ھکذا امرنی ربی صحیح لغیرہ ہے

[9:44 PM, 1/30/2018] رفیق طاہر: یہ در اصل ایک بحث ہے تخلیل اللحیۃ والی راویت پر اسکا ایک ٹکڑا بھیجتا ہوں /:

– مفہوم تو اسکا واضح ہے۔ اور میری تحریر سے یہ بھی واضح ہے کہ یہ ابن حجر رحمہ اللہ کا کی عبارت ہے جو میں نے نقل کی ہے۔ اگر آپ مجھ سے ہی اسکی متابعات پوچھنا چاہتے ہیں تو نوٹ فرمائیں کہ ولید بن زوران کی متعابعت ثابت بنانی نے کر رکھی ہے۔ ثابت بنانی سے یہ الفاظ نقل کرنے والے أبو حفص عمر بن حفص العبدي ہیں جن سے سليمان بن إسحاق بن سليمان بن علي بن عبدالله بن عبَّاس.اور يعقوب بن كعْب اور علي بن حُجر نے یہ روایت نقل کی ہے۔ انکی روایت الطبراني (4465), المجالسة (949)، العقيلي (3/ 155) میں ہے۔ لیکن یہ عمر بن حفص ضعیف ہے۔ پھر ثابت بنانی سے روایت کرنے میں یہ متفرد نہیں بلکہ اسکی متابعت عمر بن ذؤیب نے کر کرکھی ہے۔ اسے العقيلي (3/ 157) نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ عمر بن ذؤیب مجہول ہے۔

پھرانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں ولید بن زوران کی متعابعت ثابت بنانی کے سوا مطر الوراق نے بھی کر رکھی ہے۔
اسے طبرانی نے اوسط (2976) میں اور عبد الکریم الاصبہانی نے اپنے جزء (773) میں بطریق عَتَّابُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ عِيسَى الْأَزْرَقِ ذکر کیا ہے۔ اور عتاب بن محمد بن شوذب مستقیم الحدیث ہےاور عیسی الأزرق المعروف بـ غنجار صالح, زاهد, ثقة, مشهور ہے۔ اور مطر الوراق, صدوق ہے مگر کثیر الخطأ ہے۔ سو اسکی روایت متعابعات و شواہد میں قبول ہوتی ہے۔ اور یہاں بھی اسکی روایت اسی ضمن میں نقل کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ روایت حسن لغیرہ بنتی ہے۔
پھر انس بن مالک سے روایت کرنے میں ولید کی متابعت ثابت بنانی اور مطر الوراق کے علاوہ امام زہری نے بھی کی ہے۔
اسے حاکم نے مستدرک(529) طبرانی نے مسند الشامیین (691) اور السلفی نے مشیخہ بغدادیۃ (84) اور میانجی نے اپنے جزء (23) میں بطریق محمَّد بن حرْب، عن الزبيدي نقل کیا ہے۔
اور ابن حرب سے محمد بن خالد الصفار اور دو أوثق الناس عن محمد بن حرب یعنی محمد بن وہب بن ابی کریمۃ اور کثیر بن عبید الحذاء نے نقل کیا ہے۔
الغرض یہ سند بے غبار ہے!

اسی طرح انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث انہی الفاظ کے ساتھ معاویۃ بن قرۃ نے بھی نقل کی ہے۔ اسے ابن عدی نے الکامل (4/148) میں نقل کیا ہے۔ لیکن اسکی سند میں سلام الطویل اور اسکا شیخ زید العمی دونوں ضعیف ہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں ولید بن زوران کی متابعت محمد بن زیاد نے بھی کی ہے۔ اسے بھی ابن عدی نے الکامل (8/419) میں نقل کیا ہے۔ مگر اسکی سند میں ھاشم بن سعید ضعیف ہے۔
پھر ولید کی متابعت میں ابو خالد الضبی بھی ہیں جنکی روایت بیہقی نے (323) بطریق أبو عبدالله الحافِظ، ثنا أبو العبَّاس محمَّد بن يعقوب، ثنا العبَّاس بن محمَّد الدوري، ثنا معاذُ بن أسد، ثنا الفضلُ بن موسى، ثنا السكَّري – يعني: أبا حمزة، عن إبراهيم الصائِغ نقل کی ہے۔ اور یہ سند بھی حسن ہے۔

الغرض
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح یا حسن
ولید بن زوران
امام زہری
مطر الوراق
ابو خالد الضبی
نے یہ روایت نقل کی ہے۔
ثابت البنانی سمیت اور بھی کئی نام ہیں جنہوں نے متابعت کی ہے مگر ان تک سند صحیح نہیں جیسا کہ اوپر واضح کیا جاچکا ہے۔ اسی لیے میں نے ثابت بنانی کی والی متابعت کی بات ابن حجر تک ہی رہنے دی اور اسے اپنے سر نہیں لیا۔
بہر حال
ولید بن زوران اور اسکے تین متابعین کی وجہ سے یہ ورایت کم از کم صحیح لغیرہ کے درجہ تک پہنچتی ہے۔
اور یہ بات یاد رہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ھکذا أمرنی ربی کے الفاظ نقل کرنے میں أنس بن مالک رضی اللہ عنہ متفرد نہیں ہیں!

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment