جامعہ امام محمد بن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ میں میرے آٹھ سال

۲۰۱۳ کی لکھی ہوئی ایک تحریر
جامعہ امام محمدبن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ ،تحصیل چونیاں ضلع قصور میں میرے آٹھ سال:
ازمحمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
میری زندگی کی سنہری یادیں اس جامعہ کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ابھی میں مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ محترم قاری ادریس ثاقب حفظہ اللہ نے کافی محنت کرکے استاد محترم حافظ محمد شریف حفظہ اللہ سے میرے اپنے مدرسے میں تدریس کے لیے منتخب کروا لیا تھا ۔فارغ ہوتے ہی قاری صاحب نے اپنے بھائی رئیس احمد مرکز التربیۃ الاسلامیہ بھیجا وہ میری تمام کتب لے آئے ۔ہمارے اس مدرسے میں چند تقریبا دو ہفتے سےشعبہ حفظ کی کلاس جاری تھی جو ضیاٗ السنہ راجہ جھنگ سے قاری صاحب کےساتھ منتقل ہوئی ۔ان کے سالانہ امتحان کی غرض سے مجھے قاری صاحب نے بلایا ۔
پھر رمضان کے فورابعد قاری صاحب چوہدری مقبول محسن گجر صاحب کے ساتھ میرے گاؤں پہنچے اور مجھے میرے سازو سامان سمیت لےآئے ۔
ان دنوں گندھیاں اوتاڑ میں مناظرے کی فضا پیدا ہو چکی تھی لیکن ہم مناظرے کے حق میں نہیں تھے احتیاطا ہم نے یحیی عارفی صاحب وغیرہ کو بلا لیا تھا لیکن الحمدللہ مناظرہ نہ ہوا ۔
رمضان کے بعد اعلان داخلہ کا اشتہار شائع کیا جس کی وجہ سے تقریبا دس طلبہ درس نظامی کی کلاس میں داخل ہوئے ان میں سے اکثر ضیاٗ السنہ راجہ جھنگ سے آئے ہوئےشعبہ حفظہ کے طلبہ ہی تھے جو حفظ قرآن مکمل کرچکے تھے ۔در س نظامی کی اس جامعہ میں پہلی کلاس تھی اور میں اکیلا استاد تھا ،درس نظامی اور سکول کے تمام اسباق میرے ذمے تھے ،سیر و تفریح میں بھی طلبہ کے ساتھ جاتا ،طبیعت میں نرمی ہے اس سے طلبہ بہت مانوس ہوئے اور ماشاٗ اللہ جو بھی طالب علم آتا اس کا فورا دل لگ جاتا۔
پہلی کلاس کے طلبہ درج ذیل تھے :حافظ محمد احمد آف بھوئے آصل ،حافظ ثناٗ اللہ آف ہری ہر ،حافظ محمد وسیم آف بھیڈیاں ،حافظ ثناٗ اللہ جٹ آف جٹاں والی حویلی ،حافظ یوسف آف جٹاں والی حویلی ،حافظ عباس آف راجہ جھنگ وغیرہ
اسی طرح حفظ کی کلاس میں تقریبا پندرہ طلبہ تھے اس کلاس کے استاد قاری اقبال عاصم آف کوٹلی رائے ابو بکر تھے ۔
اس وقت بلڈنگ صرف بیسمنٹ تھی ۔ یہ بھی ابھی تازہ تعمیر ہوئی تھی ۔
الحمدللہ دل لگا کر کمال محنت سے ادارے کی تعمیر وترقی کے لیے کام کیا دوسرے سال درس نظامی کے لیے شیخ عبدالروف بن شیخ خالدن آف ۱۸ چک کو بھی رکھ لیا وہ روزانہ پڑھا کر چلے جاتے ،وہ اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں خطیب و امام تھے اور ساتھ مطب بھی تھا ۔
تیسرے سال میں ہم نے شیخ عبداللہ یوسف رنگ پوری حفظہ اللہ کو جامعہ میں لائے ۔اور جزوی رات کو شیخ تنویر صاحب آف منڈی واربرٹن کو تدریس کا موقع دیا ۔تیسرے سال کے درمیان میں حافظ ابو یحیی نورپوری حفظہ اللہ کو جامعہ میں استاد رکھا دو سال پڑھا کر انھوں نے بوجوہ چھوڑ دیا ۔
چوتھے سال کے شروع میں ہماری بات فضیلۃ الشیخ محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ سے ہوئی جو اس وقت قبا اکیڈمی سرگودھا میں مدرس تھے ۔ان کواپنے جامعہ میں تدریس کی دعوت دی تو انھوں نےہماری بات قبول کی اور اپنےساتھ شیخ اقبال قصور ی صاحب اور سات طلبہ کو بھی لے آئے جنھوں نے ابھی چوتھی کلاس کا امتحان دیا تھا، یہ ہماری پانچویں کلاس تھی اس کلاس کو ہم تحفہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالی نے یہ طلبہ ہمیں تحفہ دیے ہیں ان میں سےعبدالمنان صدیقی ،ابو حنظلہ مالک داد،وقاص شاہین ،قمر گجر ،صغیر وغیرہ تھے ۔
ان طلبہ نے صحیح مسلم پڑھنی تھی ،جامعہ کی سالانہ پہلی میٹنگ میں صحیح مسلم ،ہدایہ ،ضوابط الجرح والتعدیل اور دیوان حماسہ کی تدریس میرے حصے میں آئی ۔میں نے کافی زور لگایا کہ مجھے اس سال سنن الترمذی پڑھانی ہے کیو نکہ پہلے سال نخبۃ الصحیحین دوسرے سال بلوغ المرام ،تیسرےسال مشکوۃ المصابیح اور چوتھے سال سنن الترمذی کی باری آتی ہے لیکن مدیر الجامعہ محترم قاری ادریس ثاقب صاحب نے کہا کہ صحیح مسلم آپ نے ہی پڑھانی ہے پھر مجھے خاموش ہونا پڑھا۔
ابھی میری تدریس تجربہ کو چوتھا سال شروع ہوا تھا کہ مجھے صحیح مسلم جیسی بڑی کتاب سونپی ہے ایک دفعہ تو میں پریشان ہوا پھر استخارہ کیا دعا کیا اور اپنے کبار مشائخ سے رابطہ کیا مشورہ کیا انہوں نے میرے بوجھ کو ہلکا کر دیا ،شرح صدر نصیب ہوئی۔رات کو صحیح مسلم کا مطالعہ کرنا شروع کردیا اور جوبھی کتاب میں نے پڑھائی دوران مطالعہ اس کے متعلق فوائد جمع کرتا رہتا ہوں ۔اسی طرح رجسٹر پکڑا اور صحیح مسلم پر فوائد جمع کرنا شروع کردیے ،اسی طرح ہدایہ وغیرہ کی بھی تیار کرنا شروع کرد ی ۔مجھے چونکہ کتب لکھنے کا شوق جامعہ رحمانیہ کی تیسری کلاس سے تھا جہاں کہیں بحث لکھی ہوتی صحیح مسلم کے متعلقہ ان بحوث کو بھی دیکھتا رہتا ۔
صحیح مسلم پڑھنےوالے طلبہ کافی ذہین اور قابل تھے جب انھیں محدثانہ انداز میں صحیح مسلم پڑھانی شروع کی تو چند دن میں ہی وہ میرے گرویدہ ہوگے اور ان کے اندر علم و تحقیق کی جستجو پیدا ہوئی اور ایک عظیم منہج پر چل پڑے اور اساتذہ سے تبصرے کرنے شروع کر دیے کہ صحیح مسلم پڑھنے کا مزہ آرہاہے ہمارے ذہن بہت وسیع ہورہے ہیں ۔یہ باتیں ان طلبہ نے دیگر مدارس میں بھی عام کر دیں جس سے کافی طلبہ ہمارے جامعہ میں داخل ہوئے ۔
اس جامعہ میں مسلسل تین دفعہ صحیح مسلم پڑھائی اور تین بار مؤطا پڑھائی ،تین بار ہدایہ اتنی دیر میں میرے یہاں آٹھ سال پورے ہوگئے ۔
اس جامعہ میں تصنیفی و تحقیقی کام بہت زیادہ کیے ۔اس دور میں احکام و مسائل پر کام کیا اور کئی ایک علماٗ کے کمزور باتوں پر تنقید کی ۔اس دور میں میرے مضامین ماہ ناہ الحدیث حضرو ،الاعتصام اور جرار اخبار میں شائع ہوتے تھے میں اپنی اخبار خیر خواہی کےنام سے بھی نکالتا تھا جب پیسے ہوتے اس کون شائع کرلیتا ۔
چھانگا مانگا میں رہائش منتقل:
اس جامعہ کے دوسرے ہی سال میں میری شادی ہوگئی تھی اگلے سال فیملی رہائش بھی مل گئی ۔پھر آخری تین سال میں نے اپنی رہائش چھانگا مسجد حراٗ میں رکھی ۔روزانہ جامعہ میں پڑھانے جاتا اور ظہر کے بعد واپس چھانگا مانگا آجاتا ۔یہ تین سال میرے لیے سنہری ثابت ہوئے، اس میں مجھے لکھنے کے لیے بہت وقت مل جاتا تھا ان تین سالوں میں اسی مذکورہ مسجد میں بیٹھ کر شرح صحیح مسلم ،مسند احمد اور الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل پر کام کیا ۔مسجد کے نمازی پریشان ہوتے تھے کہ جب بھی ہم آتے ہیں آپ کو لکھتے ہی دیکھتے ہیں ۔دن رات ڈٹ کر لکھا پر سکون ماحول تھا ۔اور چھانگا مانگا آنے سے اللہ تعالی نے انٹر نیٹ پر بھی کام کرنے کا موقع دیا ۔اس دور میں مجھ سے آن لائن پڑھنے والوں میں ڈاکٹر ابو خزیمہ عمران معصوم انصار ی حفظہ اللہ (برمنگھم)ابو حبان (برمنگھم)نسیم الہی (اٹلی)محمد ظہور خان (امریکہ)اور کئی ایک دیگر ممالک کے علماٗ کرا م نے مجھ سے پڑھا ۔اس پڑھانے کے فوائد اب تک میں دیکھ رہا ہوں ۔اب بھی پڑھاتا ہوں ۔ میں اپنے پڑھانے کی مزدوری اللہ سےلیتا ہوں۔کبھی کسی سے فیس کا سوال نہیں کیا نہ ہی اس کو درست سمجھتا ہوں ۔مجھ سے آن لائن پڑھنےوالے میرے شاگرد مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔جو مدارس میں مجھ سے پڑھے ہیں ان کا مجھ سے رابطہ کم ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر ضائع ہورہے ہیں۔جو رابطے میں رہتے ہیں وہ بہت زیادہ فوائد اٹھاتے ہیں ۔
یہاں کے میرے ہونہار شاگرد:
اس طرح میرے یہاں آٹھ سال پورے ہوئے ۔اس جامعہ میں میرے ہونہار شاگرد جو دینی کام کررہے ہیں اور میں ان سے راضی ہوں وہ درج ذیل ہیں
مولانا عبدالمنان صدیقی (لالہ موسی)مولانا ابوحنظلہ مالک داد(سرگودھا)صغیر (لیہ)قاری شجاع الدین (مظفر گڑھ)مولانا محمد آصف (لیہ)مولانا احسان یوسف الحسینوی (میرا بھتیجا ،حسین خانوالا ہٹھاڑ)حافظ محمد احمد (بھوئے آصل ،افسوس کہ اس نے سکول میںٹیچنگ کو مدرسہ میں تدریس پر ترجیح دی)حافظ عبدالخالق (کوٹ رادھا کشن ،بہت قابل ہیں لیکن سخت طبیعت ہیں)حافظ مقصود توحیدی (کوٹ رادھا کشن ۔نیک ہے )حافظ عامرحسینوی (حسین خانو الاہٹھاڑ ) ،قاری عمیر (منڈی واربرٹن)،مولانا عبدالرحمن اثری (رتی پنڈی)،قاری عثمان (منڈی واربرٹن)،مولانا واجد (ایبٹ آباد)سفیر ،نصیر (ایبٹ آباد ،دونوں بھائی تھے )مولانا عمر خطاب (ایبٹ آباد )حافظ وقاص (ہارون آباد )مولانا عبدالمجید ()مولانا اعجاز الحق (روڈے والا ،قصور)عمر فاروق امن پور ی(رائے ونڈ)مولانا مبشر (رائے ونڈ )مولانا عبدالرحمن (بھمبہ ،قصور )حافظ وقاص (لالہ موسی )مولانا اظہار اللہ خان(لاہور)مولانا نعیم حسینوی (حسین خانوالاہٹھاڑ)مولانا شکیل احمد (گونڈھ ،لاہور )قاری سلمان زاہد (کنگن پور )مولانا عتیق الرحمن (منڈی واربرٹن )قاری قدرت اللہ (چھبر)مولانا ساجد توحیدی (مرید کے)مولانا مجیب الرحمن (واہنڈو ،گوجرانوالا)اور بھی کافی ہیں ۔اللہ تعالی ان سب کو میرے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین
جامعہ کے تعمیراتی کام :
الحمدللہ جیسے جیسے طلبہ کی تعداد برھتی گئی مدرسہ کی بلڈنگ بھی ہم بنواتے گئے ۔آخر کار میرا اس جامعہ میں آٹھواں سال تھا کہ ایک دن محترم قاری ادریس ثاقب صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ محترم ایک مشورہ دیں سب سے پہلے میں آپ سے مشورہ کررہا ہوں کہ میرا دل کرتا ہے کہ چار پانچ ایکڑ زمین خریدیں اس کے لیے ایک کروڑ روپے صرف زمین کے لیے چاہیے میں نے کہا کہ یہ زمین کس کے لیے لینی ہے ؟انہوں نے کہ اللہ تعالی کے دین کے لیے ۔میں نے کہا کہ ایک عرب کا منصوبہ بنا لیں اللہ تعالی وہ بھی پورا کرے گا آپ تو ایک کروڑ کی بات کررہے ہیں ۔میری بات سن کر قاری صاحب نے اللہ اکبر کہا اور کہا کہ شیخ ہم نے زمین لینی ہے ۔آپ نے میری ساری پریشانی دور کردی ہے ۔ہم نے کوشش شروع کردی اور اسی سال ایک کروڑ کی ساڑھےپانچ ایکڑ زمین بھوئے آصل مین سڑک پر خرید لی الحمد للہ ۔
جامعۃ الامام محمد بن اسماعیل البخاری اہل حدیث بھوئے آصل ، قصورکی نئی بلڈنگ کے افتتاح کے مبارک موقع پر تقریب سعید
مرتب: ابن بشیر الحسینوی [نئی بلڈنگ کے موقع پر میرا لکھا ہوایک مضمون پیش خدمت ہے]
۲۰۰۳ میں ایک انتہائی محدود تہ خانہ میں اس جامعہ کی بنیاد رکھی گئی جس میں صرف ایک کمرہ اور ایک مسجد کا چھوٹا ساحال تھا اورایک انتہائی چھوٹا سا کمرہ جس میں بمشکل تین افراد بیٹھ سکتے ہیں بطور دفتر استعمال کیا جاتا رہا ۔کچا صحن اور وہ بھی انتہائی مختصر اور چار لیٹرینیں اور دو غسل خانے اور چند ایک وضو کرنے کے لئے ٹوٹیاں تھیں ۔کام شروع کردیا ،تیرہ طلبا درس نظامی کی کلاس میں تھے اور پندرہ کے قریب طلبا شعبہ حفظ میں تھے درس نظامی کا پہلا استاد راقم تھا اور شعبہ حفظ کا پہلا استاد محترم قاری ادریس ثاقب حفظہ اللہ خود تھے ۔۔۔۔۔جیسے جیسے ضرورت محسوس ہوتی گئی اللہ تعالی اور عمارت بھی دیتا رہا ۔۔۔۔۔عرصہ ساڑے آٹھ سال اسی محدود سی بلڈنگ(جو فی الحال تین منزلہ عمارت ،چھ کمرے اورتین کنال پر مشتمل کھیل کا میدان ہے ) میں گزارے اور تنگیوں میں ہی کلاسز چلتی رہیں اور اساتذہ نے بھی بھر پورساتھ دیااب موجودہ تعمیر میں پچیس افراد کا عملہ کام کررہاہے اور درس نظامی کے طلبا کی تعداد ۱۱۰ اورشعبہ حفظ کی تعداد ۱۵۰ ہے اوراب تک درس نظامی کی تین کلاسز فارغ ہو چکی ہیں اور وہ تیس سے زائد فارغ التحصیل علماء کرام کی ٹیم پاکستان کی معروف جامعات میں مصروف عمل ہے اور ۵۰ حفاظ کرام قرآن مجید مکمل کر چکے ہیں ۔ اور اس جامعہ کے شیخ الحدیث اور مدیر التعلیم فضیلۃ الشیخ محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ ہیں ۔ اور اس جامعہ کے شعبہ نشرو اشاعت سے اب تک کئی ایک کتب بھی شایع کی جا چکی ہیں ۔جن میں خطبات ضیاء،گناہوں کو مٹانے والے اعمال ،استقامت دین بھی شامل ہیں اور اس جامعہ کے شیوخ میں سے بھی بعض تحقیق و تصنیف میں مگن ہیں مثلا راقم نے اسی جامعہ میں رہ کر پچاس کے قریب کتب تالیف کیں جن میں ،شرح صحیح مسلم ،تحقیق مسند احمد بن حنبل ،تحقیق بلوغ المرام،مراجعت الجامع الکامل فی الحدیث الشامل للدکتور ضیاء الرحمن ا لاعظمی ،وغیرہ اور شیخ الحدیث محمد یوسف قصوری حفظہ اللہ جو کہ نحو کے امام ہیں سے دارالسلام لاہور نے قواعد النحو ،قواعد الصرف اور ابواب الصرف پر کام کروایا ۔جو طبع ہو چکی ہیں ،اور اسی طرح شیخ نور اللہ اور حافظ احمد شاکر مدرس جامعہ ھذا بھی کئی ایک کتب لکھ چکے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔لیکن محترم قاری ادریس ثاقب حفظہ اللہ اللہ تعالی سے وسعت کا سوال کرتے رہے ۔۔۔۔اور چند ماہ پہلے راقم سے مشورہ کیا کہ میر ادل چاہتاہے کہ پانچ چھ ایکڑ جامعہ کے لیے جگہ لیں اور بڑا جامعہ تعمیر کریں اس کے مختلف بلاک بنائیں ،تو راقم نے کہا کہ اللہ تعالی قادر ہے آپ ارادہ مصمم کرلیں اور کوشش شروع کر دیں ۔۔۔بس دعا اور کوشش موصوف نے شروع کر دی پھر چند ہی ماہ میں ایک کروڑ سے زائد روپے کی زمین بھوئے آصل بٹھہ سٹاپ کی مشرق جانب ،ماشاء اللہ آئل ملز سے متصل ساڑھے پانچ ایکڑ زمین خریدی والحمدللہ ۔ اور چوبیس جنوری ۲۰۱۴بروز جمعہ کو شیخ حفیظ الرحمن لکھوی مدیر جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمہ لاہور کو بلایا گیا اور ان سے بروز جمعہ اذان مغرب سے تھوڑی دیر پہلے دعاکروائی گئی اور ان سے مسجد کی بنیادوں کا بنانا شروع کیا ۔کیونکہ استاد محترم لکھوی صاحب کا موقف ہے کہ جمعہ کے دن جو گھڑی قبولیت کی ہے وہ نماز مغرب سے تھوڑا وقت پہلے ہوتی ہے ،اسی مطابقت سے یہ دعابھی کروائی گئی ۔ اور پھر چھبیس جنوری ۲۰۱۴بروز اتوار کو اس کی بلڈنگ کا سنگ بنیاد رکھنا تھا اس موقع پر محترم قاری صاحب کی کوشش تھی کہ میں اس موقع پر پاکستان کے تمام شیوخ الحدیث اور قراء کرام کو دعوت دوں گا ان شاء اللہ۔ اور اس تاریخ کو اللہ تعالی کی توفیق خاص سے اس نئے جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری اہل حدیث بھوئے آصل قصور کی بلڈنگ کی بنیاد رکھی گئی تقریباگیارہ بجے تلاوت قرآن مجید سے پروگرام شروع ہوا اور تین بجے تک پروگرام جاری رہا ،جس میں پورے پاکستان سے اکثر شیوخ الحدیث نے شرکت کی مثلا ،فضیلۃ الشیخ عبیدالرحمن محسن ،مہتمم دارالحدیث راجووال ،شیخ الحدیث عبدالغفار روپڑی،شیخ الحدیث عبدالوہاب روپڑی ،شیخ قدرت اللہ فاضل ام القری ،شیخ الحدیث حافظ محمد شریف ،فیصل آباد ،ڈاکٹر حماد لکھوی ،شیخ الحدیث مسعود عالم فیصل آباد ،محدث العصر ارشاد الحق اثری ،فیصل آباد ،مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف لاہور،شیخ الحدیث قاری صہیب میر محمدی بونگہ بلوچا،فضیلۃ الشیخ عبدالعظیم اسد ،منیجنگ ڈرایکٹر دارالسلام لاہور،مولانا عتیق اللہ سلفی ،ستیانہ بنگلہ ،ستیانہ بنگلہ،شیخ الحدیث محمد حسین ظاہری،اوکاڑہ،شیخ الحدیث عبدالرحمن ضیاء آف جھنگ،شیخ الحدیث عبداللہ ناصر رحمانی آف کراچی،شیخ الحدیث عبدالغفار اعوان آف اوکاڑہ،شیخ شفیق الرحمن فرخ ،شیخ حسن محمود کمیر پوری،قاری ظفراللہ خان ،قاری محمد شریف ،قاری سیف اللہ عابد امیر مرکزی جمعیت خانیوال،قاری محمد اسماعیل میر محمدی خطیب ضیاء السنۃ راجہ جنگ ،قاری خبیب احمدمیرمحمدی،قاری محمد احمد راو خان والا قصور،قاری محمد اکرم شاہد قصور ،قاری محمد اکرم سالک قصور،قاری حبیب اللہ ساقی ،حافظ عبدالغفار حسن ،شیخ عطاء اللہ حنیف اور راقم الحروف۔وغیرہ تشریف لائے اور اکثر شیوخ الحدیث نے تقاریر بھی کیں اس میں دینی جامعات کی اہمیت پر بہت اہم دروس ہوئے اس میں انھوں نے محترم قاری ادریس ثاقب مدیر جامعہ ھذا کو مبارک پیش کی اور یہ پروگرام ہر لحاظ سے کامیاب رہا اور ہزاروں سامعین تشریف لائے اور خصوصا جامعہ سے فارغ التحصیل علماء کرام میں سے اکثر تشریف لائے ۔فجزاہم اللہ خیرا۔ جامعہ ھذا کی نئی بلڈنگ چار بلاک پر مشتمل ہو گی اور ان چاروں بلاک کے نام امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگردوں کے ناموں پر رکھے جائیں گے ۔ بلاک امام مسلم ،بلاک امام ابوعیسی محمد بن عیسی بن سورہ الترمذی،بلاک امام ابودود اود سلیمان بن اشعث السجستانی الباکستانی،بلاک امام محمد بن یوسف فربری۔ [اس ارادہ پر کام نہیں ہوا]اور جامعہ میں منصوبہ جات درج ذیل بنائے جائیں گے ۔ جامع مسجد ،مدرسہ،شیوخ ہاسٹل ،طلباہاسٹل ،سکول، ہسپتال ،تفریحی پارک ،کھیل کا میدان۔ سب سے پہلے مسجد زیر تعمیر ہے جس کی اندرونی لمبائی ۱۰۳فٹ اور چوڑائی ۹۰ فٹ ہے ،اس میں بیس صفیں مکمل ہوں گی اور ایک ہزار افراد نماز پڑھ سکیں گے ان شا ء اللہ ۔ ان تمام منصوبوں کی تکمیل کے لئے کروڑوں روپے کی لاگت آئے گی اس کئے تمام احباب اس جامعہ کو اپنی خصوصی دعاوں میں یاد رکھیں اور اس کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ رابطہ: قاری محمد ادریس ثاقب مدیر جامعہ محمد بن اسماعیل البخاری گندھیاں اوتاڑ قصور۔03008014092 اس جامعہ کی تکمیل کے بعد محترم قاری ادریس ثاقب حفظہ اللہ ایک اور جامعہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن میں چاربلاک ہوں گے ،بلاک امام ابوحنیفہ،بلاک امام مالک ،بلاک امام شافعی ،بلاک امام احمد بن حبنل۔ اللہ تعالی محترم قاری صاحب کے تمام نیک ارادے پورے فرمائے اور ان کی حفاظت فرمائے اورا ن کے معاونین کو جزائے خیر عطافرمائے ۔آمین
میری زندگی کے آٹھ سال وہاں لگے ہیں ،اخلاص ،محنت اور ایمان داری کے ساتھ وہاں کام کیا اب بھی میری دعائیںمیرے اس جامعہ کے ساتھ ہیں ۔کافی آنا جانا بھی ہے۔ کانفرنسوں اور مختلف پروگراموں میں مجھے دعوت نہیں دی جاتی اگر میں فری ہوں تو بغیر دعوت کے بھی چلا جاتا ہوں کیونکہ وہ میرا جامعہ ہے ۔میری اس جامعہ کے ساتھ بڑی یادیں وابستہ ہیں ۔جب کوئی کتاب شائع کرتا ہوں فورا اپنے اس جامعہ کے لیے تحفہ بھیجتا ہوں ۔
قاری ادریس ثاقب صاحب :
میں نے ان کے ساتھ آٹھ سال گزارے۔میں نے انھیں نیک پایا ہے ۔اللہ تعالی کے ساتھ رابطہ بہت قائم رکھتے ہیں ۔مستجاب الدعوات ہیں۔بڑے محنتی ہیں ۔دین کا کام ایک لگن سے کررہے ہیں ۔اللہ تعالی ان کے تمام عزائم پورےفرمائے ۔میرے دل میں ان کی بہت محبت اور احترام ہے ۔اللہ تعالی انھیں آنکھوں کا نور عطافرمائے ۔اے اللہ تجھ پر کوئی مشکل نہیں تو تو ہر چیز پر قادر ہے ۔تاکہ وہ آنکھوں سے اپنی محنت کو دیکھ سکیں ۔[یہ مضمون تقریبا ۲۰۱۳ میں لکھا گیا تھا ۔اب تو ماشائ اللہ جامعہ کے تعمیری کام زیر تکمیل ہیں اور طلبہ واساتذہ کی تعداد بھی کافی ہے ۔ ۴۔۹۔۲۰۱۸]

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment