}); سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں – ابن حنبل انٹرنیشنل
مقالات

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں

أبو ھریرۃ في ضوء مرویاتہ تالیف :فضیلۃ الشیخ المحدث الدکتور محمد عبداللہ اعظمی حفظہ اللہ مدرس مسجد نبوی طبع اول: دار الکتاب المصری، القاہرۃ ۱۹۷۹م۔طبع دوم: مکتبۃ الغرباء الأثریۃ، المدینۃ المنورۃ ۱۴۱۸ھ۔تبصرہ نگار: عبدالحلیم بسم اللہ متعلم مدینہ یونیورسٹی ،مدینہ منورہ
صحابی ٔ جلیل حضرت ابو ہریرہؓ پر مستشرقین نے بے شمار اعتراضات کیے ہیں، اور رواۃِ حدیث میں سب سے زیادہ انہیں کی حدیثوں کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ چنانچہ مؤلف نے اس موضوع کو اپنی ’’ماسٹر‘‘ کی ڈگری کے مقالے کے لیے منتخب کیا، اور صحاحِ ستہ اور مسند احمد میں موجود اُن کی ساری حدیثوں کو جمع کرکے دوسرے صحابہ کی حدیثوں سے مقارنہ کیا، اور آخر میں اس نتیجے پر پہنچے کہ اکثر وبیشتر حدیثوں میں دوسرے صحابہ نے ان کی موافقت کی ہے، اور جن حدیثوں میں حضرت ابو ہریرہؓ منفرد ہیں ان کی تعداد بہت کم ہے۔علماء وطلبہ میں جو یہ بات مشہور ومتداول ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد ۵۳۷۴ ہے اس سے مراد مختلف اسانید ہیں، نہ کہ خالص متونِ حدیث، اور متونِ حدیث کی تعداد کسی بھی صورت میں دو ہزار سے زیادہ نہیں پہنچتی۔ اب اگر حضرت ابو ہریرہؓ کی زندگی کے ایام، جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گزارے، اُن پر یہ حدیثیں تقسیم کی جائیں تو روزانہ دو حدیث سے زیادہ نہیں بنتی، کیونکہ آپؓ نے غزوۂ خیبر میں اسلام قبول کیا جو کہ ۷ھ میں واقع ہوا، اور غزوۂ خیبر سے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے ایام تقریباً ایک ہزار ہیں۔ اس نتیجے نے علماء وطلبہ کے درمیان زبردست انقلاب برپا کر دیا، اور اُن سارے اعتراضات کا ازالہ ہو گیا جو حضرت ابوہریرہؓ پر لگائے جاتے تھے، کیونکہ حضرت ابوہریرہؓ دن رات نبی ﷺ کی خدمت میں لگے رہتے تھے، اس لیے ان کا یومیہ دو حدیثیں حفظ کرنا قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ مؤلف کا ماسٹر کا رسالہ (Thesis) تقریباً ۸۰۰ صفحات پر مشتمل تھا، اس کا مختصر نمونہ دو تین بار شائع ہو چکا ہے۔اب میں ڈاکٹر صاحب کی زبانی اس کتاب سے متعلق بعض مزید امور کی وضاحت کر دیتا ہوں۔یہ ۱۳۹۳ھ کی بات ہے، اُس وقت جامعۃ الملک عبدالعزیز کے مدیر ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی تھے، جو بعد میں سعودی عرب میں وزیرِ ثقافہ بھی متعین کیے گئے۔ انہوں نے بطورِ خاص اس رسالے (Thesis) کی ایک کاپی طلب کی، اور مطالعے کے بعد اس رسالے کے نتائج کی روشنی میں ایک گراں قدر مقالہ تحریر فرمایا جو ’’مجلۃ الیمامۃ‘‘ میں شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ’’عفوا یا أبا ھریرۃ‘‘ یعنی ابوہریرہ ہمیں معاف کر دیں کہ ہم کثرتِ روایات کی وجہ سے آپ پر خواہ مخواہ اعتراض کرتے چلے آئے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اور حضرت ابوہریرہ کے روایت کردہ حدیثوں کی تعداد ۲۰۰۰ سے زیادہ نہیں ہے، جیسا کہ اِس طالب علم نے اپنے اس Thesis میں مختلف ٹھوس دلیلوں سے ثابت کیا ہے۔ اور پھر اسی نتیجے کی روشنی میں ’’أبو ہریرۃ‘‘ کے نام سے ایک مستقل کتاب تصنیف کی، جو علمی حلقوں میں کافی مقبول ہوئی۔ بعض اُردو داں حضرات نے اِس نتیجے کو غلطی سے ڈاکٹر محمد عبدہ یمانی کی طرف منسوب کر دیا ہے۔اب میں اساتذۂ حدیث سے درخواست کرتا ہوں کہ جب وہ مصطلح الحدیث کی کتاب پڑھائیںاور حضرت ابوہریرہؓ کی روایت کردہ حدیثوں کا تذکرہ آئے تو طلبہ پر ضرور واضح کر دیں کہ یہ عدد (۵۳۷۴) سندوں کے اعتبار سے ہے، متن کے اعتبار سے نہیں، تاکہ وہ منکرینِ حدیث کا جواب دے سکیں۔اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کی بھی وضاحت کر دیں کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد (۵۳۷۴) کا اصل مصدر حافظ ابن حزم (ت ۴۵۶ھ) کی کتاب ’’جوامع السیرۃ‘‘ ہے جس میں انہوں نے ہر ہر صحابی ٔرسول کی روایت کردہ حدیثوں کی تعداد کو بیان کیا ہے، جسے انہوں نے اندلس کے محدث حافظ بقی بن مخلد (۲۷۶ھ) کے مسند (جو اَب تک مفقود ہے) سے اخذ کیا ہے، اور اس مسند میں حضرت ابوہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد ۵۳۷۴ ہے۔ حافظ ابن حزم نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ اگر کسی کو اور حدیثیں ملیں تو اس میں اضافہ کر لیں۔ پھر اسی تعداد کو حافظ ابن الجوزی (۵۹۷ھ) نے اپنی کتاب ’’تلقیح فھوم أھل الأثر‘‘ میں ذکر کیا ہے، اور پھر بعد میں آنے والے تمام علماء تواتر کے ساتھ اسی تعداد کو ذکر کرتے چلے آرہے ہیں، لیکن کسی نے یہ خیال نہیں کیا کہ حافظ بقی بن مخلد کی کتاب میں جو عدد بیان کی گئی ہے وہ سندوں کے اعتبار سے ہے، کیونکہ اس زمانے کے رواج کے مطابق جتنی سندیں مل جاتی تھیں سب کو جمع کر دیا جاتا تھا، اس طرح ایک حدیث کی ایک سے زیادہ سندیں ہو جاتی تھیں، اور ہر سند کو حدیث شمار کیا جاتا تھا۔ اسی کے ساتھ ایک اور نکتہ جو اکثر لوگوں سے مخفی ہے وہ یہ کہ بقی بن مخلد نے ہر صحابی ٔ رسول کی حدیثوں کو فقہی ابواب پر مرتب کیا ہے، اس طرح باب کی مناسبت سے ایک حدیث متعدد ابواب میں آگئی، جس طرح امام بخاری نے ایک ہی حدیث کو کبھی ایک اور کبھی متعدد سندوں سے مختلف ابواب میں ذکر کیا ہے۔اس مسئلے کی وضاحت کے لیے امام احمد کی مسند کو لے لیں، اس میں حضرت ابوہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد ۳۸۳۳ ہے، اور جب مکرراسانید کو حذف کر دیا گیا اور صرف متنِ حدیث کی گنتی کی گئی تو نہ صرف مسند احمد بلکہ اس کے ساتھ صحاحِ ستہ کو بھی جمع کرنے کے باوجود ان کی تعداد ۱۵۰۰ سے زیادہ نہیں ہوئی۔ اسی طرح ’’المسند الجامع‘‘ جسے ڈاکٹر بشار عواد اور ان کے رفقاء نے جمع کیا ہے، جو حدیث کی ۲۱ مسند کتابوں (صحاحِ ستہ، مسند احمد، موطا مالک، مسند حمیدی، مسند عبد بن حمید، سنن دارمی، الادب المفرد، رفع الیدین، جزء القراء ۃ خلف الامام، خلق افعال العباد، شمائل ترمذی، زوائد عبداللہ بن احمد علی المسند، عمل الیوم واللیۃ، فضائل القرآن، فضائل الصحابہ للنسائی، صحیح ابن خزیمہ) پر مشتمل ہے، اس ’’المسند الجامع‘‘ میں حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیثوں کی تعداد بلا تکرار صرف ۱۵۸۰ تک پہنچتی ہے۔اب اگر آپ دوسری کتابوں کی حدیثوں کو اس میں اضافہ کر دیں تو ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ ۲۰۰۰ تک پہنچے گی، جیسا کہ اس سے پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔اس سلسلے میں مزید دو نکتوں کی وضاحت انتہائی مفید ہوگی:۱۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جن حدیثوں کی روایت کی ہے اکثر وبیشتر حدیثوں میں دیگر صحابۂ کرام نے ان کی موافقت کی ہے، لہٰذا حضرت ابو ہریرہؓ پر اعتراض کرنا درست نہ ہوگا۔۲۔ جن حدیثوں کی روایت میں حضرت ابو ہریرہؓ منفرد ہیں وہ حدیثیں حلال وحرام، احکام اور عبادات کے قبیل سے نہیں ہیں، بلکہ اکثر ترغیب وترہیب اور اذکار وآداب وغیرہ سے متعلق ہیں۔یہ موضوع نہایت ہی دقیق اور مشکل تھا، جسے مؤلف نے اپنی ماسٹر کی ڈگری کے لیے منتخب کیا تھا۔ موضوع کی حساسیت کا اندازہ محدثِ شام شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کے اس جملے سے بخوبی ہوتا ہے جو آپ نے مؤلف سے اس رسالے کی تیاری کے وقت کہا تھا، آپ نے فرمایا: ’’لقد دخلت في بحر لا ساحل لہ‘‘، ’’تم ایسے سمندر میں داخل ہو گئے ہو جس کا کوئی ساحل ہی نہیں ہے۔‘‘ اس عظیم موضوع پر ریسرچ کی وجہ سے وہ مؤلف سے بہت محبت کرتے تھے اور انہیں ’’یا صاحب أبي ھریرۃ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ان واقعات کی تفصیل مؤلف کے مشفق استاد محترم جناب حافظ حفیظ الرحمن عمری مدنی نے ’’دراسات في الجرح والتعدیل‘‘ کے مقدمے میں تحریر فرمائی ہے جو جامعہ سلفیہ بنارس سے ۱۹۸۳م میں شائع ہوئی۔

Calendar

April 2019
S S M T W T F
« Mar    
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
27282930  

RSS Meks Blog

  • 6+ video marketing tips to improve your vlogging [2019 edition] April 17, 2019
    Wondering what would be some of the best video marketing tips that can help you step up your vlogging game? We’ve got you covered! The post 6+ video marketing tips to improve your vlogging [2019 edition] appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • 18 top Google Chrome extensions for WordPress April 10, 2019
    Looking for the most useful WordPress Chrome extensions to make your site more functional and engaging? Take a look at our list of top Chrome addons to use! The post 18 top Google Chrome extensions for WordPress appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What’s the best WordPress quiz plugin to use? April 4, 2019
    Are you looking for the best WordPress quiz plugin? Here are our top choices for you to try out! The post What’s the best WordPress quiz plugin to use? appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • WordPress 5 (Gutenberg) block editor keyboard shortcuts March 27, 2019
    In search of the Gutenberg keyboard shortcuts to ease your work? Here's the list of all the most up-to-date ones to make you more productive. The post WordPress 5 (Gutenberg) block editor keyboard shortcuts appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • Top WordPress bloggers to follow and learn from in 2019 March 20, 2019
    Looking for some of the top WordPress bloggers to learn from? These are the people that bring and share valuable information for the evergrowing community. The post Top WordPress bloggers to follow and learn from in 2019 appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • What to blog about? 17 ways to come up with the new content March 13, 2019
    Every now and then, trying to figure out what to blog about can be a bit of a struggle. Luckily, we came up with the list of topics and way to collect them, so, grab a cup of coffee and enjoy this reading! The post What to blog about? 17 ways to come up with […]
    Ivana Cirkovic
  • The best WordPress live chat plugins to use – 2019 edition March 7, 2019
    Looking for WordPress chat plugin to improve your site performance and UI? Here are the ones we recommend. The post The best WordPress live chat plugins to use – 2019 edition appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • How to embed PDF in WordPress + 7 free plugins to choose from February 27, 2019
    Wondering how to embed PDF in WordPress and which plugin to use? These are our recommendation, pick and choose the one that best suits your needs. The post How to embed PDF in WordPress + 7 free plugins to choose from appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • The top 8 WordPress Project Management plugins February 18, 2019
    What would be some of the best WordPress project management plugins you can use to track your progress? The post The top 8 WordPress Project Management plugins appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic
  • YoastCon 2019 recap: the best and most updated SEO tips 2019 February 11, 2019
    What are some of the best SEO tips 2019 to cover? Here's what we learned in this year's YoastCon! The post YoastCon 2019 recap: the best and most updated SEO tips 2019 appeared first on Meks.
    Ivana Cirkovic

Text

Distinctively utilize long-term high-impact total linkage whereas high-payoff experiences. Appropriately communicate 24/365.

تعاون کریں

سارے کام اللہ تعالی کی توفیق و نصرت سے ہی ہوتے ہیں الحمدللہ اخلاص سے بنائے ہوئے تمام منصوبے اللہ تعالی مکمل کرتے ہیں ۔آپ بھی صدقات ،خیرات اور اپنے مال کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کریں ۔جامعہ کے ساتھ تعاون بھیجنے کے لیے درج ذیل طریقے اختیار کرنا ممکن ہیں

تعاون بذریعہ موبی کیش ۔اکاونٹ03024056187
تعاون بذریعہ ایزی پیسہ 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
تعاون بذریعہ پے پال کریڈٹ کارڈز ہولڈرز، بیرون ملک مقیم اور پے پال اکاؤنٹ رکھنے والے حضرات اب پے پال کے ذریعے سے بھی ہمیں ڈونیشن بھیج سکتے ہیں۔ https:paypal.me/hahmad674
تعاون بذریعہ ویسٹرن یونین: محمدابراہیم بن بشیر احمد 03024056187۔شناختی کارڈ:3510229087223
’’مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِ‌ضُ اللَّهَ قَرْ‌ضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَ‌ةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْ‌جَعُونَ‘
“ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے “

مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَموَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنبُلَةٍ۬ مِّاْئَةُ حَبَّة وَٱللَّهُ يُضَعِفُ لِمَن يَشَآءُ‌ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ ( سُوۡرَةُ البَقَرَة۔٢٦١ )
’’ جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں ڈرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سَو دانے ہوں۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتے ہیں، افزونی عطا فرماتے ہیں۔اور الله تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں، جاننے والے ہیں۔ ‘‘

WhatsApp chat