۱۹۶۶ میں میاں عبدالعزیز مالواڈہ رحمہ اللہ کی علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ سے مدینہ منورہ میں ملاقات

مرتب : محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
میاں عبدالعزیز مالواڈہ رحمہ اللہ نے ۱۹۶۶ میں حج بیت اللہ کیا ۔سفر سے واپسی پر اپنا سفر حج کسی سے املا کروایا اس سفر نامے میں علامہ شہید رحمہ اللہ کا ذکر کئی دفعہ آیا ۔علامہ شہید رحمہ اللہ کاذکر پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا ۔آئیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :
مدینہ منورہ میں حافظ احسان الہی ظہیر اور صلاح الدین لکھوی بھی ملتے رہے اور ہماری ہر طرح رہنمائی کی ۔ یہ دونوں اصحاب جامعہ اسلامیہ کے طالب علم ہیں ۔۔۔(میاں عبدالعزیز مالواڈہ ص:۴۶۸)تیسرے دن ۱۴ مارچ ۱۹۶۶ (۲ ذوالحجہ)کو منگل کے دن طلبائے جامعہ سے ملاقات ہوئی ۔ یہ ملاقات حافظ احسان الہی ظہیر کے مکان پر ہوئی ۔جن طلبائ سے ملاقات ہوئی ان کے اسمائ یہ ہیں ۔۔[اس میں ۲۱ طلبہ کے نام لکھے ہوئے ہیں تیسرے نمبر پر علامہ شہید رحمہ اللہ کا نام اس طرح لکھا ہوا ہے ]مولانا احسان الہی سیالکوٹی ۔سابقہ درس گاہ جامعہ اسلامیہ ،گوجرانوالہ ،تعلیمی سال :تیسرا سال (ایضا ص: ۴۶۹)۲ ۔اپریل کو حافظ احسان الہی صاحب نے مجھے آکر اطلاع دی کہ وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی سے ملاقات کے لیے چلنا ہے ۔چنانچہ ہم روانہ ہوئے ۔وائس چانسلر صاحب ایک بڑے خیمہ میں اقامت پذیر تھے اور ارد گرد بھاری ہجوم تھا ۔خیمے کی پچھلی جانب سے شیخ عبدالعزیز بن باز صاحب سے ملاقات ہوئی ۔بغل گیر ہوئے ، لوگ حیران تھے کہ دو نابینا باہم مل رہے ہیں ۔اس کے ساتھ حسن اتفاق کی بات ہے کہ نام بھی ایک ۔۔وہاں سے واپسی پر جب ایک بہت بڑے عالی شان مکان کے نیچے پہنچے تو حافظ احسان الہی صاحب نے کہا یہ شاہ فیصل کا محل ہے ۔میں نے کہا چلیے ان سے ملاقات کریں ۔حافظ صاحب فرمانے لگے جب تک پہلے سے وقت نہ لیا ہو ، ملاقات نہیں ہو سکتی ۔ میں نے کہا اگر ملاقات نہ ہوئی تو کوئی حرج نہیں کوشش تو کر دیکھیں ۔کہنے لگے اپنے نام کا کارڈ عطافرمائیے ۔میں نے دیکھا تو کارڈ بھی میری جیب میں نہ تھا ۔ بہر حال ہم سب اسی حالت میں محل کے پہلے کمرے میں داخل ہوئے ۔اس میں چند اشخاص بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس سے آگے دوسرا کمرہ تھا اس میں داخل ہوئے تو ایک صاحب اٹھ کر ہمارے پاس آئے ۔حافظ احسان الہی صاحب نے عربی میں کہا کہ یہ لوگ لاہور سے حاضر ہوئے ہیں ، شاہ فیصل سے ملاقات چاہتے ہیں ۔ وہ دروازہ کھول کر ساتھ کے کمرے میں اندر چلے گئے اور دو چارمنٹ میں واپس آکر ہم سب کو ، کمرے میں لے گئے ، جس کا طول ۱۵۰ فٹ اور عرض ۷۵ فٹ ہوگا ،نہایت سلیقے سے خوبصورت کرسیوں سے مزین تھا ۔جب ہم اس میں داخل ہوئے تو حافظ صاحب ،میاں عبدالمجید اور فضل دین تینوں کو پیچھے بٹھا دیا گیا ۔مجھے بیس پچیس فٹ آگے لے گئے ،جہاں شاہ فیصل اور چند دوسرے لوگ تشریف فرماتھے ۔
شاہ فیصل اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے آئے اور میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔۔۔پھر حافظ احسان الہی صاحب کے ذریعے عربی میں گفتگو شروع کر دی ۔پھر مجھے ساتھ والی کرسی پر لے کر بیٹھ گئے اور میرا ہاتھ مسلسل اپنے ہاتھوں میں رکھا ۔(ایضا : ۴۷۴)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment