ کہ ایک ہی جانور کی دو نسلیں ۔
دونوں جانوروں میں بہت سے بنیادی فرق ہیں ۔
اہل عرب کو بھینس کا تعارف کرایا گیا اور بآسانی انہیں سمجھانے کے لیے لفظ ” گائے کی قسم ” استعمال کیا گیا ۔
جیسا کہ لومڑی کتا اور گیدڑ تینوں الگ الگ جانور ہیں ۔ لیکن ظاہری طور پر کافی حدتک ملتے جلتے ہیں , اور عام آدمی گیدڑ اور کتے کے درمیان فرق نہیں کر پاتا ۔
اور جس شخص کو گیدڑ کے بارہ میں معلوم نہ ہو کہ وہ کیا ہوتا ہے اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ بھی ایک قسم کا کتا ہی ہے ۔ بس یہ فرق ہے ۔
یہی حال گائے اور بھینس کا ہے ۔
خوب سمجھ لیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(قال الشافعی) ولو نزا بش ما عز و تیس ضائن فنتحت ان فی نتاجہا الصدق لانہا غنم لہا وہذا لو نزا جاموس بقر و ثور جاموس و بخت عربی و عربی بختی انت الصدقات فی نتاجہا لہا لانہا بقر لہا، لا تر نا نصدق البخت مع العراب وصناف الابل لہا وہ مختلف الخلق ونصدق الجوامیس مع البقر والدربانی مع العراب وصناف البقر لہا وہ مختلف (1) والضن ینتج المعز وصناف المعز والضن لہا، لان لہا غنم وبقر وبل(الام للشافعی :ج۲ص۲۰)

Calendar

December 2018
S S M T W T F
« Nov    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

RSS Meks Blog

  • WCUS 2018 State of the Word December 9, 2018
    Just as last year, join us for WCUS 2018 State of the Word recap and everything you were keen to know about WordPress 5.0, Gutenberg and more! The post WCUS 2018 State of the Word appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) December 6, 2018
    Pick and choose among some of the best Facebook groups for bloggers and start boosting your traffic and engagement as of today! The post 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Getting ready for WordPress 5.0 (actionable “to the point” tips & explanation) December 5, 2018
    A new major WordPress update (version 5.0) is just around the corner (or it has been released already if you are reading this post after December 6th). During the past few months, we’ve been reading different opinions and points of view regarding WP 5.0 and its upcoming post/page editor, which was available for testing as […]
    Meks
  • How to embed Vimeo videos in WordPress November 21, 2018
    Looking for a way to easily embed Vimeo videos in WordPress content? Let us show you how. The post How to embed Vimeo videos in WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? November 15, 2018
    Want to learn what is a slug in WordPress and how important it is for your blog or a website? Take a look at our detailed guide and follow these tips on optimizing it for better SEO results! The post What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? appeared first on […]
    Ivana Cirkovic
  • 16 best free Social Media plugins for WordPress November 8, 2018
    An extensive list of great free social media plugins for WordPress to easily increase your website traffic and boost your social media appearance. The post 16 best free Social Media plugins for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • The ultimate guide to MailChimp for WordPress October 31, 2018
    Want to know how to use MailChimp for WordPress? Look no more than this guide of ours, filled with all the tips and advice you need! The post The ultimate guide to MailChimp for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 3 easy ways to increase WordPress upload size limit October 24, 2018
    Looking for a way to fix the upload limit issue and increase WordPress upload size? Here are 3 ways to do it yourselves! The post 3 easy ways to increase WordPress upload size limit appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Quickly find which WordPress template file is currently being used October 19, 2018
    A simple code snippet you can use whenever you need to find out which WordPress template file is being used on the current page. The post Quickly find which WordPress template file is currently being used appeared first on Meks.
    Meks
  • 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue October 17, 2018
    What would be some of the best blog monetization tips you can implement to earn more money blogging? Here's what we advise you. The post 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat