}); ابوالمحبوب الحافظ انورشاہ راشدی حفظہ اللہ کا تعارف – ابن حنبل انٹرنیشنل
میرے اسلاف

ابوالمحبوب الحافظ انورشاہ راشدی حفظہ اللہ کا تعارف

از :محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی

ضلع مٹیاری میں مشہور شہر نیو سعید آباد کے پانچ کلو میڑ کے فاصلے پر یہ گاوں واقع ہے ۔
[پیر جھنڈا کروڑوں افراد پر مشتمل ایک شہر نہیں بلکہ بالکل چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں بمشکل تیس گھر اور تین سو افراد ہوں گے۔ سبحان اللہ ۔اتنا چھوٹا گاؤں اور اتنی بڑی تاریخ اور محدثین کی پیدائش گاہ۔ سبحان اللہ۔ شاید ایسی کوئی مثال پوری روئے زمین میں نہ ملے ۔۔آئیں ملاحظہ فرمائیں کہ اس بالکل چھوٹے سے گاوں میں کیا ہوا اور کیا ہو رہا ہے ؟؟]

علامہ سید انور شاہ راشدی بن علامہ قاسم بن محدث العصر محب اللہ شاہ راشدی
راشدی خاندان کے موجودہ محقق اور اس علمی خاندان کے حقیقی جانشین میری مراد علامہ ابوالمحبوب سید انور شاہ راشدی حفظہ اللہ ہیں ہمارے ممدوح اما م الجرح والتعدیل شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ کے پوتے ہیں ان کے متعلق چند گزارشات پیش خدمت ہیں ۔
تاریخ پیدائش :

محترم ۵ دسمبر ۱۹۸۵کو اپنے آبائی گاوں درگاہ شریف پیر جھنڈا میں پیدا ہوئے ۔
ابتدائی تعلیم :

عام معمول کے مطابق قرآن کریم اور ابتدائی تعلیم اپنے مدرسہ دارالرشاد پیر جھنڈا میں حاصل کی اور قرآن کریم حفظ بھی یہیں کیا ۔یہ وہی مدرسہ ہے جہاں سے کئی ایک محدثین نے تعلیم حاصل کی جن کے تذکرہ کے لئے ایک مستقل تاریخ کی ضرورت ہے ۔اللھم یسر لی ۔
زمانہ بچپن میں جو محترم نے دیکھا !

ہمارے ممدوح بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت بالکل چھوٹا سا بچہ تھا تقریبا پانچ یا چھ سال عمر تھی میرے دادا امجد رحمہ اللہ دن رات پڑھنے ،پڑھانے اور لکھنے میں مصروف رہتے تھے ایک دفعہ دیگر ممالک سے عربی طلباء کی ایک جماعت دادا جی کے پاس تشریف لائی اور کئی سال پڑہتے رہے دادا جی انھیں مختلف علوم وفنون کی کتب پڑھانے کے ساتھ ساتھ صحیح بخاری بھی پڑھاتے تھے اور دادا جی ان کو عربی زبان میں پڑھاتے تھے اور بالکل آہستہ آہستہ بولتے تھے طلباء جتنے مرضی سوال کرتے دادا جی ان کے جواب بڑی خوشی سے دیتے تھے ،محترم ہمارے ممدوح کہتے ہیں کہ ایک دفعہ علامہ فیض الرحمن ثوری رحمہ اللہ تشریف لائے اور اس وقت دادا جی کے پاس کئی ایک طلباء موجود تھے تو ثوری رحمہ اللہ نے انھیں مخاطب کرکے فرمایا :تم نے شیخ محب اللہ شاہ راشدی کو ضایع کر دیا ہے اور ان سے جو کام لینا چاہئے تھا وہ تم نہیں لے سکے ۔اور ہمارے ممدوح کہتے ہیں کہ اگر داد ا جی سے کام لیا جاتا تو وہ شیخ البانی رحمہ اللہ کی طرح کے بڑے بڑے کام کرتے ۔دادا جی اکیلے ہوتے تھے یا ان کے ساتھ والد محترم سید قاسم شاہ راشدی حفظہ اللہ ہوتے تھے اور ذمہ داریاں بہت زیادہ تھیں ۔ابھی ہمارے ممدوح زمانہ بچپن میں ہی تھے کہ شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ وفات پاگئے اب سار ا بوجھ والد محترم پر ہی تھا مدرسہ کی ذمہ داریاں ،مکتبہ کی نگرانی اور جماعتی احباب کے دیگر کاموں میں شریک ہونا مدرسہ درالرشاد چلاتے رہے لیکن پھر بعض وجوہات کی بنا پر صرف شعبہ حفظ ہی رکھنا پڑا اور درس نظامی کا شعبہ ختم کردیا گیا ۔

درس نظامی کی تکمیل:

درس نظامی کی تعلیم کے لئے صادق آباد حافظ ثناء اللہ زاہدی حفظہ اللہ کے جامعہ میں داخلہ لیااور پانچ سال وہاں پڑھے پھر اپنے مدرسہ دارالرشاد سے سند فراغت حاصل کی ۔والحمدللہ ۔محترم بیان کرتے ہیں کہ زمانہ طالب علمی میں مجھے زیادہ پڑھنے کا شوق نہیں تھا بس تھوڑا بہتا درسی کتب تک ہی محدود مطالعہ رہتا تھا آگے نکلنے کا کوئی شوق نہیں تھا لیکن اتنا اللہ تعالی کا فضل تھا کہ عربی عبارت پڑھنے اور سمجھنے میں کافی مہارت تھی ۔
تحقیقی ذوق کیسے پیدا ہوا؟!

محترم بیان کرتے ہیں کہ جب میں درس نظامی سے فارغ ہو کر گاوں واپس آیا تو کوئی خاص مصروفیت نہیں تھی والد محترم نے میری شادی کر دی اور ایک دن مجھے مخاطب کرکے کہا کہ پڑھنا شروع کر دو اتنی لائبریری کس کام کی کیا دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں اور تم کچھ نہیں کروگے اگر تم نے لائبریری سے فائدہ نہیں اٹھانا تو میں یہ ساری لائبریری کسی کو دے دیتا ہوں !اور کافی سمجھایا کہ راشدی خاندان میں کوئی عالم دین رہا ہمارے بعد کھڑے ہو جاو اور محنت کرنا شروع کردو ۔!!
محترم کہتے ہیں اس ڈانٹ کے بعد میں نے عزم مصمم کرلیا کہ اب ایک منٹ بھی ضایع نہیں کرنا،اور اپنے والد محترم سے کہا کہ حکم دو میں کیا کروں ؟تو والد صاحب نے کہا نماز جنازہ میں سلام ایک طرف کہنا ہے یا دونوں طرف ان روایات کو تلاش کرو اور تحقیق کرو صحیح ہیں یا ضعیف ساری بحوث دیکھو! رواۃ پر بھی تحقیق کرو اسانید کو جمع کرواور جلدی مجھے دکھاو ؟؟
محترم کہتے ہیں :کہ میں اللہ تعالی کانام لے کر لائبریری میں داخل ہوا کئی دن لگا کر احادیث کو تلاش کیا پھر ایک رواۃ کی تحقیق کرنی تھی تو ایک راوی کو تلاش کرنے میں ایک مہینہ محنت کی پھر جا کر پہلا راوی تلاش ہوا ابو جی سے ساری مشکلات بیان کیں انھوں نے سمجھایا کہ اس طریقے سے راوی تلاش کرنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔محترم کہتے ہیں کہ ایک ماہ کی محنت سے کافی کتب رجال اور کتب حدیث کا اچھا خاصہ تعارف ہوگیا اور اب رواۃ بھی ملنے لگے اور جو کام ایک ماہ میں نہ ہوا وہ چند گھنٹے میں ہونے لگا پھر میرا اوڑھنا بچھونا علم ہوگیا بس اس کے بعد اللہ تعالی نے ساری راہیں کھول دیں ۔تحقیقی مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع کردیا جو اللہ کی توفیق سے جاری ہے ۔
محترم سے راقم کا تعارف اور ملاقات!

ہمارے جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ قصور میں ششماہی امتحان کے بعد چھٹیاں تھیں ان چھٹیوں کو غنیمت جانتے ہوئے علمی سفر کا پروگرام بنا اور راقم 8فروری 2013بروز جمعۃ المبارک کو جمعہ کے خطبہ دے کر پتوکی پہنچا اور علامہ اقبال ریل گاڑی کے ذریعے پورے دو بجے سفر شروع ہوا ۔اور سفر پر سکون اور آرام دہ تھا والحمدللہ علی ذلک اور ریل گاڑی چار بج کر تیس منٹ پر نواب شاہ اسٹیشن پر رکی ۔دوران سفر محترم سید انور شاہ راشدی حسینی حفظہ اللہ کا مجھ سے مسلسل را بطہ تھا چنانچہ وہ بھی پونے پانچ کے قریب تہجد کے وقت مجھے لینے کے لئے اپنی کار پر نواب شاہ پہنچ گئے فجزاہ اللہ خیرا ۔ان سے میری پہلی ملاقات تھی ویسے پانچ ماہ سے فون پر رابطہ تھا اور اکثر بیشترتحقیقی اور تصنیفی امور پر مشاورت جاری تھی(فون پر بے شمار علمی فوائد پر تبادلہ خیال ہواوہ ایک الگ داستان ہے کبھی وہ بھی لکھی جائے گی ان شاء اللہ ) ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ علوم میں بہت پختہ اور وسیع المطالعہ اور محنتی ہیں اگرمیں نے کسی کتاب کی طرف اشارہ کیا اور ان کے پاس وہ نہیں تو اسی وقت خرید لیتے مثلا المرسل الخفی از شریف حاتم العونی ،الجامع فی الفوائد والعلل از ماہر یسین الفحل ،نثل النبال از ابواسحاق الحوینی اور معجم اسامی الرواۃ از شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہ ۔پھر خرید ی ہی نہیں بلکہ اس کو بالاستیعاب پڑھا بھی اور مطالعہ بھی عام نہیں کیا بلکہ تنقیدی نظر سے کیا اور اپنے حواشی بھی لگائے کیونکہ بعض لوگوں کو کتب خریدنے کا تو شوق ہوتا ہے لیکن مطالعہ ان کی قسمت میں نہیں ہوتا ۔ہمارے موصوف اس وصف بد سے بری ہیں والحمدللہ۔
علماٗ کرام کی نظر میں :

ابھی ان کی عمر اٹھائیس سال ہے کیونکہ ان کی تاریخ پیدائش ۵دسمبر۱۹۸۵ ہے اور جو گمان تھا اس سے کہیں زیادہ آگے پایا ۔میں اپنی بات کی تائید میں کچھ شہادتیں بھی پیش کرنا چاہتا ہوں ۔
مثلا پروفیسر مولا بخش محمدی حفظہ اللہ لکھتے ہیں : بالخصوص علامہ سید قاسم شاہ راشدی مد ظلہ تعالی اور اس کے اعلی علم حدیث و رجال کے ذوق کے مالک فرزند ارجمند محترم سید انور شاہ صاحب۔۔۔(مقدمہ فتاوی راشدیہ جلد۱صفحہ۱۳)
استاد محترم شیخ زبیر علیزئی حفظہ اللہ نے محترم سے کہا کہ اسی طرح محنت کرتے رہو اللہ تعالی تمہیں راشدی خاندان کا جان نشین بنائے گا ان شاء اللہ ۔
بلکہ شیخ انور حفظہ اللہ کے والد محترم فضیلۃ الشیخ علامہ قاسم شاہ راشدی حفظہ اللہ اپنے قابل فرزند ارجمند کے متعلق کہتے ہیں کہ میرے بیٹے کا انداز اس کے دادا جان کی مثل ہے اورلکھنے کا انداز محدثانہ ہے ۔
اسی طرح راقم نے سندھ میں بے شمار علماء سے ان کی تعریف سنی مثلا شیخ نصرا للہ حفظہ اللہ صدر مدرس مدرسہ دالرشاد پیر جھنڈانے مجھے کہا :محترم انور شاہ راشدی حفظہ اللہ ہر وقت پڑھتے رہتے ہیں اور علم رجال اور علم حدیث ان کا خاص موضوع ہے اور اس پر کافی لکھ بھی رہے ہیں ۔
شیخ منیر جمالی حفظہ اللہ ناظم اعلی مدرسہ دالرشاد پیر جھنڈا نے مجھے کہا کہ راشدی خاندان میں اب محترم انور شاہ صاحب سب سے آگے جا رہے ہیں اور وہ فن رجال و حدیث میں بہت آگے ہیں ۔
محترم شیخ خبیب احمد حفظہ اللہ نے کہا کہ محترم انور شاہ صاحب انتہائی قابل تعریف آدمی ہیں اور فن حدیث اور رجال میں بہت پختہ اور صاحب رائے ہیں ۔
شیخ عبدالقادر رحمانی سندھی مدرس شمس العلوم بدین نے مجھے کہا کہ میں شیخ کے مضامین پڑھتا رہتا ہوں ماشاء اللہ محقق انسان ہیں اور کافی محنت سے لکھتے ہیں ۔
راقم نے بھی ان میں فن حدیث ،علوم حدیث اور فن رجال میں پختگی دیکھی اور کافی وسیع المطالعہ ہیں ایک راوی کی تحقیق میں تمام کتب رجال کو کھنگالتے ہیں اور بہت زیادہ محنت کرتے ہیں ۔اس پر بے شمار مثالیں موجود ہیں آپ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ محترم اب تک کئی ایک اہم کتب فن رجال پر تالیف کر چکے ہیں مثلاتراجم شیوخ ابی عوانہ ،اسی طرح وہ رواۃ جن کے متعلق شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھے نہیں ملا تو ان کو تلاش کیا ہے اور یہ بھی ایک مستقل کتاب ہے اسی طرح اسن کے دادا امجد شیخ محب اللہ شاہ راشدی رحمہ اللہ نے بھی کئی ایک تراجم کے متعلق لکھا ہے کہ وہ مجھے نہیں ملے ان پر بھی ایک قیمتی رسالہ مکمل کر چکے ہیں والحمدللہ ۔

…………………………………

یہ حالات ۲۰ فروری ۲۰۱۳ٗ کو بندہ ناچیز نے لکھے تھے ۔۲۰۱۳ سے لے کر اب تک ہمارے موصوف بہت کام کرچکے ہیں اللہ تعالی ان کی زندگی میں برکت عطافرمائے اور ان سے دین حنیف کا زیادہ سے زیادہ کام لے ۔آمین

انورشاہ راشدی حفظہ اللہ کے بلاگز

یہ 

اور

یہ

دعا گو :

محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی

Calendar

February 2019
S S M T W T F
« Jan    
 1
2345678
9101112131415
16171819202122
232425262728  

RSS Meks Blog

  • YoastCon 2019 recap: the best and most updated SEO tips 2019 February 11, 2019
    What are some of the best SEO tips 2019 to cover? Here's what we learned in this year's YoastCon! The post YoastCon 2019 recap: the best and most updated SEO tips 2019 appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • WordPress content marketing strategy explained (plus PRO tips and tricks) February 7, 2019
    What exactly is WordPress content marketing strategy and why do you need one? #WPtips How to create and implement WordPress content marketing strategy? #contentmarketing The post WordPress content marketing strategy explained (plus PRO tips and tricks) appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 12 best brand color palette tools to make your perfect blog colors January 30, 2019
    How to define and choose the right brand color palette without the help of a designer? Is it even doable by yourselves? You’d be surprised :) The post 12 best brand color palette tools to make your perfect blog colors appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Meks’s top 10 WordPress related posts in 2018 January 22, 2019
    What were the top 10 WordPress related posts that provided the most value to you over the last year? The post Meks’s top 10 WordPress related posts in 2018 appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • List of the best WordPress directory plugins for 2019 January 17, 2019
    Here’s our list of the best WordPress directory plugins that will transform your site into full business-related online directory. The post List of the best WordPress directory plugins for 2019 appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • How to embed Google form in WordPress? January 10, 2019
    Don’t know how to embed Google form in WordPress? Read our tutorial and learn all there is to it, within minutes! The post How to embed Google form in WordPress? appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Podcast with WordPress – the ultimate 2019 tutorial January 3, 2019
    Why and how you should start a podcast with WordPress? Let us dazzle you with the most relatable business stats and convince you it’s the right thing to do The post Podcast with WordPress – the ultimate 2019 tutorial appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • WordPress 2018 year in review December 24, 2018
    Interested in WordPress 2018 year in review? Here’s our recap of some of the most important things that happened in the WordPress environment. The post WordPress 2018 year in review appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • How to easily change or reset a WordPress password? December 19, 2018
    Easy ways to reset WordPress password manually and with no trouble at all! Plus, a tip why you should change it on a regular basis! The post How to easily change or reset a WordPress password? appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 4 steps guide to create a WordPress review website December 13, 2018
    Create profitable WordPress review website in 4 easy steps! The post 4 steps guide to create a WordPress review website appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat