قلیل الکذب کی روایت ؟؟علم جرح و تعدیل سے مذاق

سوشل میڈیا پر محمد حماد نامی شخص نے ایک پوسٹ لکھی جس کے الفاظ یہ تھے :مولف پوسٹ ھذا دن رات کی موسلا دھار تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ’’قلیل الکذب‘‘کی روایت صحیح ہوتی ہے ۔واللہ اعلم

اس پوسٹ کے نیچے یہی محمد حماد نامی شخص مزید لکھتا ہے :جیسے قلیل التدلیس کی روایت صحیح ہوتی ہے ویسے ہی قلیل الکذب کی روایت صحیح ہوتی ہے۔

فیس بک پر muhammad hammadکی ٹائم لائن سے یہ پوست دیکھی جاسکتی ہے

……………………

اس پر واٹس اپ گروپ اسماٗ الرجال قواعد و تطبیقات میں کئی ایک علمائے کرام نے تبصرے کیے مثلا

حافظ خضر حیات مدنی نے کہا :مذاق ہے ۔

مولانا اکبر علی سلفی نے کہا :یہ واہیات اور ناقابل التفات اقوال میں سے ہے ۔۔۔علم اسماٗ الرجال کا مذاق ہے ۔۔۔اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے ۔۔

مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے ایک ریکارڈنگ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا :ان کا کہنا کہ قلیل الکذب کی روایت صحیح ہوتی ہے ، یہ بات مرجوح ہے اور اس کا اصول حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

 حافظ محمد طاہر نے کہا :صاحب پوسٹ کو میں جانتا ہوں
یہ صرف ایک طنزیہ رویہ ہے جو قلیل التدليس کے عنعنہ مقبول ہونے والے موقف پر کیا گیا ہے…
بہرحال یہ طریقہ قابلِ مذمت ہے چاہے کسی کی طرف سے بھی ہو…
اسی لیے کچھ طالب علم یہ بات ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں کہ کم از کم ہمیں تو یہ اصول حدیث کی حساس مباحث کو عوامی سطح پر فیس بک جیسے فورمز پر نہیں کرنی چاہیے…ایک دوسرے کو چیلنج، طنز اور یہ رویہ دو طرفہ ہے یک طرفہ نہیں….

حافظ خضر حیات نے مزید تبصرہ کرتےہوئے کہا :اصل بات یہی ہے ، اس بھائی نے ’ قلیل التدلیس اور کثیر التدلیس ‘ والی تفریق پر طنز کیا ہے … حالانکہ طنز بنتا نہیں .. کیونکہ محدثین نے صرف تدلیس میں ہی نہیں ، اور بھی کئی معاملات میں اس ’ قلت و کثرت ‘ کو بنیاد بنایا ہے .
حماد بھائی شیخ امن پوری اور ابویحیی نورپوری صاحب کے شاگرد ہیں ، منکرین حدیث وغیرہ کے رد میں اچھی پوسٹیں لکھتے ہیں .
لیکن یہ پوسٹ ان کے معیار سے گری ہوئی ہے ۔
اصول حدیث کے مباحث سوشل میڈیا وغیرہ پر زیر بحث آنے چاہییں … لیکن اس قسم کے اختلافات اگر مناسب انداز میں نہیں آسکتے ، تو گریز بہتر ہے .

ابوانس طیبی نے کہا :جی قلیل الکذب اور کثیر الکذب ہو کذب تو کذب ہی ہے ۔ ہم نے تو مطلقا ہی یہ جرح کتب رجال میں پڑھی ہے ۔

 مولانا ابوانس طیبی صاحب نے مزید کہا کہ :یہ قلیل الکذب کی اصطلاح تو کتاب و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے ۔بتائیں کیا شیخین نے صحیحین میں کسی ایسے راوی سے روایت لی ہے یا کسی اصول حدیث کی کتاب میں یا علم رجال و علل کے ماہر ائمہ سے کس نے یہ قلیل الکذب کی اصطلاح بیان کی ہے

مولانا انس جندوی حفظہ اللہ نے کہا :قال الامام مالک رحمہ اللہ :لا یوخذ العلم من اربعۃ وذکر منھم : من یکذب فی حدیث اناس ۔۔۔واتفقت کلمۃ اہل الحدیث قاطبۃ علی ما قال مالک ۔۔۔لم یخالف فی ذلک احد۔۔ولم یقل : من یکثر من الکذب ۔۔۔بل قال من یکذب ۔۔واللہ الھادی الی سواٗ السبیل ۔ان کان کاتب ھذا لدیہ حجۃ و برھان فلیاتنا بہ ،،والا فلیرجع الی جادۃ الصواب وھو المامول ان شاٗ اللہ وعلی اللہ التکلان

 ڈاکٹر حمزہ مدنی حفظہ اللہ نے محمد حماد کی پوست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا :

بالکل بکواس ۔۔۔ جھوٹ دین کی روایت میں ثابت نہ بھی ھو، بلکہ صرف دنیاوی امور میں بھی ایک دفعہ ثابت ھوجائے، تو محدثین کرام کے ھاں راوی کی ذات ناقابل اعتبار وناقابل اعتماد بن جاتی ھے ۔۔۔ راوی کے متہم بالکذب ھونے کا یہی مطلب ھے۔

یہ احتیاط دین کی روایت کے احتیاط کی وجہ سے اختیار کی گئی ھے۔

مزید لکھتے ہیں :

شیخ امن پوری حفظہ اللہ کے شاگرد ھیں؟ تعجب کی بات ھے ۔۔۔

شیخ گرامی تو کھل کر اسے غلط بتا رھے ھیں

مولانا امن پوری حفظہ اللہ نے وضاحت کرتے ہوئے ریکارڈنگ میں کہا کہ حماد صاحب نے بطور طنز یہ بات کی ہے

مولانا اکبر علی سلفی حفظہ اللہ نے اس پر لکھا کہ

[8:42 AM, 1/28/2018] اکبر علی سلفی: شيخ محترم…

يه بات بطور طنز بهي مناسب نهيں هے…

اميد هے كه آپ ميري اس بات سے متفق هوں گے…

شيخ محترم….

يه آپ كا شاگرد هے لهذا آپ اسے كچه نصيحت كر ديں تاكه دوباره يه اس طرح كي كوئي حركت كر كے آپ كا نام نه خراب كرے…

الله اسے اچها لكهنے كي توفيق دے…

مولانا ابوسفیان میر محمدی حفظہ اللہ نے کہا :یہ فعل خواہ بطورطنز بھی ہو بالکل درست نہیں ، بہرحال ہماری شیخ امن پوری حفظہ الله سے مؤدبانہ عرض ہے کہ اپنے ان شاگردوں کی خوب کلاس لیں.
یہ ایک مستقل فن ہے…یہ کوئی کھیل تماشا نہیں ہے….اور ہاں اس طرح کا طنز کہیں حدیث رسول کو طنز کرنے کے مترادف تو نہیں ہے؟؟؟؟
امید ہے کہ میری دردمندانہ اپیل پر غور وفکر کیا جائے گا

About the author

ibnebashir

1 Comment

Click here to post a comment