ہٹھاڑ کا ایک مشہور گاؤں آرائیاں والا نزد کنگن پور کا دورہ

آٹھ جون ۲۰۱۸ کو کنگن پور کا دورہ کیا جس میں قاری صادق رحمانی حفظہ اللہ بانی مدرسہ رحمانیہ آف کنگن پور سے تفصیلی ملاقات کی ۔نماز عصر کے بعد مرکزی مسجد کنگن پور میں درس دیا ،درس کے بعد لوگوں نے سوالات کیے ۔ہماری افطاری کی دعوت مولانا حامد حفظہ اللہ آف آرائیاں والا کے پاس تھی ۔ حسب وعدہ مغرب کی نماز سے پہلے وہاں پہنچے ۔نماز مغرب کےبعد درس دیا ۔
مولانا حامد احسن صاحب سے تاریخ ہٹھاڑ کا تذکرہ کیا اور پوچھا کہ آرائیاں والا میں ہمارے کس بزرگ نے محنت کی توانہوں نے بتایا کہ میرے ناناجی مولانا نور اللہ رحمہ اللہ پہلے اہل علم ہیں جنھوں نے اس گاوں پر محنت کی ۔ اور کہا کہ حاجی نوراللہ صاحب کوئی عالم دین نہیں تھے ،وہ دین سے دور لمبی لمبی مونچھوں والے کڑیل نوجوان تھے کہ دوران سفر انھیں اپنے ساتھیوں سمیت کسی مسجد میں رات کو قیام کرنا پڑا ،لیکن گاوں والوں نے ان سب کو مسجد سے بھگا دیا کہ تم بدمعاش لگتے ہیں نکلو مسجد ۔سخت سردی کی راتیں تھیں ان سب کو پرالی کے ڈھیر پر سونا پڑا اور سردی سے بچنے کے لیے اپنے اوپر پرالی لی ۔ اس حالت میں لیٹے لیٹے نوراللہ صاحب کو خیال آیا کہ کاش میں عالم دین ہوتا داڑھی ہوتی یہ لوگ مجھے کھانے کھلاتے اور عزت کرتے لیکن انھوں نے پانی تک نہیں پوچھا الٹا مسجد سے بھی نکال دیا ہے ۔ اسی سوچ نے علم کی طرف گامزن کردیا ۔پھر مولانا محمد کلسوی رحمہ اللہ سے ترجمہ قرآن پڑھنا شروع کردیا اور گندھی روپ سنگھ میں دین کاکام شروع کردیا پھر وہاں سے آرائیاں والا منتقل ہوگئے ۔اور یہاں آکر دینی کام کیا ان کی محنت تھی کہ سارا گاوں اہل حدیث ہے ۔
نانا جی سے میرے والد محترم مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ نے علم سیکھا انھوں نے اسی مرکزی مسجد میں چالیس سال دینی کام کیا ان کی وفات کے بعد مجھے موقع ملا ۔بیس سال سے میں اس مسجد میں امام خطیب کے فرائض سارانجام دے رہا ہوں ۔
پھر حامد صاحب نے بتایا کہ ہمارا فیملی مستری برادری سے تعلق رکھتی ہے ہمارے نانا کی محنت سے آج ہماری برادری میں بہت زیادہ علمائے کرام ہیں مثلا شیخ شاکر ناظم جامعہ رحمانیہ لاہور ،مفتی عبدالحنان مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد ، مولانا قاری ظفر صاحب لاہور، قائم والا میں پوری فیملی ،اسی طرح شام کوٹ میں بھی ہماری برادری کے علمائے کرام ہیں ۔
مزید معلومات کے لیے میں مولانا قاری عبدالوحید خاکی حفظہ اللہ مدرس و خطیب مرکزی مسجد کوٹلی رائے ابوبکر سے رابطہ کیا انھوں نے بتایا کہ بالکل یہ ہمارا خاندان ہی ہے واقعۃ اس خاندان میں بہت علمائے کرام گزرے ہیں پھر انھوں نے یہ تفصیل بیان کی ۔
شام کوٹ میں مولانا عبدالستار آف شامکوٹ نو کے نزدیک آبادی حویلی ولا کھوہ ۔عبدالستار صاحب کے والد احمد دین بستی قائم شاہ ولا جیتی والا کی مسجد میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتے رہے ۔عبدالستار صاحب کے بھائی مولانا عبدالوہاب ،قائم شاہ کے ساتھ لولے گاوں کی مسجد میں دینی خدمات سرا نجام دے رہے ہیں ۔
مولوی عبدالمنان حویلی ولا کھوہ میں امام ہیں ۔،قاری عبدالوحید خاکی ،قاری عبدالرشید
مولانا عبدالحمید صاحب جو فردوس مسجد میں تھے ۔ان کے بیٹے مولانا عبدالغفار حلیم ہیں جو چونیاں کی مسجد رحیمیہ مسجد میں امام خطیب ہیں ۔بڑے فاضل انسان ہیں ۔
جیتی والا مولانا عبدالوہاب کے بیٹے مولانا عمران زاہدمیرے گاوں میں ایک مدرسہ چلا رہے ،مولانا حافظ رضوان ،حافظ سلمان یہ قاری ہیں ،۔۔۔۔عبدالحنان جامعہ سلفیہ میں زیر تعلیم ہے ۔
جیتے ولا میں مولانا حبیب اللہ یہ دیوبند کے فاضل تھے ان کی اولادین بھی دیوبندی ہیں ۔
مولانا عبدالستار کے نانا جی مولانا عبدالقادر دہلی کے فارغ تھے ان کی دوبیٹیاں تھیں ۔مولانا محمد کنگن پوری جو ڈاکٹر بارک اللہ کے والد تھے ،حمید اللہ ایجوکیشن کے افیسر ہیں ان کے بیٹے امان اللہ پنجاب کے ڈائریکٹر ہیں ۔
مولانا عبدالغفار حلیم بن مولانا عبدالحمیدآف شامکوٹ نے اپنے خاندان پر بھٹی خاندان کے نا م سے ایک کتاب بھی لکھی ہے ۔
نماز عشاٗ سے پہلے وہاں سےسفر شروع کردیا اوررات حسب وعدہ بدھائی کے نزد شامکوٹ میں اپنے ادارے مدرسہ تفہیم الاسلام میں پہنچا جہاں ہمارے فاضل دوست مولانا قاری محمد ریاض مدیر مدرسہ تفہیم الاسلام کام کررہے ہیں ۔موصوف جامعہ رحمانیہ میں میرے کلاس فیلو تھے ۔ انھوں نے دین کے ساتھ سکول کی تعلیم بھی حاصل کی اور ایم فل کے لیے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ لیا ۔ایم فل کرنے کے بعد اپنے گاؤں تشریف لائے اورگاؤں میں بالکل چھوٹی سے مسجد تعمیر کی اور خود سکول میں ٹیچنگ کی کوشش کرنے لگے کہ کہیں جوب مل جائے ۔جب مسجد کی تعمیر ۹ مئی ۲۰۱۱ مکمل ہوئی تو انھوں نے مجھے افتتاحی درس کے لیے دعوت دی ۔درس کے بعد محترم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا میرے بارے کیا مشورہ ہے کہ میں کیا کروں ؟ تو میں نے انھیں کہا کہ مسجد بن گئی ہے اب یہاں بیٹھ جائیں اور دین کا کام کریں ۔ یہاں دینی اور دنیاوی دونوں تعلیموں کا اہتمام کریں طلبہ صبح آئیں اور شام کو چلے جائیں اور نظام تعلیم بھی فری ہو ۔ یہ مشورہ دے کر میں واپس آگیا ۔اگلے سال اچانک مجھے محترم قاری ریاض صاحب نے فون کیا کہ آپ کا درس ہے ۔ میں حسب وعدہ گیا تو وہاں مسجد کے ساتھ چھپر دیکھا اور وہاں تقریبا ۷۰ طلبہ اور طالبات پڑھ رہے تھے ۔ میں بہت خوش ہوا ۔حافظ صاحب نے مجھے کہا کہ آپ کے مشورے پر عمل کیا ہے آج ستر طلبہ وطالبات دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔اس کےبعد گاہے بگاہے جانے کا موقع ملتا رہتا ہے ۔اب کی بار جب گیا تو مسجد کے ساتھ تقریبا تین کنال پر وسیع و عریض ہاسٹل تعمیر ہوچکا ہے اس میں ۵ کمرے اور برآمدہ مکمل تھا وہاں کلاسز جاری ہیں اور ۵ کمرے اور اس کا برآمدہ کی تعمیر جاری ہے لینٹر اور باقی کام اہل خیر کے تعاون کا منتظر ہے ۔
ا س سال ڈیڑھ سو طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں ۔اس سال ۲۵ طلبہ و طالبات میٹرک کا امتحان دیں گے ، ان میں سے بارہ طلبہ و طالبات مکمل حافظ بھی بن چکے ہیں اور باقیوں کا بھی قریب ہے ۔اور سات افراد پر مشتمل ٹیچرز پڑھا رہے ہیں ۔ماہانہ خرچہ تقریبا ایک لاکھ ہے ۔ اور یہ نظام تعلیم بالکل فری ہے ۔تمام طلبہ و طالبات جہاں سکول کی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں وہ ترجمہ ،تفسیر ،بلوغ المرام ،نخبۃ الصحیحن ،تجوید اور ضروری گرائمر بھی پڑھتے ہیں ۔ یہ اداراہ مخلصین کی کوشش سے میٹرک تک گورنمنٹ پاکستان سے رجسٹرڈ ہو چکا ہے ۔ پورے علاقے میں خیرپھیلا رہا ہے ۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے اس ادارے کو کامیاب کرے اور مخلصین کا تعاون قبول فرمائے ۔آمین
یاد رہے کہ یہ ادارہ بھی ابن حنبل انٹرنیشنل کے زیر اہتمام چل رہا ہے اس ادارہ کے مسؤول ہمارے محترم فاضل بھائی قاری ریاض صاحب ہیں ۔وہ بہت محنت سے ادارہ چلا رہے ہیں ۔اہل علاقہ ہمارے ادارے سے بہت متاثر ہیں ۔
الحمدللہ
دعا گو : محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی رئیس ابن حنبل انٹرنیشنل 03024056187

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment