}); (( قصہ غرانیق کی تصحیح پر شبہ کا رد)) – ابن حنبل انٹرنیشنل
دفاع مہج محدثین

(( قصہ غرانیق کی تصحیح پر شبہ کا رد))

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

از

۰۰۰۰( أبوعبداللہ الامریکی)

فقیہ العصر امام محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ “ساری بلاؤں کی جڑ مرکب جاہل ہوتا ہے جو آپ سے بغیر علم کے مجادلہ کرتا ہے، بنا کسی علم کے کلام کرتا ہے، عام لوگوں کے درمیان بنا علم کے بولتا ہے، اور یہاں تک کہ علماء سے بھی بغیر کسی علم کے بحث ومباحثہ کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود ایک عالم ہے اور امام الائمہ ہے، لیکن جب اس سے کسی چیز پر بحث کرو تو وہ اللہ کے بندوں میں سب سے بڑا جاہل ثابت ہو تا ہے” (شرح الکافیہ الشافیہ ج ۱ ص ۱۸۲)

یہی حال آجل کے فیس بکی محدثین کا ہے جو اپنے آپ کو جرح و تعدیل کا امام باور کروانا چاہتے ہیں لیکن جہالت میں اتنے ڈوبے ہوئے ہیں کہ ایک سادا سی بات بھی ان کے سر کے کوسوں اوپر سے گزر جاتی ہے۔ ایک طرف تو یہ اپنے آپ کو خود جاہل بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں مصطلح الحدیث بھی ٹھیک طرح سے نہیں آتی اور دوسری طرف یہ علماء کی مشکل ترین مباحث کا بھی خود رد کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تحریروں سے فتنے کے علاوہ اور کچھ توقع نہیں کیا جا سکتا۔

ایک صاحب نے بڑی دلیری سے فیس پر کہا کہ دل تھام کر بیٹھو کہ اب ہماری باری ہے، یعنی ایک تو یہ خود اپنے آپ کو جاہل کہتے ہیں اور اوپر سے علماء کو اپنی جہالت سے رد کرنے کو اتنے فخر سے بتا رہے ہیں جیسے ان سے بڑا عالم کوئی نہیں۔
محدث العصر امام ناصر الدین البانی رحمہ اللہ ان جیسے شوخی باز نوجوانوں کے متعلق فرماتے ہیں: “علماء کے انداز میں بولنا طالب علم کے لئے جائز نہیں کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ریا کاری اور دکھاوا کر رہے ہیں” (سلسلہ الہدی والنور: ۱۹۱)
ہمارے محترم بھائی ودیرینہ دوست شیخ انور شاہ راشدی نے ایک پوسٹ لگائی جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ قصہ غرانیق کی المختارہ للضیاء المقدسی میں جو روایت ہے وہ شیخ زبیر علی زئی کے منہج کے مطابق بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس کے سارے راوی ثقہ ہیں اور صرف المقریء پر یہ الزام ہے کہ وہ مجھول الحال ہے۔ لیکن شیخ زبیر علی زئی کے مطابق وہ مصنفین جو اپنی کتب میں صحت کی شرط لگائیں تو ان کے نزدیک وہ روایات صحیح ہوتی ہیں جنہیں وہ اپنی کتاب میں ذکر کریں۔ جس طرح انہوں نے صحیح ابن حبان اور ابن خزیمہ وغیرہ کی احادیث سے اکثر یہ استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ فلاں راوی کی روایت کو ابن خزیمہ یا ابو عوانہ یا ابن حبان وغیرہ نے اپنی صحیح میں روایت کر کے اس کی تصحیح کی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک کم از کم ثقہ ہے۔

تو اسی طرح ضیاء المقدسی نے المختارہ میں بھی صحیح کی شرط لگائی ہے لہذا جس بھی راوی کا ذکر وہ اس میں کریں گے شیخ زبیر علی زئی کے نزدیک کم از کم وہ راوی مقدسی کے مطابق ثقہ ہو گا۔ لہذا یہ روایت ان کے نزدیک صحیح ہونی چاہئے کیونکہ اس راوی کو مقدسی نے اپنی کتاب میں ذکر کر کے اس کی ضمنی توثیق کر دی ہے۔ اس طرح جہالت حال باقی نہیں رہیگی.

لیکن اس کے برعکس اس تحریر سے الٹا مطلب نکالتے ہوئے رد کرنے والے صاحب نے کہا:
“مولانا نے فرمایا کہ قصہ غرانیق شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے منہج کے مطابق صحيح یا حسن لذاتہ ھے آپ غور کریں کس طرح ایک محدث وقت پر مولانا نے ایک ضعیف مردود جھوٹااور عصمت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منافی قصہ کی تصحیح منسوب کردی ھے جب کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ کا موقف ھے کہ یہ قصہ ضعیف ھے”

اب کیا ایسی جہالت پر شیخ ابن عثیمین کا مذکورہ قول سچ ثابت نہیں ہوتا؟ یعنی اتنے ٹھاٹھے مار کر اپنے رد کو نشر کروانے والے نے جب کلام کیا تو کیسے الٹا اس کی نری جہالت ظاہر ہو گئی۔ تحریر میں کیا کہا گیا اور یہ صاحب کیا نتیجہ نکال رہے ہیں؟ شیخ صاحب کا اپنا کلام نقل کرکے بھی حقیقت سے صرف نظرکرلیا، ان کی تحریر میں کہیں بھی اس بات کا اشارہ تک نہیں ہے کہ یہ روایت شیخ زبیر کے نزدیک صحیح ہے بلکہ صاف لفظوں میں صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ روایت ان کے “منہج” کے مطابق صحیح ہے۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شیخ نے اسے ضعیف کہا ہے، لیکن یہ ان کے منہج سے ٹکراتی ہے کیونکہ ان کے اپنے منہج کو اگر دیکھا جائے تو یہ روایت ان کے نزدیک بھی صحیح ہونی چاہیے۔ وہ اس لئے کہ جس مقدسی کے راوی کو انہوں نے مجہول کہا ہے وہ راوی کم از کم مقدسی کی شرط کے مطابق ثقہ ہے۔ جہالت حال کہاں رہیگی.(!!!)

اس کے بعدیہ صاحب مزید اپنی جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
“شیخ رحمہ اللہ کے واضح موقف کے بعد آئیے اب ہمارے برادر کے انوکھے استدلال پڑھئیے مولانا صاحب فرماتے ھیں محترم قارئين یہ روایت المختارہ سے نقل کی گئی ھے شیخ صاحب کا بھی یہی منہج ھے کہ اس میں مروی روایات صحيح ھوتی ھیں تو جب یہ راوی المختارہ میں آگیا تو مجھول الحال کیسے ھوا ؟؟؟؟؟ کیونکہ روایت کی تصحیح وتحسین روات کی توثیق کو مستلزم ھے لھذا جب یہ روایت المختارہ میں آنے کی وجہ سے صحیح یا حسن لذاتہ ھوگی تو المقرئ راوی از خود ثقہ یا صدوق ھوجائیگا حالنکہ یہ اصول ہی غلط ھے مولانا صاحب نے یہاں محض عداوت کی بناء پر یہ اصول گھڑ لیا ھے ورنہ کسی روایت کی تصحیح سے مجھول الحال راوی کیسے ثقہ ھوجاتا ھے ؟؟؟؟؟”

ما شاء اللہ۔ اس عبارت کے بعد ان کی جہالت مزید نکھر کر سامنے آ گئی کہ اس پر کوئی ادنی سا علم حدیث کا طالب بھی انکار نہیں کر سکتا، لیکن حیرت ہے تحریر نگار پر اس تحریر کو پسند کرنے والے حضرات پر جو اس جہالت پر داد دیتے نظر آتے ہیں، جن میں سے بعض کو تو لوگ شیخ تک کہتے ہیں!
یہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ اصول کہ کسی روایت کی تصحیح سے مجہول الحال راوی کی توثیق ثابت ہو جاتی ہے بالکل غلط اصول ہے، بلکہ شیخ انور صاحب کا اپنا گھڑا ہوا اصول ہے! سبحان اللہ!

حالانکہ یہ اصول عام محدثین کے نزدیک اتنا مشہور ہے کہ اس کا انکار ممکن نہیں ہے، لیکن حیرت اس پر بالکل نہیں ہے کہ انہیں محدثین کے اصول کا نہیں پتہ کیونکہ اس سے تو یہ پہلے سے جاہل تھے ہی، لیکن حیرت تو اس بات پر ہے کہ یہ ایک ایسے اصول کا انکار کر رہے ہیں بلکہ اسے انور صاحب کا گھڑا ہوا اصول تک کہہ رہے ہیں جس کا استعمال ان کے پیارے شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے زیادہ سے زیادہ کیا ہو . بلکہ اُن اُن جگہوں پر بھی انہوں نے اس اصول کا استعمال کیا ہے جہاں اس کا استعمال کرنا جائز بھی نہیں تھا۔

ان سب مثالوں کو یہاں ذکر کرنے بیٹھے تو پوری کتاب جمع ہو جائے، لیکن افسوس کہ یہ صاحب اور ان کے حواری جس شیخ کی اتنی آہیں بھرتے ہیں اسی کے متعلق اتنی بنیادی چیز سے وہ لا علم ہیں۔ ان کے لئے چند مثالیں یہاں ذکر کرتے ہیں امید ہے تھوڑے ہوش ٹھکانے آ جائیں اور آئندہ بنا علم کے منہ کھولنا کم کر دیں:

پہلی مثال:
عبد العزیز بن محمد الدراوردی کے ترجمہ میں شیخ زبیر فرماتے ہیں:
“حافظ ابن حجر نے عبد العزیز بن محمد کی بیان کردہ ایک حدیث کے بارے میں فرمایا: هذا حديث صحيح یہ حدیث صحیح ہے (نتائج الافکار: ج 3 ص 210)”

دوسری مثال:
پھر فرمایا: “عبد الحق اشبیلی نے اپنی کتاب ‘الاحکام الوسطی’ میں عبد العزیز کی روایت ذکر کی (ج1ص399) اور جرح نہیں کی جو ان کی طرف سے تصحیح ہے۔” (علمی مقالات: ص 352)

عبد الحق نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کتاب میں جو روایات وہ ذکر کریں گے وہ ان کے نزدیک صحیح ہیں، اور اس لئے ان کا اس کتاب میں صرف روایت کو ذکر کرنے پر شیخ زبیر علی زئی نے اسے روایت کی تصحیح باور کروایا ہے اور نہ صرف تصحیح بلکہ اس تصحیح سے بھی اوپر جاتے ہوئے انہوں نے اس سے عبد العزیز بن محمد کی توثیق ثابت کی ہے۔

تیسری مثال: اسی ترجمہ میں اگلے نمبر پر فرماتے ہیں: “امام دارقطنی نے عبد العزیز بن محمد (الدراوردی) کی بیان کردہ ایک روایت کے بارے میں ‘صحیح’ کہا۔ (سنن الدارقطنی: ج 1 ص 144 ح 510)”

چوتھی مثال: اسی ترجمہ میں آگے فرماتے ہیں: “امام عبد العزیز الدراوردی کی توثیق کرنے والے علماء کے نام علی الترتیب مع حوالہ نمبر درج ذیل ہیں: ابن عبد البر، ابن کثیر، ابن الملقن، ابو عوانہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بغوی، بیہقی۔۔۔۔۔۔۔ الضیاء المقدسی۔۔۔۔نووی، ہیثمی۔۔۔۔” (دیکھیں ص 353)

یہ لیں جناب اس ایک ترجمے میں ہی اتنی مثالیں مل گئی اور کہیں جانے کی کیا ضرورت؟ اب سوچیں باقی ترجموں میں کتنی اور مثالیں مل سکتی ہیں؟
اور پھر اس میں صراحتا امام ضیاء المقدسی کا نام بھی درج ہے جنہوں نے الدراوردی کی روایت کو اپنی المختارہ میں ذکر کیا جسے شیخ زبیر نے ان کی تصحیح سمجھا اور جس تصحیح سے انہوں نے الدراوردی کی توثیق ثابت کی ہے!

بلکہ ایک جگہ پر تو شیخ زبیر نے امام مقدسی کا امام احمد سے روایت لینے کو ان کی “زبردست توثیق” کہا ہے، جس کا حوالہ درج ذیل ہے۔

پانچویں مثال:
امام احمد بن حنبل کے ترجمہ میں شیخ زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “66- حافظ ضیاء الدین ابو عبد اللہ محمد بن عبد الواحد بن احمد بن عبد الرحمن المقدسی رحمہ اللہ (متوفی 643 ھ) نے اپنی مشہور کتاب ‘الاحادیث المختارہ’ میں امام احمد سے بہت سے روایتیں نقل کر کے ان کی زبردست توثیق کر دی۔۔۔” (الحدیث: )

اب اس کے بعد بھی کوئی شبہ رہ جائے تو آپ کا اللہ ہی حافظ۔ ایسے میں ان صاحب کا کہنا کہ یہ کوئی نیا اصول ہے جسے انور صاحب نے گھڑا ہے بہت بڑا بہتان اور نری جہالت ہے۔

اس سے ایک بات تو بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اصول حدیث سے یہ لوگ بالکل جاہل ہیں کہ انہیں خود بھی نہیں پتہ کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں اور ایسے میں ان کا شیخ زبیر رحمہ اللہ کا اندھا دھند دفاع کرنا اس بات کا پکا ثبوت ہے کہ یہ لوگ اندھے مقلد ہیں اور علم سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیکن مزید جہالت یہ کہ ان صاحب نے امام مقدسی کی تصحیح کو بطور حجت پیش کرنے سے یہ سمجھ لیا کہ شیخ انور المختارہ کی تمام روایات کو صحیحین کی طرح بالکل صحیح سمجھتے ہیں اور اسے انہوں نے شیخ زبیر کی طرف منسوب کیا ہے! فرماتے ہیں:

“فقرہ نمبر تین میں راشدی صاحب لکھتے ھیں
ضیاء المقدسی رواہ فی المختارہ
اب پتا نہیں اس فقرہ مولانا صاحب نے المختارہ ک مطلقا تصحیح کسیے سمجھ لی؟؟
ب حافظ ضیاء المقدسی نے ابن ابن شبویہ المروزی سے اپنی مشہور کتاب المختارہ میں حدیث بیان کی (دیکھیے المختارہ ج۱۰ص۱۷۴ح۱۷۱وسندہ صحیح
حافظ ابن حبان حافظ ضیاء المقدسی اور امام احمد بن حنبل اور جنہيں حافظ ضیاء المقدسی وحافظ ابن حبان وغرہما نے ثقہ قراردیا ھے
قارئين یہ ھے مولانا صاحب ک پیش کردہ عبارت اس میں کہیں ملتا ھے کہ المختارہ کی تمام روایات صحیح ھیں؟؟”

عبارت پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان صاحب کو رد لکھنے کی اتنی جلدی تھی کہ اپنی ہی عبارت پر نظر ثانی کرنا بھول گئے کیونکہ لفظوں کی اس کچھڑی میں معنی ڈھونڈنا ہی دشوار ہو گیا ہے۔
خیر جہاں تک سمجھ آئی ہےاس کے مطابق یہ صاحب فرما رہے ہیں کہ شیخ انور نے شیخ زبیر کی طرف یہ بات منسوب کر دی ہے کہ المختارہ کی تمام روایات صحیح ہیں۔ اور یہ بھی ان کی جہالت کا ایک واضح ثبوت ہے۔
نہ شیخ انور نے یہ بات کہیں کہی ہے اور نہ ہی انہوں نے اسے شیخ زبیر کی طرف منسوب کیا ہے، بلکہ اصل مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ اس روایت کے جس راوی کو آپ مجہول کہہ کر رد کر رہے ہیں وہ کم از کم امام مقدسی کے نزدیک تو ثقہ ہی ہے کیونکہ انہوں نے اس کی روایت کی تصحیح کی ہے۔
ضروری نہیں کہ ہم امام مقدسی کی ہر تصحیح سے اتفاق کریں لیکن ان کا دعوی تو یہی ہے کہ اس کتاب کی ساری روایات ان کے نزدیک صحیح ہیں۔
تو جب کوئی امام کسی مجہول راوی کی روایت کی تصحیح کر دے تو اس کا جہل زائل ہو گیا اور اب وہ مجہول نہ رہا۔ اور اس کی مثالیں ہم اوپر شیخ زبیر سے بھی دے چکے ہیں کہ ان کے نزدیک بھی امام مقدسی یا کوئی بھی امام کسی روایت کی تصحیح کرے تو یہ ان کی طرف سے تمام راویوں کی توثیق ہوتی ہے۔ اور اس کی مثالیں شیخ زبیر کی کتب میں بھری پڑی ہیں۔
لیکن ان عقل کے دشمن صاحب نے یہ سمجھ لیا کہ شیخ انور المختارہ کی ساری روایات کی تصحیح کر رہے ہیں۔ جہالت کی حد پر ہوتے ہوئے بھی کوئی علماء کا رد لکھنے کی جرات کرے تو اس کی عقل کی داد دینے پڑے گی۔

موصوف فرماتے ہیں:
“اسکے برعکس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کا موقف ھے کہ صحیحین کے علاوہ کسی بھی کتاب کی مطلقا تصحیح نہیں کی جاسکتی “

اللہ کے بندے آپ خود فرما رہے ہیں کہ یہ شیخ زبیر کا موقف ہے کہ صحیحین کی روایات صحیح ہیں۔ لیکن یہاں کسی دوسرے فرد کی بات نہیں ہو رہی بلکہ خود مصنف کے منہج کی بات ہو رہی ہے!
کیا امام بخاری اور امام مسلم کے نزدیک بھی ان کی کتاب میں ضعیف روایات موجود ہیں؟ نہیں کیونکہ یہ شرط انہوں نے خود لگائی ہے کہ اس کتاب میں ساری روایات ان کے نزدیک صحیح ہیں۔ تو اس کتاب کی روایات کی تصحیح انہوں نے اپنی طرف سے کر دی ہے باقی دوسرا جو مرضی سوچے وہ اس کا اپنا عمل ہے لیکن کم از کم اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بخاری ومسلم کے اپنے نزدیک تو کم از کم یہ روایتیں صحیح ہیں۔
اسی طرح امام مقدسی نے بھی المختارہ میں یہ شرط لگائی ہے کہ اس کتاب کی ساری روایات ان کے نزدیک صحیح ہیں، تو کوئی دوسرا شخص ان سے جیسا مرضی اختلاف رکھے لیکن کم از کم اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس کتاب کی ساری روایات امام مقدسی کے نزدیک تو صحیح ہیں۔
تو اگر انہوں نے اس روایت کی تصحیح کر دی اس کا مطلب ہے اس روایت کے تمام راوی ان کے نزدیک ثقہ ہیں۔ اور کسی مجہول راوی کی توثیق کوئی ایک ثقہ امام بھی کر دے تو وہ مجہول نہ رہا۔
اسی بات کو شیخ زبیر نے اپنایا ہے اور اسی بات کو شیخ انور نے ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
اتنی سی بات بھی آپ کے پلے نہیں تو پہلے اپنے ہی علماء سے تھوڑا سبق پڑھ لیں پھر کوئی بات کریں۔

آگے فرماتے ہیں:
“اسی اصول کو مدنظر رکھتے ھوئے دیکھا جائے تو شیخ رحمہ اللہ کے نزدیک قصہ غرانیق جھوٹا اور محمد بن علی المقرئ مجھول الحال ھے کیونکہ محدثین کا اس قصہ کے جھوٹا ھونے اور المقرئ مجھول الحال ھونے پر اتفاق “

یہ ایک انوکھی بات سننے میں آئی کہ جہالت پر بھی اتفاق ہوتا ہے، ابتسامہ
جبکہ جہالت تو کسی شخص کی لا علمی یا کسی راوی پر کسی امام کے عدم کلام کو کہتے ہیں۔ تو اگر کوئی شخص لا علم ہے کسی راوی کے بارے میں لیکن ایک دوسرا شخص اسے جانتا ہے تو کیا آپ یہ کہیں گے کہ اس دوسرے شخص کے علم پر کوئی بھروسہ نہیں کیونکہ اس پر لوگوں کا لا علم ہونے پر اتفاق ہے؟
کیا آپ نے اللہ کا فرمان نہیں پڑھا کہ: بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ (الزمر: ۹)
اگر اللہ کے فرمان سے تسلی نہ ہو (نعوذ باللہ) توشیخ زبیررحمہ اللہ کاقول نقل کردیتے ہیں، شیخ زبیر فرماتے ہیں:
“رہا مجہول الحال یا مستور قرار دینا تو یہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب راوی کی توثیق سرے سے موجود نہ ہو (یا نا قابل اعتماد ہو) “ (علمی مقالات ج ۵ ص ۲۲۷)
مزید فرماتے ہیں: “غور کریں ابو عصمہ سے چند راویوں نے روایت بیان کی اور کسی ایک مستند محدث یا عالم نے اس کی صریح یا غیر صریح توثیق نہیں کی” (ایضا: ص ۲۲۹)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مجہول کی جہالت دور کرنے کے لئے ایک مستند امام کی صریح یا غیر صریح توثیق بھی کافی ہے۔ اور یہی منہج محدثین کا بھی ہے۔
لہذا جب المقریء کی توثیق سامنے آ گئی تو اس کی جہالت بھی رفع ہو گئی۔

اس بحث سے واضح ہوتا ہے کہ صاحب تحریر میں کتنی جہالت بھری پڑی ہے اور پھر بھی وہ ایسے شوشوں سے مشکل مباحث حدیثیہ میں اپنا مذاق بناتے ہیں۔ ان سے گذارش ہے کہ ان مباحث میں پڑنے سے پہلے اور دوسروں پر الزام تراشی کرنے سے پہلے بنیادی اصول حدیث ہی سیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔
امید ہے بات سمجھ آ گئی ہو گی۔
اللہ ہم سب کو علم اور ہدایت کی توفیق دے ، آمین۔

Calendar

December 2018
S S M T W T F
« Nov    
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
293031  

RSS Meks Blog

  • 4 steps guide to create a WordPress review website December 13, 2018
    Create profitable WordPress review website in 4 easy steps! The post 4 steps guide to create a WordPress review website appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • WCUS 2018 State of the Word December 9, 2018
    Just as last year, join us for WCUS 2018 State of the Word recap and everything you were keen to know about WordPress 5.0, Gutenberg and more! The post WCUS 2018 State of the Word appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) December 6, 2018
    Pick and choose among some of the best Facebook groups for bloggers and start boosting your traffic and engagement as of today! The post 10+ best Facebook groups for bloggers (you may never heard of) appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Getting ready for WordPress 5.0 (actionable “to the point” tips & explanation) December 5, 2018
    A new major WordPress update (version 5.0) is just around the corner (or it has been released already if you are reading this post after December 6th). During the past few months, we’ve been reading different opinions and points of view regarding WP 5.0 and its upcoming post/page editor, which was available for testing as […]
    Meks
  • How to embed Vimeo videos in WordPress November 21, 2018
    Looking for a way to easily embed Vimeo videos in WordPress content? Let us show you how. The post How to embed Vimeo videos in WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? November 15, 2018
    Want to learn what is a slug in WordPress and how important it is for your blog or a website? Take a look at our detailed guide and follow these tips on optimizing it for better SEO results! The post What is a slug in WordPress (and bad practices you should avoid)? appeared first on […]
    Ivana Cirkovic
  • 16 best free Social Media plugins for WordPress November 8, 2018
    An extensive list of great free social media plugins for WordPress to easily increase your website traffic and boost your social media appearance. The post 16 best free Social Media plugins for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • The ultimate guide to MailChimp for WordPress October 31, 2018
    Want to know how to use MailChimp for WordPress? Look no more than this guide of ours, filled with all the tips and advice you need! The post The ultimate guide to MailChimp for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 3 easy ways to increase WordPress upload size limit October 24, 2018
    Looking for a way to fix the upload limit issue and increase WordPress upload size? Here are 3 ways to do it yourselves! The post 3 easy ways to increase WordPress upload size limit appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Quickly find which WordPress template file is currently being used October 19, 2018
    A simple code snippet you can use whenever you need to find out which WordPress template file is being used on the current page. The post Quickly find which WordPress template file is currently being used appeared first on Meks.
    Meks

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat