}); ”مولاناحکیم فیض اللہ خان عزیز رحمہ اللہ“ – ابن حنبل انٹرنیشنل
میرے اسلاف

”مولاناحکیم فیض اللہ خان عزیز رحمہ اللہ“

تحریر:حمیداللہ خان عزیز۔ایڈیٹر مجلہ”تفہیم الاسلام“
Cell:03022186601
یہ بزرگ ھستی خاک سار کے داداجی مولانا فیض اللہ خان عزیز علیہ الرحمہ کی ھے۔ جو اپنے دور کے معروف روحانی،علمی،تحریکی اور سماجی شخصیت تھے۔تقریباًایک سو سال کی عمر پا کر 21-مارچ 1997ء کو کلمہ توحید کی گردان کرتے ھوئے وفات پائی۔ان کی وصیت تھی کہ نماز جنازہ ان کے پوتے اور میرے برادر کبیر الشیخ مولانا حفیظ اللہ خان عزیز حفظہ اللہ پڑھائیں۔مگر روز وفات وہ ڈی جی خان(پنجاب) گئے ھوئے تھے۔موبائل فون کا یہ سلسلہ اس دور میں کہاں؟ بروقت اطلاع نہ پہنچنے سے برادر مکرم جنازہ پر نہ پہنچ سکے۔چنانچہ ان کا نماز جنازہ مولانا حافظ محمد رفیق حفظہ اللہ(خطیب جامع مسجد عثمان غنی رضی اللہ عنہ،خوشی ٹاٶن احمد پور شرقیہ)نےبڑے رقت آمیز انداز میں پڑھایا۔اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ۔آمین۔
حضرت دادا جی مرحوم عالم دین کے ساتھ ساتھ ایک اچھے خاصے کاروباری آدمی تھے۔ان کی صابن کی فیکٹری تھی۔فیض سوپ پھول مارکہ صابن کےنام سے ان کا وسیع کاروبارتھا۔کاروبار میں اپنی امانت دیانت اور شرافت کا پیکر بن کر خوب نام کمایا۔حتی کہ ایک دور ایسا آیا کہ صابن کی ایک معروف فیکٹری(نام لکھنا مناسب نہیں) ان کے پروڈکٹ کی چلت دیکھ کر مخاصمت پر اتر آئی۔لیکن داداجی مرحوم نے ھمیشہ رواداری اور حکمت عملی سے کام کیا۔اور اللہ کے دئیے ھوئے رزق پر قناعت کی۔کاروباری حسد رکھا نہ کسی سے مخالفت۔
ان کی داستان زندگی عجیب اور منفرد حالات و واقعات کا مجموعہ ھے۔وہ انیسویں صدی کے شروع میں ایک نامور عالم وروحانی شخصیت حضرت مولانا صوفی احمد دین علیہ الرحمہ کے گھر ضلع مظفرگڑھ کے ایک مشہور قصبے دائرہ دین پناہ میں پیدا ھوئے۔خاندانی شجرہ نسب تقریباًاکتالیس واسطوں کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے جاملتا ھے۔خاندان کے بزرگ دمشق سے ہجرت کر کے عراق گئے اور وھاں سے کسی دور میں موجوہ بلوچستان کا رخ کیا۔کم وبیش ایک صدی ان کا یہاں قیام رھا۔سترھویں صدی کی ابتداء میں خاندان کے معروف رکن سردار امیر خان بلوچ مرحوم مکران کے علاقے پر اپنی عملداری قائم کرنے کے دوران بعض بلوچ قبائل سے دشمنی مول لے بیٹھے۔بعد بعدازاں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اپنے پورے رند قبیلے کو لے کر ایران منتقل ھو گئے پھر ایک دور میں یہ خاندان ڈیرہ اسماعیل خان چلا گیا ۔اٹھارویں صدی کے وسط میں پھر یہ لوگ ڈیرہ غازی خان آئے اور اس وقت والئی ریاست کی خواھش پر امور سلطنت میں بھی شامل رھے۔خاندان کے ایک نامور بزرگ پیر شفاءاللہ خان رند روحانیت کی طرف مائل ھو کر ذکر وفکر میں مشغول ھو ھوگئے۔ ان کا تونسہ شریف کے خواجگان سے خاصا تعلق رھا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ھے کہ دادا جی مرحوم موروثی طور پر ایک گدی نشین گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد مولانا صوفی احمد دین مرحوم اپنے مورث اعلی پیر شفاءاللہ خان المعروف پیر مانجھے خان کے آستانے کے گدی نشین تھے۔دائرہ دین پناہ ضلع مظفرگڑھ میں ھمارے اس بزرگ پیر صاحب کا باقاعدہ مزار کھڑا کیا گیا ھے۔دادا جی علیہ الرحمہ کی ایک روایت کے مطابق ان کے والد روائتی گدی نشینی کے نظام سے تنگ آ گئے۔۔۔وہ ہندوستان گئے۔اور بٹالہ کے معروف اھل حدیث عالم مولانا محمد حسین علیہ الرحمة سے سلسلہ تلمذ جوڑا۔اور متبع سنت ھو گئے۔اس سے قبل وہ سلسلہ قادریہ میں بیعت کرتے تھے۔اور خود بھی اس سلسلہ سے منسلک بڑے بزرگوں کے بیعت تھے۔جب صوفی صاحب کے فکر ونظر میں یہ تبدیلی آئی تو ان کی خانقاہ سے وابستہ بزرگ ان کے خلاف ھو گئے انہوں نے حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ھوئے مظفر گڑھ کے ایک علاقے خان گڑھ کی طرف ہجرت کر گئے۔لیکن کچھ ھی عرصہ میں ان کی وفات ھو گئی۔مریدین ان کے جسد خاکی ”دربار پیر صاحب“ میں دفن کرنا چاھتے تھے۔لیکن ان کی وصیت مقدم رھی کہ انہیں خان خان گڑھ کے عام قبرستان میں دفن کیا جائے۔دادا جی مرحوم کے ایک بھائی جناب عبدالرحیم خان صاحب مرحوم (لاھور)کی روایت کے مطابق صوفی صاحب کے دو لاکھ سے بھی اوپر مرید تھے جو ضلع ڈیرہ غازی خان،جھنگ ،ملتان،لاھور،ڈیرہ اسماعیل خان،مکران ،صادق آباد،دھلی،کلکتہ،جے پور،وغیرہ میں پھیلے ھوئے تھے۔ان کی خانقاہ علم وادب سے معمور رھتی۔بڑے بڑے رئیس اور نواب لوگ ان کے حلقہ مریدین میں شامل تھے۔لیکن صوفی صاحب جب ذھناًوعقیدتاً مسلک توحید وسنت کے علمبردار بن گئے تو یہ تبدیلی مسلک ان کے متعدد مریدین کی ھدایت کا بھی سبب بن گئی۔حضرت خواجہ غلام فریدمرحوم جیسے معروف بزرگ ان کے معاصرین میں شامل ھیں۔۔۔پردادا مولانا صوفی احمد دین رحمہ اللہ کی وفات کے بعد میرے دادا مولانا فیض اللہ خان علیہ الرحمة کو باقاعدہ اس کا گدی نشین بنایا گیا۔اس وقت ان کی عمر صرف پندرہ یا بیس برس تھی۔وہ چوں کہ اپنے والد کی سب سے بڑی اولاد تھے۔اس لئے اس ”منصب“ کا حق دار روایتی پیری مریدی کے نظام کے مطابق انہیں ٹھہرایا گیا۔یہ وہ دور تھا جب ھر طرف روائتی مسالک کی عملداری تھی۔توحید وسنت کی دعوت ناپید تھی۔دادا جی مرحوم بالکل نوعمر تھے۔خاندان کی جائیداد کے بے شمار مسائل ابھر کر سامنے آگئے۔۔۔۔۔۔۔۔اس ساری کہانی کو چھوڑ کر آگے چلتے جائیں۔۔۔دادا جی مرحوم نے ایک وقت میں گدی نشینی کا بوجھ سر سے اتار دیا اور مسلک محدثین قبول کر لیا۔واقعہ یہ ھے کہ وہ مناظر اسلام مبلغ اھل حدیث مولانا احمدالدین گھگھڑوی علیہ الرحمة کی دعوت سخن سے متاثر ھوئے اور پوری تحقیق وبصیرت کے بعد منہج کتاب وسنت کو اختیار کیا۔اور تاحیات اسی دعوت کے احیاء میں مصروف رھے۔اور اسی پر ان کی وفات ھوئی۔وہ رسوخ فی العلم کی خاطر ھندوستان کے دینی مدارس میں گئے۔محدث ھند مولانا عبدالوھاب دھلوی رحمہ اللہ کے آگے زانوئے تلمذ تہ کئے۔مولانا احمد الدین گھگھڑوی رحمہ اللہ سے بھی مناظرانہ اسلوب سیکھا۔ملتان کے مولانا عبدالحق محدث رحمہ اللہ سے بھی استفادہ کیا۔
دادا جی جب اپنے بزرگ کے ”دربار“ کی گدی نشینی سے دستبردار ھوئے تو انہیں سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔خاندان کے بعض لوگ ان کی جان کے درپے ھو گئے۔وہ صادق آباد(ضلع رحیم یار خان)چلے گئے۔اور لکڑی کے کام میں دلچسپی لے کر فرنیچر کا کام سیکھنا شروع کر دیا۔اورایک ماہر کاریگر کے طور پر سامنے آئے۔ان کے کام کی نفاست سے امیر آف بہاول پور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم مرحوم کے ایک قریبی فرد ازحد متاثر تھے۔ انہوں نے اس کی اطلاع امیر آف بہاول پور کو دی۔ تو انہوں نے دادا جی کے پاس سرکاری اھل کار بھیج کر باقاعدہ ملازمت کی پیشکش کی۔جسے دادا جی نے بخوشی قبول فرمالی۔وہ نوابان بہاول پور کے مرکز صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب(احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور) میں فرنیچر کے شعبہ کے نگران مقرر کئے گئے۔سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کا کام بھی کرتے رھے۔ان کی دعوت وتبلیغ پر کئی غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ھوئے۔اور بہت سوں کو راہ ھدایت نصیب ھوئی۔مرحوم دادا جی کی زندگی کا یہ انوکھا باب ھے کہ وہ کٹر مسلم لیگی تھے۔اس پلیٹ فارم پر انہوں نے سیاست بھی کی۔ملکی وغیر ملکی احوال سے باخبر رھنے کے لئے باقاعدہ اخبارات وجرائد کے قاری تھے۔”نوائے وقت“،”چٹان“ ان کے پسندیدہ اخبارات تھے۔جماعتی رسائل ھفت روزہ”اھل حدیث“،ھفت روزہ ”الاعتصام“، پندرہ روزہ” صحیفہ اھل حدیث“ کے علاوہ مولانا احمد علی لاھوری مرحوم کےجاری کردہ اخبار ھفت روزہ”خدام الدین“ وغیرہ کے ایجنسی ھولڈر رھے۔بلکہ وہ مولانا لاھوری رحمہ اللہ کے حلقہ درس میں بھی شامل ھوئے۔مولانا غلام اللہ خان مرحوم (راولپنڈی)اور علامہ احمد سعید خان ملتانی مرحوم کی توحید کے موضوع پے کی گئی تقاریر کو بے حد پسند کرتے ۔بلکہ ان کو اپنے ذاتی خرچ پر احمد پور شرقیہ بلوا کر خطابات بھی کرائے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ھے کہ انہوں نے تن تنہا احمد پور شرقیہ میں سالانہ ”اھل حدیث کانفرنس “کا اجراء کیا۔وہ ھر سال احمد پور شرقیہ کے پرانے وسیع وعریض محمود پارک میں تین روزہ جلسے کا اہتمام کرتے۔انہوں نے 1962ء،1963ء میں عظیم الشان تبلیغی جلسے منعقد کرائے۔ان کانفرنسوں میں مناظر اسلام مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی(لاھور)،مولانا اسماعیل روپڑی(لاھور)،مولانا محمد داٶد غزنوی(لاھور) مولانا اسماعیل ذبیح(راولپنڈی)،مولانا عبدالغنی شاہ(کامونکی)،مولانا عبدالحق صدیقی(ساھیوال)مولانا اسماعیل سلفی(گوجرانوالہ)،مولانا عبدالستار دھلوی (کراچی)شاعر اسلام مولانا ابراھیم خادم قصوری،مولانا علی محمد صمصام رحمہم اللہ تعالی ودیگر اکابر علماء کرام تشریف لاتے رھے۔دادا جی کی صرف تبلیغی خدمات کو جمع کیا جائے تو پوری ایک کتاب منظر عام پر آسکتی ھے۔پروفیسر حافظ محمد عبد اللہ بہاول پوری اور ۔شیخ الحدیث مولانا عبدالرزاق فاروقی رحمہ اللہ کے وہ خصوصی دست راست تھے۔مولانا فاروقی مرحوم جب عمرہ یا حج وغیرہ کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودیہ جاتے تو ان کی غیر موجودگی میں دادا جی مختلف تبلیغی وتنظیمی پروگراموں میں ان کی نیابت فرماتے۔ان کی شخصیت نہایت ھی پروقار تھی۔اصول پرست تھے۔باطل سے کبھی سمجھوتہ کرنا انہوں نے سیکھا ھی نہ تھا۔دعوت کے میدان میں کھری اور بے لاگ گفتگو فرماتے اور مخالف کو لاجواب کر دیتے۔ان انکا ذہن اخاذ اور مناظرانہ تھا۔کسی نے کیا خوب کہا ھے:
بدلا نہ میرے بعد بھی موضوع گفتگو
میں جا چکا ھوں پھر بھی تیری محفلوں میں ھوں
حضرت دادا جی مرحوم کی مجلس فضول گفتگوٶں سے یکسر پاک رھتی،گفتگو ھر قسم کے علمی موضوعات پر ھوتی۔کتابوں کو گہری تنقید کے ساتھ پڑھتے اور کتاب کے حاشیہ پر تنقیدی نوٹ بھی درج کرتے۔آپ کی صحبت میں بڑی تاثیر تھی۔آپ کے پاس بیٹھ کر آدمی دنیااور اس کی دلچسپیوں کو بھول جاتا تھا۔اللہ کی معرفت،اتباع سنت کا جذبہ اور آخرت کی طلب کا کچھ ایسا جوش ابھرتا کہ آدمی کو غفلت کی زندگی سے نفرت ھونے لگتی تھی۔
داداجی علیہ الرحمہ کی صلبی اولاد میں صرف دو بیٹے ھیں۔
1-میرے والد مکرم مولانا حکیم عبد الخالق خان عزیز رحمہ اللہ۔والد صاحب مرحوم مشرقی تہزیب وشائستگی کا مجسم نمونہ تھے۔ان ک عملی زندگی اللہ تعالی پر کامل ایمان ویقین کا پتا دیتی تھی۔وہ دین کے خادم بھی تھے۔اور ایک تاجر بھی۔ایک زمانہ تھا جب شہر میں ان کا کاروبار عروج پر تھا۔بعد میں وہ پیشہ حکمت سے منسلک ھو گئے۔ علم وعمل ،خیر وبرکت اور جودوسخا کے ماحول میں ھم نے آنکھیں کھولیں۔پرورش پائی۔ان کی شخصیت کی تعمیر وتشکیل میں خاندانی کردار اور مسلکی اقدار کا بڑاحصہ تھا۔ایک الگ پوسٹ میں ان پر ان شاءاللہ مستقل لکھوں گا۔انہوں نے 19-جنوری 2001ءمیں بوجہ شوگر و بلڈ پریشر چون برس کی عمر میں وفات پائی۔اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے۔آمین۔
2-رحمت اللہ خان شاھد حفظہ اللہ
چچا جان لاولد ھیں اور فوج سے ریٹائر۔
الحمد للہ ادارہ تفہیم الاسلام کی صورت میں حضرت دادا داداجی اور والد گرامی رحمہمااللہ کا علمی اور تبلیغی فیضان جاری وساری ھے۔میرے برادر کبیر فضیلةالشیخ مولانا ابو طلحلہ ضیاء حفیظ اللہ خان عزیز حفظہ اللہ راسخ الفکر عالم دین ھیں۔تعلیم جیسے مقدس پیشہ سے وابستہ ھیں۔سرکاری سکول میں بطور ایس ایس ٹی اپنی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ مقامی جامع مسجد العزیز حمزہ ٹاٶن میں گزشتہ تین عشروں سے خطابت کا فریضہ انجام دے رھے ھیں۔ میرے بھی استاد ومربی ھیں ۔مجلہ تفہیم الاسلام کے مدیر مسئول کا منصب بھی ان کے پاس ھے۔تحریر میں بھی انہیں خاص امتیاز حاصل ھے۔کتابوں سے گہرا شغف ھے۔۔خاندانی مطب کی وراثت بھی انھی کے پاس ھے۔برادر کبیر بہت ساری خوبیوں کے ساتھ بڑے عالی ظرف اور وسیع القلب ھیں۔ان کی مجلس کا ھر لمحہ میرے لئے بہت قیمتی ھے ۔ھماری تربیت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔الفاظ کا چناٶ۔نشست وبرخاست کا معاملہ ھو یا مطالعاتی فکر ھو،وہ علم کے موتی بکھیرتے رھتے ھیں۔ان کی زندگی روائتی علماء کی طرح قطعاًنہیں۔اللہ تعالی ان کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے۔آمین۔
دوسرے نمبر پر میں ھوں۔میں جوکچھ بھی ھوں۔اور جتنے پانی میں ھوں۔آپ سب جانتے ھیں۔من آنم کہ من دانم۔
تیسرے نمبر پر سعید اللہ خان عزیز ۔ایم فل اسکالر۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاول بہاول پور میں جاب کرتے ھیں۔بچپن سے ھی ذہین وفطین۔ماشاءاللہ۔
چوتھے نمبر پر انجینئر رشیداللہ خان عزیز۔ سعودی عرب ایک فرم میں ملازمت کرتے ھیں۔میرے لکھنے پڑھنے کے کاموں میں عملی معاونت کرنے والے ھیں۔اللہ انہیں خوش رکھے۔
پانچویں نمبر پر مولانا نوید اللہ خان عزیز۔ماشاءاللہ علم وعمل سے معمور نوجوان ھیں۔ایک پرائیویٹ کمپنی میں اکاٶنٹ آفیسر۔
چھٹے اور سب سے چھوٹےحافظ وحید اللہ خان عزیز ۔
والدہ صاحبہ کے لاڈلے۔ٹیکنیکل کالج بہاول پور میں زیر تعلیم۔
(کل میں نے فیس بک پے چند علمائے اھل حدیث کی تصاویر نشر کیں۔ان میں میرے دادا جی مرحوم اور شیخ الحدیث مولانا عبد الرزاق فاروقی مرحوم کی تصاویر بھی شامل تھیں۔احباب نے پرسنل میں بار بار اصرار کیا کہ ان حضرات کے تعارف ضرور ھی لکھ کر اپ لوڈ کئے جائیں۔چناچہ دونوں بزرگوں کے متعلق یہ چند سطور لکھ کر شائع کی گئیں۔یہ فیس بک ھے یہاں اتنا زیادہ لکھا بھی نہیں جاتا۔میں نے موبائل پر ھی ٹائپ کر کے یہ سب لکھا ھے۔اس لئے الفاظ کی کافی کمزوریاں ھوں گی۔امید ھے اھل ادب درگزر فرمائیں گے۔مولانا عبدالرزاق فاروقی صاحب پر پہلے پوسٹ کر چکا ھوں۔دادا جان مرحوم پر اب کر رھا ھوں۔اس میں خاندان کے بزرگوں کے حالات بیان کرتے ھوئے صرف اشارے ھی کیئے گئے ھیں۔اصل مضمون جو الگ سے لکھا گیا ھے۔اس میں تمام تر تفصیلات کا احاطہ کیا گیا ھے۔آپ سب کی دعاٶں کا طلب گار:حمید اللہ خان عزیز۔احمدپور شرقیہ

Image may contain: 1 person

Calendar

December 2018
S S M T W T F
« Nov    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

RSS Meks Blog

  • WCUS 2018 State of the Word December 9, 2018
    Just as last year, join us for WCUS 2018 State of the Word recap and everything you were keen to know about WordPress 5.0, Gutenberg and more! The post WCUS 2018 State of the Word appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) December 6, 2018
    Pick and choose among some of the best Facebook groups for bloggers and start boosting your traffic and engagement as of today! The post 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Getting ready for WordPress 5.0 (actionable “to the point” tips & explanation) December 5, 2018
    A new major WordPress update (version 5.0) is just around the corner (or it has been released already if you are reading this post after December 6th). During the past few months, we’ve been reading different opinions and points of view regarding WP 5.0 and its upcoming post/page editor, which was available for testing as […]
    Meks
  • How to embed Vimeo videos in WordPress November 21, 2018
    Looking for a way to easily embed Vimeo videos in WordPress content? Let us show you how. The post How to embed Vimeo videos in WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? November 15, 2018
    Want to learn what is a slug in WordPress and how important it is for your blog or a website? Take a look at our detailed guide and follow these tips on optimizing it for better SEO results! The post What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? appeared first on […]
    Ivana Cirkovic
  • 16 best free Social Media plugins for WordPress November 8, 2018
    An extensive list of great free social media plugins for WordPress to easily increase your website traffic and boost your social media appearance. The post 16 best free Social Media plugins for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • The ultimate guide to MailChimp for WordPress October 31, 2018
    Want to know how to use MailChimp for WordPress? Look no more than this guide of ours, filled with all the tips and advice you need! The post The ultimate guide to MailChimp for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 3 easy ways to increase WordPress upload size limit October 24, 2018
    Looking for a way to fix the upload limit issue and increase WordPress upload size? Here are 3 ways to do it yourselves! The post 3 easy ways to increase WordPress upload size limit appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Quickly find which WordPress template file is currently being used October 19, 2018
    A simple code snippet you can use whenever you need to find out which WordPress template file is being used on the current page. The post Quickly find which WordPress template file is currently being used appeared first on Meks.
    Meks
  • 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue October 17, 2018
    What would be some of the best blog monetization tips you can implement to earn more money blogging? Here's what we advise you. The post 5 simple yet effective blog monetization tips to increase your revenue appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat