}); ”شیخ الحدیث مولانا عبد الرزاق فاروقی رحمہ اللہ“ – ابن حنبل انٹرنیشنل
میرے اسلاف

”شیخ الحدیث مولانا عبد الرزاق فاروقی رحمہ اللہ“

تحریر:حمید اللہ خان عزیز،ایڈیٹر ماھنامہ”تفہیم الاسلام“
Cell:03022186601
جنوبی پنجاب کی تاریخ صف اول کے جن مبلغین کے ذکر سے ھمیشہ معمور رھے گی،ان میں ایک نام حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ کا بھی ھے۔جو اس خطہ ارضی کی عظیم علمی ،عبقری،نابغہ روزگار اور جامع الصفات شخصیت تھے۔
مرحوم اپنے حسن تکلم،جولانی فکر،بالخصوص علم حدیث میں مہارت کاملہ رکھتے تھے۔آپ رحمہ اللہ24-جولائی 1924ء کو سابقہ ریاست بھاول پور کے مشہور شہر احمدپور شرقیہ کے قدیمی خطے”اوچ شریف“ کے علاقے کوٹلہ شیخاں میں پیدا ھوئے۔آپ کے والد گرامی علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ اپنے دور کے عظیم محدث ھو گزرے ھیں۔ان کی ذات مرقع کمالات تھی۔بیک وقت محقق ونقاد،متبحر عالم،مقرر وخطیب ،مبصر ومصنف-ان کے علمی تفوق کی بناء سعودیہ عرب کے موجودہ سربراہ شاہ سلمان حفظہ اللہ کے والد گرامی شاہ عبدالعزیز ابن سعود رحمہھااللہ نے انہیں حجاز مقدس تشریف لانے درخواست کی۔حضرت علامہ صاحب ان کی دعوت پر 1949ء میں مکہ مکرمہ چلے گئے۔اور تاحیات درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں مشغول رھے۔ان کے بارے میں لکھا گیا ھے کہ اگر ان کی تمام علمی تصانیف منظر عام پر آجائیں تو دنیا انہیں ”شیخ الاسلام الامام علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ “کے نام سے پکار اٹھے۔ علامہ صاحب اپنے جد امجد شیخ محمد ھاشم الفاروقی رحمہ اللہ کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ ”الہاشمی“اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اپنے نسبی تعلق کی بناء پر فاروقی لکھتے تھے۔ آج بھی اس خاندان کے لوگ اپنی انہی نسبتوں کی وجہ سے اپنا خاص مقام رکھتے ھیں۔مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ کے دادا ریاست بہاول پور کے عظیم عالم دین تھے اور جامعہ اسلامیہ بہاول پور میں شیخ الجامعہ کے منصب پر فائز رھے۔بہاول پور کی معروف سیاسی شخصیت علامہ رحمت اللہ ارشد مرحوم بھی ان کے تلامذہ میں شمار کیئے جاتے ھیں۔عربی اور فارسی علوم کے ماہر تھے۔اسی طرح مولانا کے پردادا علامہ محمد فاروقی رحمہ اللہ نے بہاول پور میں ایک طویل عرصہ خدمت دین کی شمع فروزاں کئے رکھی۔بعد ازاں 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران ریاستی حالات میں کافی تغیرات پیدا ھو گئے اور وہ مخادیم اوچ کی دعوت پے اوچ شہر تشریف لائے اور ”دارالسنہ“کے نام سے ایک عظیم درسگاہ قائم کی۔مگر اوچ کے گیلانی اور بخاری خانوادوں کی امیر آف بہاول پور سے محاذ آرائی کے نتیجے میں ان کی درسگاہ کافی متاثر ھوئی۔چناچہ وہ اپنی علمی درسگاہ اوچ کے نواح میں واقع ایک مقام”کوٹلہ شیخاں “منتقل کر کرگئے۔بہت عظیم مرتبے کے مالک تھےفارسی اور سرائیکی میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔۔مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ کے چوتھے دادا کا نام علامہ محمد ھاشم الفاروقی رحمہ اللہ ھے۔یہی وہ عظیم المرتبت شیخ ھیں،جن کی نسبت سے خاندان کے کچھ افراد اپنے نام کے ساتھ ”الہاشمی“لکھتے ھیں لیکن علم وتاریخ سے ناواقف لوگ چوں کہ اس”نسبت“ کو سمجھنے سے عاری ھیں۔ اس لئے وہ بسا اوقات حسد میں کچھ اور ھی گمان کر بیٹھتے ھیں۔علامہ محمد ھاشم الفاروقی رحمہ اللہ اٹھارویں صدی کے وسط میں والئی ریاست بہاول پور کی دعوت پر ملتان کی سکونت ترک کر کے بہاول پور چلے آئے۔۔اس وقت ریاست کا نام”دارالسرور بہاول پور“تھا۔بہاول پور کی اولین تاریخ پر لکھے گئے ایک قدیمی فارسی خطی نسخے میں لکھا ھے کہ امیر آف بہاول پور مرحوم نے ان کا خاص اکرام کیا۔ اور علامہ موصوف سے دینی علوم وفنون سیکھنے اور انہیں بہاول پور میں ایک علمی معہد کے اجراء کی استدعا کی۔چنانچہ اسوقت سرکاری سطح پر جو علمی درسگاہ قائم کی گئی۔۔اس کے بانیان میں علامہ محمد ھاشم فاروقی مرحوم کا بنیادی کردار ھے۔۔آگے چل کر یہ درسگاہ صادق ایجرٹن کالج کے نام سے معروف ھوئی۔بعد میں اس کی ارتقائی صورت جامعہ اسلامیہ بہاول پور(موجودہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور) کی شکل میں سامنے آئی۔افسوس تو یہ ھے کہ آج نہ صرف اھل علم بلکہ فاروقی خاندان کے لوگ اپنے اس عظیم بزرگ کی حیات وخدمات کو بھلا بیٹھے۔آج اسی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور سے ھزاروں لوگ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھ چکے ھیں۔۔خود علامہ ھاشم فاروقی رحمہ اللہ کی چوتھی نسل(احمد پور شرقیہ کا موجودہ فاروقی خاندان یعنی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی مرحوم کی سعادت مند اولاد) میں تمام افراد علم وفضل سے مالامال ھیں۔ کچھ صاحبان تعلیمی اداروں کے سربراہ ھیں۔بعض حضرات پرکشش تعلیمی مناصب سے ریٹائرڈ ھو چکے ھیں۔ لیکن ملازمت کے جھمیلوں اور کثرت کار کی بناء پر وہ اپنے خاندان کے اکابر کے احوال خود لکھ سکے نہ کسی یونیورسٹی کے طالب علم کے ذریعے مقالہ جات کی شکل میں لکھوا سکے۔رجال حدیث چوں کہ میرا لکھنے اور پڑھنے کا خاص موضوع ھے۔2003ء میں ،میں نے اس خاندان کے احوال وخدمات کو جمع کرنے کا کام شروع کیا تھا۔اس وقت میں خود چوں کہ کالج کی سطح کا طالب علم تھا۔ بعد ازاں دینی تعلیم کے لئے دینی مدارس کا رخ کیا۔والد محترم کی وفات ھو چکی تھی۔۔۔میرے مالی حالات خاصے ناگفتہ بہ تھے۔ھوم ٹیوشن پڑھا کر اپنا گزارا کر رھا تھالیکن جذبہ صادق تھا۔والدہ صاحبہ کی دعائیں بھی شامل حال تھیں۔اس دور میں اس علمی خاندان کے حالات اکھٹے کرنا میری زندگی کا سخت ترین تجربہ تھا۔پندرہ سال تک میں نے ایک طویل جدوجہد کی بلامبالغہ عرض کر رھا ھوں کہ آٹھ ھزار سے بھی زائد قدیم رسائل وجرائد اور اخبارات کا مطالعہ کیا۔متعدد عربی وفارسی کتب کو کھنگالا ۔اس معروف خاندان کے متعدد واقعات ومشاھدات اور تعلیمی وتصنیفی تحریکی حالات میرے سامنے آئے۔حیران رہ گیا۔کہ یہ خاندان حجاز مقدس سے چلا۔اور عراق آیا۔پھر خاندان کے ایک سرکردہ بزرگ الشیخ محمد علی رحمہ اللہ، فاتح سندھ محمدبن قاسم رحمہ اللہ کے ساتھ وارد سندھ ھوئے۔یہیں سے خاندان کے افراد پھر مختلف شہروں میں گئے۔جہاں گئے،علم وادب کے چراغ جلائے۔ قرآن وحدیث کے علم کو عام کیا۔ جھنگ، ملتان، بہاول پور ،اوچ اور احمد پور شرقیہ جیسے قدیم خطوں میں علمی اور تعلیمی ادارے قائم کئے۔واللہ!ایک عجب داستان ھے۔میں تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ھوں کہ جتنا میں نے اس علمی خاندان کو پڑھا ھے۔اس قدر خود فاروقی خاندان کے کسی بھی عالی قدر شخصیت نے نہیں پڑھا ھو گا۔۔۔میں نے 1781ء سے لے کر 2000ء تک کی تاریخ بہاول پور۔ملتان۔جھنگ۔ڈیرہ غازی خان۔رحیم یار خان وغیرہ کا خوب مطالعہ کیا۔ ۔۔ پھر میں نے اس موضوع پر دو وقیع کتابیں لکھنا شروع کیں۔۔ایک کا نام ھے:”شیخ الاسلام الامام علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ اور ان کا خاندان“ دوسری کتاب کا نام ھے:”تذکرہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ“ ۔اول الذکر کتاب ابھی بھی عدم وسائل کی بناء پر نامکمل ھے۔معلومات کے حصول کے لئے سفر کی اذیتیں اور زاد راہ کا ھونا کتنا ضروری ھے۔شاید اس کا اندازہ اس ”مزدور قلم“ کو ھوتا ھے جو اپنے وجود کو بیماری کی آماجگاہ ھونے کے باوجود تاریخ کا ایک قرض چکانے کی خاطر شب وروز کاوش وفکر کرتا ھے اور اسی میں ھی اپنے وجود کو ھار بیٹھتا ھے۔
ان دونوں کتابوں کی ترتیب وتدوین میں میرا ایک محتاط اندازہ ھے کہ ذاتی ایک لاکھ سے بھی زائد خرچ ھوئے ھوں گے۔مواد جمع کرتے،مسلسل سوچ وبچار،بزرگ علماء ومشائخ کے انٹرویوز،خط وکتابت کے ذریعے رابطہ،انڈیا،کویت اور سعودی اداروں سے رابطوں میں کتنی محنت کی۔کوئی اندازہ کر سکتا ھے؟صرف وھی جو اس سفر کی کٹھنائیوں سے آشنا ھیں۔۔”تذکرہ شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ“ ۔مکمل ایک کتاب ھے۔ امید ھے پانچ سو صفحات پر مشتمل ھو گی۔اس میں کل ستائیس ابواب ھیں۔جن میں مولانا کے اکابر کاتعارف۔ولادت،علاقے کا تعارف۔تعلیم وتربیت۔سیرت وکردار۔اساتذہ کا تعارف۔بطور امیر مرکزیہ خدمات۔نیز تبلیغی،تعلیمی،ملی وسماجی کارھائے نمایاں کا ذکر۔مدرسة المحمدیہ اور جامع مسجد اقصی اھل حدیث محبت پور بازار کی تاریخ۔بطور شیخ الحدیث تعارف۔تحریک ختم نبوت 1974ء اور 1984ء میں خدمات۔ملفوظات وارشادات۔مولانا مرحوم کا اجازة حدیث۔ان کی زندگی کے منور گوشے۔ایک یاد گار انٹرویو۔چند پرانی تحریریں۔مولانا کے چند خطوط۔مولانا کے خطبات۔نامور تلامذہ۔اولاد کا تعارف۔وفات حسرت آیات پر علماء امت واخبارات وجرائد کا خراج عقیدت اور ان کے یادگار نوادرات بھی اس میں پیش کئے گئے ھںیں ۔۔لیکن ایک بات دکھی دل کے ساتھ کہ رھا ھوں کہ میری اس ساری محنت کو خاندان کے کسی افراد نے سراہا نہیں۔اور جس صاحب کو بھی پتا چلا ۔تو یوں محسوس ھوا کہ یہ کتاب لکھ کر میں نے کوئی”جرم“ کیا ھے۔مجھے ایک قریبی دوست نے کہا کہ آپ مولانا مرحوم کے فلاں صاحب زادے سے کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں بات کریں۔عرض کیا:میرا یہ مزاج نہیں کہ ایک ایک کی منت کرتا رھوں۔لیکن اپنے اس بے تکلف دوست کے اصرار پر میں جا کر ان سے ملا۔مدعا پیش کیا،مسودے کو دیکھا بلکہ اپنے دوستوں کو بھی دکھایا اور پھر اچانک اٹھ کر چلے گئے۔کافی دیر انتظار کرتا رھا ۔پتا چلا وہ گاڑی میں کہیں تشریف لے گئے ھیں ،اب مجھے اس دوست پر بھی غصہ آیا۔جس کے اصرار پر گیا تھا۔خیر ایک اور موقع پر ان صاحب سے پھر ملاقات ھوئی توجہ نہ فرمانے پر اپنے دلی رنج کا اظہار کیا تو انہوں نے فرمایا:آج کتابیں کون پڑھتا ھے،آپ اس کتاب کو نیٹ پر ڈال دیں ھر کوئی پڑھ لے گا۔“
آپ اسے ایک لطیفہ سمجھیں یا۔۔۔۔“آپ کو پورا اختیار ھے۔بہر حال یہ کتاب تاحال زیور طباعت سے آراستہ نہیں ھو سکی۔میری اور کتابیں چھپی ھیں۔الحمدللہ ھمیشہ اللہ کی رضا پیش نظر رکھی ھے۔دنیاوی اعتبار سے حالاں کہ لوگ اس کام کے لاکھوں روپے وصول کرتے ھیں۔لیکن میں نے مولانافاروقی مرحوم اور ان کے خانوادہ پر جس کام کا آغاز کیا تھا،اب وہ پورے جنوبی پنجاب کی تاریخ وافکار اھل حدیث کا احاطہ کرنے تک پھیل گیا ھے۔ان شاءاللہ یہ تاریخی کام پچاس یا اس سے بھی زائد جلدوں پر مشتمل ھو گا۔ھر جلد پانچ یا چھ سو صفحات کے لگ بھگ ھو گی۔۔۔اگر گاڈ گفٹڈ لوگ مل گئے تو تین کتب اس سال منظر عام پر آجائیں گی۔ ان شاءاللہ۔۔کاش میرے پاس کچھ وسائل ھوتے تو میں نے اس کام کو چند سالوں میں ھی کر دینا تھا۔ستم گری دیکھیں کہ جن کے پاس پیسہ اور وسائل ھیں وہ دینی اور علمی کاموں خاص طور سے رجال کرام پر شائع ھونے والی کتابوں پر خرچ کرنا ثواب کا کام ھی نہیں سمجھتے؟۔مجھے ڈر ھے کہ ھمارے احباب میں یہ المیہ ابھی اور بھی بڑھے گا۔میں سترہ برس سے ایک میگزین ”تفہیم الاسلام“ چھاپ رھا ھوں۔وہ بھی شاید اب بند ھی ھو جائے گا۔مالی وسائل کے منحوس سائے اس پر منڈلا رھے ھیں۔۔ھر چیز کے ریٹ بڑھ گئے ھیں۔معاونین کو پتا نہیں کیوں اس کا ادراک نہیں ھوتا کہ یہ بھی دین اور دعوت کی خدمت ھے۔؟۔۔۔۔اور دور حاضر کی سب سے اھم ضروت۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
بات حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ کی ھو رھی تھی کہ درمیان میں کچھ جلی کٹی باتیں زبردستی اپنی جگہ بنا گئیں۔یہاں ایک اور بات یاد آ رھی ھے۔وی بھی سنتے جائیے۔
۔2015ءمیں عراق کے ایک نامور عالم،ریسرچ اسکالر الشیخ صلاح الدین حفظہ اللہ نے مجھ سے اپنے اسلام آباد کے ایک دوست کے توسط سے رابط کیا کہ وہ علامہ عبد الحق الھاشمی رحمہ اللہ کی علمی خدمات پر ڈاکٹریٹ کر رھے ھیں۔اور انہیں علامہ مرحوم کے پاکستان کے احوال چاھئیں۔اصل میں انہیں ادارہ الاعتصام لاھور سے معلوم ھوا تھا کہ میرے پاس شیخ کی کافی معلومات ھیں۔ مختصر بات یہ ھے کہ میں نے انہیں اردو اور عربی میں کچھ مواد فراھم کرنے کا وعدہ کیا اور الحمدللہ پورا بھی کیا۔۔عرض کرنے کا مقصد یہ ھے کہ ھر کوئی اس فقیر سے ھی رابطہ کرتا ھے کہ مولانا اور ان کے خاندان کے حوالے سے میں انہیں مطلع کروں۔اور مجھے یہ خدمت کر کے خوشی ھوتی ھے۔بسا اوقات اس کے تقاضے پورا کرنا بہت مشکل ھوتا ھے۔اب یونیورسٹیوں میں مولانا فاروقی رحمہ اللہ اور ان کے اسلاف کرام کی خدمات پر کام شروع ھو چکا ھے۔2009ء سے تاحال مختلف یونیورسٹیوں کے بارہ ریسرچ اسکالرز اس خاندان کی علمی خدمات کے سلسلے میں میرا انٹرویو کر چکے ھیں۔لیکن اب سچ یہی ھے کہ میں گزشتہ پانچ برسوں سے مختلف بیماریوں میں گھر چکا ھوں۔۔شوگر اور بلڈ پریشر نے انجر پنجر ھلا کر رکھ دیا ھے۔۔۔طبیعت تھک گئی ھے۔ادارہ بنانے میں سخت ناکامی کا سامنا رھا ھے۔مایوس نہیں ھوں مگر دل برداشتہ ضرور ھوں۔واقعتاً۔وہ لوگ بہت خوش قسمت ھیں جو غم روزگار سے آزاد خدمت علم وتحقیق میں مصروف ھیں۔اللہ تعالی سے بس یہی دعا کرنی چاھئے کہ اپنی رضا اور ایمان وتوحید پر موت دے۔آمین۔
یہاں مولانا فاروقی مرحوم کا ایک ملفوظ یاد آرھا ھے۔فرماتے ھیں:”مسلسل عمل کرنے کا نام ”زندگی“ھے۔کوئی نہیں جانتا،کب اس کے پاٶں تلے زمین کھینچ لی جائے۔ اس لئے لازم ھے کہ مدت مہلت ختم ھونے سے پہلے اپنی زندگی کو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھال لو۔“سبحان اللہ!کیا خوبصورت ارشاد ھے۔ ان کی ساری زندگی ایسے ھی افکار وپیغامات کی داعی رھی۔مولانا مرحوم گورنمنٹ صادق عباس ھائی سکول احمد پور پورشرقیہ میں بطور استاد ایک لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پاتے رھے۔حجاج مقدس کے متعدد سفر کئے۔سعودی شیوخ میں بھی ان کا مقام بہت اونچا تھا۔مولانا سید محمد داٶد غزنوی رحمہ اللہ نے1949ء میں مرکزی جمعیت اھل حدیث کے قیام کے وقت ان سے خصوصی مشاورت کی۔مولانا فاروقی صاحب کے ایک نامور شاگرد جناب منیر احمد خان مرحوم(اسلام آباد)کے بقول مولانا غزنوی رحمہ اللہ نے ایک مکتوب کے ذریعے علامہ عبد الحق الھاشمی رحمہ اللہ سے پاکستان میں جماعت کی تنظیم سازی کے لئے سرپرستی کے لئے کہا تو مولانا نے کہا:مولانا عبد الرزاق فاروقی پاکستان میں میرے نائب ھیں۔وہ ھر مجلس میں میری نمائندگی کریں گے“۔ مولانا فاروقی مرحوم تاحیات مرکزیہ کی شوری کمیٹی کے ممبر رھے۔۔حضرت علامہ احسان الہی ظہیر شہید اور میاں فضل حق مرحوم سے لے کر پروفیسر ساجد میر اور پروفیسر حافظ سعید حفظھمااللہ تک تمام اکابر ان کی تبلیغی اور تنظیمی خدمات کا اعتراف کرتے رھے۔مولانا مسلک اھل حدیث کا اثاثہ تو تھے ھی۔مگر وہ معتدل مزاج کے حامل ایسے عالم تھے کہ جنہیں تمام مکاتب فکر کے علماء نے میر کارواں تسلیم کیا۔ان کی زندگی کے بے شمار واقعات ایسے ھیں جن سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ کیا جا سکتا ھے۔آپ کی اولاد آج بھی ان کے مشن قوم کی اخلاقی اور دینی تعلیم وتربیت پر عمل پیرا ھے۔جناب حافظ محمد اسحاق فاروقی والد کے علمی ورثہ کو سنبھالے درس وتدریس میں مصروف ھیں۔ جناب پروفیسر محمد ابراھیم فاروقی مقامی ڈگری کالج سے بطور پرنسپل ریٹائر ھیں۔مولانا عبدالرزاق فاروقی مرحوم کے ایک اور صاحب زادہ گرامی قدر پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی انجیئنرنگ یونیورسٹی لاھور سے حال ھی میں ریٹائر ھوئے ھیں۔جناب محمد اسماعیل فاروقی مسلم پبلک ھائی سکول چلا رھے ھیں۔اس سکول کا شمار شہر کے بڑے سکولوں میں ھوتا ھے۔۔ جناب محمد سلیمان فاروقی شہر کی مقبول ترین شخصیت ھیں۔احمد پور پبلک ھائیر سیکنڈری سکول کے نام سے دو ادارے چلا رھے ھیں۔پنجاب کالج اور ایفا سکول کے کیمپس بھی ان کے پاس ھیں۔پریس کلب احمد پور شرقیہ کے صدر بھی رھے۔ مولانا کے ایک صاحبزادے جناب محمد یوسف فاروقی کا شمار شہر کے موقر سیاسی اور سماجی حلقوں میں ھوتا ھے۔سٹی کونسلر بھی ھیں۔احمد پور پبلک ھائی سکول کے پرنسپل بھی۔متعدد سرکاری کمیٹیوں میں بھی شامل رھے۔شہر کی تعمیر وترقی کے لئے ایم پی اے جناب قاضی عدنان فرید اور چیئرمین بلدیہ جناب ملک عثمان رشید بوبک کے ساتھ مل کر کام کر رھے ھیں۔مولانا فاروقی مرحوم کے سب سے چھوٹے صاحب زادے کانام جناب محمد شعیب فاروقی ھے۔سرکاری جاب سے استعفی دے کر اپنے ذاتی بزنس پر توجہ مرکوز کئے ھوئے ھیں۔۔ماشاءاللہ آسودہ حال ھیں۔مولانا کی تین بیٹیاں ھیں۔اور تینوں علم وفضل سے مالا مال۔ ایک صاحب زادی چند ماہ پہلے انتقال کر گئیں۔سکول ٹیچر تھیں۔موصوفہ جناب عبدالصمد شکرانی کی مسزتھیں۔دعا ھےکہ اللہ تعالی اس خاندان کے تمام
مرحومین کو جنت فردوس نصیب کرے اور موجودین پر اپنا مزید فضل بکھیرے۔اگر فاروقی فیملی کے افراد کی نظر سے یہ تحریر گزرے تو ان سے درخواست ھے کہ خاک سار کو بھی کبھی کبھی اپنی دعاٶں میں یاد کر لیا کریں۔جزاکم اللہ خیراً۔آمین۔

Image may contain: 1 person, beard, hat and text
No automatic alt text available.
No automatic alt text available.
Image may contain: text
No automatic alt text available.
+17

Calendar

December 2018
S S M T W T F
« Nov    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

RSS Meks Blog

  • WCUS 2018 State of the Word December 9, 2018
    Just as last year, join us for WCUS 2018 State of the Word recap and everything you were keen to know about WordPress 5.0, Gutenberg and more! The post WCUS 2018 State of the Word appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) December 6, 2018
    Pick and choose among some of the best Facebook groups for bloggers and start boosting your traffic and engagement as of today! The post 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Getting ready for WordPress 5.0 (actionable “to the point” tips & explanation) December 5, 2018
    A new major WordPress update (version 5.0) is just around the corner (or it has been released already if you are reading this post after December 6th). During the past few months, we’ve been reading different opinions and points of view regarding WP 5.0 and its upcoming post/page editor, which was available for testing as […]
    Meks
  • How to embed Vimeo videos in WordPress November 21, 2018
    Looking for a way to easily embed Vimeo videos in WordPress content? Let us show you how. The post How to embed Vimeo videos in WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? November 15, 2018
    Want to learn what is a slug in WordPress and how important it is for your blog or a website? Take a look at our detailed guide and follow these tips on optimizing it for better SEO results! The post What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? appeared first on […]
    Ivana Cirkovic
  • 16 best free Social Media plugins for WordPress November 8, 2018
    An extensive list of great free social media plugins for WordPress to easily increase your website traffic and boost your social media appearance. The post 16 best free Social Media plugins for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • The ultimate guide to MailChimp for WordPress October 31, 2018
    Want to know how to use MailChimp for WordPress? Look no more than this guide of ours, filled with all the tips and advice you need! The post The ultimate guide to MailChimp for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 3 easy ways to increase WordPress upload size limit October 24, 2018
    Looking for a way to fix the upload limit issue and increase WordPress upload size? Here are 3 ways to do it yourselves! The post 3 easy ways to increase WordPress upload size limit appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Quickly find which WordPress template file is currently being used October 19, 2018
    A simple code snippet you can use whenever you need to find out which WordPress template file is being used on the current page. The post Quickly find which WordPress template file is currently being used appeared first on Meks.
    Meks
  • 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue October 17, 2018
    What would be some of the best blog monetization tips you can implement to earn more money blogging? Here's what we advise you. The post 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat