نکی مانیکی اور وساوے والا کا دورہ

وساوے والا نزد حویلی لکھا کے ہمارے شاگرد مزمل عارفی صاحب متعلم جامعہ امام احمد بن حنبل بائی پاس قصور ،ایک عرصہ سے اصرار کررہے تھے کہ آپ کو اپنا علاقہ دکھانا ہے ۔مئی ۲۰۱۸ کے شروع میں اس علاقے مین جانے کا پروگرام طے پایا ۔ اس سفر کی دو وجوہات تھیں
پہلی : نکی مانیکی نزد حویلی لکھا مین ابن حنبل اوپن یونیورسٹی کی ہماری ایک شاگردہ کی والدہ محترم ۲۶۔۴۔۲۰۱۸ کو وفات پاگئی تھین اور چند دن بعد ان کے بھتیجے بھی فوت ہوگئے ایک ہی ہفتے مین دو فوتگییوں کی تعزیت مقصد تھی ۔اور نکی مانیکی وہ گاوں ہے جس میں حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ کے ایک ہونہار شاگرد رہتے تھے جن کا تذکرہ تاریخ میں ملتا ہے اس وجہ سے بھی نکی مانیکی دیکھنا مقصود تھا جن کا نام مولوی نور محمد صاحب نکی مانیکی کے رہائشی تھے ۔خواجہ غلام رسول کے مرید تھے اور سفر میں اکثر ان کے ہمراہ رہتے تھے ،خواجہ صاحب کے ملفوظات لکھا کرتے تھے جو انوار الاسرار کے نام سے جمع کیے اور مولوی عبدالحلیم ساکن جموں و چھل نے خوش خط کرکے لکھے ہیں ۔یہ مسودہ ۱۳۱۴ ھ کا نوشتہ میں (محمد ابراہیم خلیل رحمہ اللہ)نے دیکھا ہے ۔(الفیوض المحمدیہ ص: ۹۸ کا حاشیہ نمبر ۲)
دوسری : اس وساوے والا ،حویلی لکھا اور اس کے گردو پیش اہل حدیث کی تاریخ اپنی آنکھوں سے دیکھنا مقصود تھا ۔ہم نےقصور سے وساوے والا کا سفر بذریہ ٹرین کیا ۔ جب ہم اسٹیشن پر پہنچے تو محترم مولنا فہیم حفظہ اللہ ہمارے انتظار میں کھڑے تھے وہ ہمیں وساوے والا لے کر گئے ۔عارفی صاحب نے اپنے گھر میں کھانے کا اہتمام کروایا تھا کھانا کھایا پھر شیڈلو طے کیا کہ پہلے نکی مانیکی جایا جائے ۔اس گاوں کی طرف رخت سفر باندھا ۔اس گاوں میں ہمارے دوست حافط محمد اکرم حفظہ اللہ ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ایلی مینٹری سکول نکی مانیکی سے رابطہ ہوا وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور بتایا کہ ہم پہلے سنی تھے میرے والد محترم مجھے کئی مدارس مین چھوڑ کر آئے لیکن مجھے کسی مدرسے کا ماحول پسند نہیں آتا تھا وہ پہلے مجھے بریلوی مکتبہ فکر کے مدرسہ میں چھوڑ کر آئے وہاں میرا دل نہ لگا ۔ پھر مجھے جامعہ اشرفیہ دیوبند مکتبہ فکر کا مدرسہ چھوڑ کر آئے وہاں بھی میرا دل نہ لگا پھر قاری اختر صدیق صاحب کی وساطت سے مجھے جامعہ رحمانیہ نزد برکت مارکیٹ اہل حدیث مکتبہ فکر کا معروف مدرسہ داخلہ کروایا اس مدرسہ کا مجھے ماحول پسند آیا پھر وہاں ہی پڑھنا شروع کردیا اور دینی تعلیم وہاں ہی مکمل کی اسی دوران مین اہل حدیث ہوا اب میری فیملی کے کئی افراد اہل حدیث ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی حافظ محمد احمد سے بھی ملاقات ہوئی جو میرے دوران طالب علمی شعبہ حفظ کے طالب علم تھے مین نے انھیں پہچان لیا لیکن انھوں نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہیں سکا ۔یہ ملاقات تقریبا بیس سال بعد ہو رہی تھی ۔خیر

محترم حافظ اکرم صاحب نے کہا کہ پہلے ہید سلیمانکی آپ کو دیکھاتے ہیں پھر تعزیت کرلینا ۔نماز مغرب سے قبل ہم ہیڈ سلیمانکی سے واپس آگئے ۔اور اپنی تعزیت کے لیے مرحومہ کے گھر ان کے بیٹوں مبارک حسن اور اظہر حسین سے ملاقات کی اور تعزیت کی۔ وہاں بیٹھک میں کافی لوگ موجود تھے ان سے بہت کچھ سننے کو ملا ۔ایک بات وہان یہ بھی سنی کہ ہمارے علاقے میں بچیوں کی تعلیم کا بہت معیار ی دارہ مولانا صدیق صاحب کا ہے جو معروف عالم دین شیخ اختر صدیق اور شیخ احمد صدیق حفظہما اللہ کے والد محترم ہیں ۔
وساوے والا میں بعد نماز عشائ جامعہ رحمانیہ ،بعد نماز فجر مبارک مسجد اہل حدیث میں دروس ہوئے اور وساوے والا کے کئی ایک اہل علم سے ملاقات ہوئی اور خیر سےاپنے گھر سے واپس پہنچا ۔والحمدللہ

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment