مولانا اسماعیل حلیم بازید پوری ثم حسینوی حفظہ اللہ 

آپ اصلا بازید پور کے تھے ۔مولانا عبدالرحیم حسینوی رحمہ اللہ کا نام سن کر ان سے دینی تعلیم پڑھنے کے لیے حسین خانوالا ہٹھاڑ میں تشریف لائے ان سے کئی سال پڑھا پھر 1961,1962میں حافظ عبدالرحیم محدث حسینوی رحمہ اللہ نے انھیں رقعہ لکھ کردیا کہ یہ رقعہ جامعہ سلفیہ کے بانی مولانا اسحاق چیمہ کو دکھانا وہ آپ کو داخلہ دے دیں گے ،ایسے ہی ہوا جب آپ نے انھیں محدث حسینوی رحمہ اللہ کا رقعہ دکھایا تو اسحاق چیمہ صاحب کہنے لگے :اے اللہ کے بندے تو نے شیخ حسینوی صاحب کو کیوں تکلیف دی بس میرے سامنے ان کا نام لے لیتے اتنا ہی کافی تھا ۔اللہ اکبر

مولانا اسماعیل حلیم حفظہ اللہ نے مجھے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہمیں مولانا اسحاق چیمہ رحمہ اللہ خود کھانا کھلایا کرتے تھے۔اور کہا جن دنوں میں نے حافظ محدث گوندلوی رحمہ اللہ سے صحیح بخاری پڑھی اس وقت سخت سردی تھی محترم حافظ صاحب اپنے چاروں طرف تکیے لگا کر بیٹھ جاتے تھے اورسردی سے بچاؤ کے لیے کئی قمیضیں پہنتے تھے ۔ہم صحیح بخاری کے اوراق بھی خود پلٹتے تھے ۔اس وقت بیس کے قریب طلبہ صحیح بخاری کی کلاس میں تھے ۔اور کہنے لگے کہ حافظ صاحب کی شان ہی الگ تھی ۔

آپ نے مولانا عبدالرحیم حسینوی صاحب سے کئی سال استفادہ کیا پھر جامعہ محمدیہ اوکاڑہ چلے گئے کچھ عرصہ وہاں ٹھہرے پھر وہاں سے جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا رخ کیا وہاں  صحیح بخاری ،صحیح مسلم اور موطا امام مالک حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے پڑیں ۔جامعہ کے بانی مولانا اسحاق چیمہ رحمہ اللہ سے علمی استفادہ کیا  ۔اپنا مسکن حسین خانوالا میں ہی بنا لیا جامع مسجد حسین خانوالا ہٹھاڑ میں مولانا عبداللہ حسینوی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد آٹھ سال امام اور خطیب بھی رہے ساتھ ساتھ کپڑے کا روبار بھی کرتے ہیں ان کے تین بیٹے ہیں ۔

محمد احمد ،حافظ یاسر مکی حفظہ اللہ جن کے حالات آگے آرہے ہیں ۔

محمد رضوان تعلیم یافتہ ہیں گاؤں میں سٹور بنایا ہوا ہے ۔

 حافظ محمد یاسر مکی بن مولانا محمد اسماعیل حلیم بازیدپوری حفظہ اللہ 

پیدائش:۱۹۸۵۔۲۔۱۹ حسین خانوالا ہٹھاڑ

پرائمری گورنمنٹ ہائی سکول حسین خانوالا ہٹھاڑ سے کیا پھر دولے والا کے دیوبند ی مدرسہ سے حفظ شروع کیا اور قصور جامعہ قاسمیہ مسجد مبارک قاری عبدالسبحان صاحب سے مکمل کیا قرائت بھی وہاں مکمل کی ۔پنجاب ماڈل ہائی سکول قصور سے میٹرک کی ۔۲۰۰۱ء میں پنجاب ٹیکسٹ بورڈ والوں نے خطاطی کا مقابلہ کروایا جس میں آپ کی تیسری پوزیشن آئی ۔ایف ایس سی گورنمنٹ ڈگری کالج قصور سے کی اسی دوران پنجاب ماڈل ہائی سکول میں بطور ٹیچر بھی کام کیا اور مسجد منیرہ مشتاق کالونی میں قاری بلال صاحب کے پاس صبح بچوں کو ناظرہ بھی پڑھایا دوسال میں تین کام کرتے رہے۔پھر تین سال آرمی جوائن کی نائب خطیب کی حیثیت سے کوئٹہ کینٹ بلوچستان مسجد بلال میں ،وہاں تین سال سروس کی۔پھر ۲۰۰۸ء میں ان کا داخلہ جامعہ ام القری مکہ مکرمہ میں ہو گیا ۲۰۰۸ء سے لے کر اب تک جامعہ ام القری میں ہی ہیں معہد اللغہ دو سال کا کورس کیا پھر چار سال کا کلیۃ الدعوۃ واصول الدین قسم کتاب السنہ میں بی اے آنرکی ڈگری حاصل کی ایک سال بیچ میں ایم فل کے لیے داخلہ نہیں ہوا فارغ رہے اب دوسال سے ایم فل کر رہے ہیں یہ چار سال کا کورس ہے ۔تعلیم کے ساتھ ساتھ شعبہ جالیات کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں ہر ہفتہ میں تین دروس بھی دیتے ہیں ۔مکہ میں مکہ یونیورسٹی کے علاوہ کئی ایک محدثین کے علمی حلقات میں بھی مسلسل جاتے ہیں ۔

بہت محنتی ،ہونہار اور صالح ہیں ۔اللہ تعالی نے موصوف میں بہت زیادہ خوبیاں ودیعت کی ہوئی ہیں ۔اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں ۔حج یا عمرہ کے لیے جو بھی جاننے والا جاتا ہے اس کی بہت خدمت کرتے ہیں ۔ان کی مہمان نوازی مشہور ہے ۔اللہ تعالی موصوف کو صحت والی ایمان والی لمبی زندگی سے نوازے اور ان سے اپنے دین کا بہت کام لے ۔آمین

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment