امام العصر حضرت علامہ احسان الہی ظھیر شھید رحمة اللہ عليه کی حق گوئی وبیباکی۔

💝بھٹو دورمیں مسٹرحنیف رامے وزیراعلی پنجاب تھا اور بڑا دانشور اور ادیب بنتاتھا ۔
🌷ایسے دانشوروں کو جب علماءسےخطاب کاموقع ملتاہےتو یہ لوگ بڑی گلفشانیاں کرتے ہیں اور ابن الوقت علماءبھی
ماشاءاللہ
ماشاءاللہ
کہتےنہیں تھکتے
کچھ ایساہی ماجرا پنجاب اسمبلی میں بھی پیش آیا تمام جماعتوں کے علماء ،خطباء شریک مجلس تھے اور علامہ شھید رح کوبھی خصوصی دعوت دی گئی تھی
🌏وزیراعلی صاحب نے فرمایاکہ میں قرآن کاایک طالب علم ہوں لیکن پورے قرآن میں مجھے کہیں بھی اسلامی دستور نظرنہیں آیا اور علماء میں راست بازی اور جراءت اظہار نہیں ہے وہ سرمایہ داروں سےدب جاتےہیں
💓رامےصاحب داد وصول کرکےبیٹھ گئے تو حضرت علامہ شھید رح نے خودہی اسٹیج پر پہنچ گئے
اور
خطاب شروع کردیا
👈فرمایا !میں قران کےطالب علم سے مخاطب ہوں
📝رامےصاحب تم نےدنیامیں سب سےبڑا جھوٹ بولاہے
📖اگرقران میں اسلامی دستورنہیں تو پھر قران میں ہے کیا ؟
📖قران نےخدائی احکام کے بغیر باقی سب کو طاغوت قراردیاہے قران تم جیسے کج فکر کج فہم کج ذہن انسانوں کو طاغوت قرار دیتا ہے
📖قران کےایک ایک لفظ میں اسلام کادستور حیات مضمرہے
📖قران اسلامی دستور کی بنیادی دفعات کےمتن کی حیثیت رکھتاہے اور پھر علامہ شھید رح نے کئی قرانی آیات پڑھیں
👊پھر رامے صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے پیش نظر محکمہ اوقاف کے ملازمین خطباء علماء ہونگے جو بیچارے تبادلوں اور نوکری سے ہاتھ دھونے کے ڈرسے شائید راست گوئی نہ کرتےہوں
🔫ہم تمہارے ملازم نہیں ہم تمہیں روکیں گےبھی اور ٹوکیں گے بھی اور احتساب کا ڈنڈا بن کر تمہارے سرپر لٹکتے رہیں گے
👈رامے صاحب کے پسینے چھوٹ گئے اور رنگ فق ہوگیا
💚علامہ صاحب کے بعد کسی عالم نے تقریر نہ کی اور کہنےلگے علامہ صاحب کےبعد کسی کی تقریر کی گنجائش نہیں
💝ایک بزرگ نے فرمایا یہ احمدبن حنبل رح کا جانشین ہے ایک اور مسلک کے بزرگ بولے علامہ صاحب تمہی ابن تیمیہ رح کے وارث ہوسکتے ہو
📚ماخوز از علامہ احسان الہی ظھیر ایک عہد ایک تحریک از مولانا قاضی محمد اسلم سیف فیروزپوری رح صفحہ 127

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment