نماز جنازہ میں تین صفوں کے متعلق

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ امابعد. :نماز جنازہ میں تین صفوں کے متعلق مالک بن ھبیرہ رضی اللہ عنہ سے “سنن ابی داود ” جامع ترمذی “وغیرہ کے اندر مروی ہے۔۔۔جسے عام پر طور پر ضعیف سمجھااور قرار دیاجاتا ہے۔۔ ذیل میں اس حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائے جائیں۔جسکے بعد اسکی تخریج، تصحیح وتضعیف پر بحث کی جائیگی۔ان شاء اللہ العزیز۔ مرثد بن عبداللہ الیزنی فرماتے ہیں.: كان مالك بن هبيرة اذاصلي علي جنازة، فتقال الناس عليها، جزَّأهم ثلاثة اجزاء ثم قال.: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم.: من صلي عليه ثلاثة صفوف فقد اوجب۔ تخريج الحديث. : اخرجه البخاری فی ” التاریخ الکبیر “(۴ /۳۰۳)واحمد (۴، ۷۹) وابوداؤد(۳۱۶۶) والترمذی مع التحفة(۳ ،۹۶، ۱۰۲۸) وابن ماجہ (۱۴۹۰) وابن ابی شیبة(۷ / ۳۰۸ /۱۱۷۴۵) وابويعلي(۶۸۳۱) والرویانی(۲/۳۳۲) والطوسی فی ” مستخرجہ علی جامع الترمذی، والطبرانی (۱۹/۶۶۵) والحاکم (۱/ ۳۶۲) وابونعیم الاصبہانی فی “معرفة الصحابة “(۵ / ۲۴۶۷)والبیہقی (۴ /۳۰) وابن عساکر فی “تاریخ دمشق( ۱۶ / ۲۳۶ /۲۳۷)والمزی فی “تحفة الاشراف “(۸ /۳۴۹) وابن حجر فی “اتحاف المهرة “(۱۳ /۱۱۶) عن محمد بن اسحاق عن يزيد بن ابي حبيب، عنه، عن مالك بن هبيرة به.واللفظ للترمذي. اس روایت کی تصحیح وتضعیف میں علماء کے مابین اختلاف پایاجاتا ہے، بعض اسکی صحیح وتحسین کرتے ہیں،لیکن اکثر اسکی تضعیف کے قائل ہیں. * روایت کے محسنین ومصححین ۱ ـ امام ترمذی.اسے “حسن ” کہتے ہیں. ۲ ـ امام حاکم کہتے ہیں. “صحیح علی شرط مسلم. ۳ ـ امام نووی کہتے ہیں “حدیث حسن “( المجموع: ۵/ ۲۱۲) ۴ ـ ابن حجر نے “فتح الباری ” (۳/ ۲۳۹) میں امام ترمذی کی تحسین اور امام حاکم کی تصحیح پرسکوت کیا ہے..فتح الباری میں کسی حدیث کو ذکرکرکے اس پر انکا سکوت اسکی تصحیح کی دلیل ہے، اس کی وضاحت ابن حجر نے “مقدمة الفتح ” میں کردی ہے. ۵ ـ شیخ محمود سعید ممدوح( التعریف (۵/۱۵۷) اس روایت کے مضعفین. ۱ ـ علامہ البانی.( ضعیف ابی داؤد،۳۱۶۶) (ضعیف ترمذی،۱۰۲۸)(ضعیف ابن ماجہ، ۱۴۹۰) ( هداية الرواة ۲/ ۲۱۳)(احکام الجنائز،۱۲۸) البتہ اسے موقوفا “حسن “قرار دیا ہے. ۲ ـ شیخ ابن باز”فتح الباری ” (۳/ ۲۳۹)فی التعلیق علیہ ۳ ـ دکتور بشارعواد( تحقیق سنن ابن ماجہ ۳/ ۴۲) ۴ ـ شیخ زبیرعلی زئی( انوارالصحيفة ) ۵ ـ شیخ محمد عوامہ ( مصنف ابن ابی شیبہ ۷/ ۳۰۸) ۶ ـ شیخ ثناء اللہ مدنی( جائزة الاحوذي: ۲/ ۳۱۶) شیخ ابن باز کی تعلیل نقل کرکے اس سے موافقت کی. ۷ ـ شیخ عبدالستار الحماد . ( فتاوی اصحاب الحدیث ۴/ ۱۶۰)وغیرھم وجہ ضعف: مذکورہ تمام علماء کرام کی تضعیف کی وجہ محمد بن اسحاق ( مدلس)کا عنعنہ ہے، کہ انکے بقول اس نے سماع کی صراحت نہیں کی..یاد رہے ابن حجر نے محمد بن اسحاق کو کثیر التدلیس ہونے کی وجہ سے “طبقات المدلسین ” کے چوتھے طبقے میں ذکر کیا ہے، ایسے مدلسین کی تدلیس مضر ہوتی ہے، جب تک سماع کی تصریح نہیں کرینگے، اسکی روایت میں تدلیس کا شبہ باقی رہتا ہے.. خلاصہ کلام: ان علماء کے نزدیک اس روایت میں علت صرف ابن اسحاق کاعنعنہ ہے، اس لیے انہوں نے اسکی تضعیف کی ہے. لیکن احقر کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے، اور پایہ ثبوت کوپہنچ چکی ہے، کیونکہ مجھے ابن اسحاق کے سماع کی تصریح مل گئی ہے، جس سے ابن اسحاق سے تدلیس کا شبہ منتفی ہوگیا ہے.والحمدللہ علی ذالک. محترم قارئین! محمد بن اسحاق سے سماع کی صراحت اسکے تین تلامذہ کرتے ہیں. * ـ محمد بن ابراھیم بن ابی عدی البصری.( مسند الرویانی، و “تاریخ دمشق ” من طريق الروياني)واسنادھما. قوی. * ـ اسماعیل بن علیة( مستخرج علي جامع الترمذي، للطوسي) وسنده ايضا قوي. * ـ ابراهيم بن سعد الزهري( تاريخ دمشق ) وسنده قوي الي ابراهيم. پہلے کے لیے مسند رویانی کی سند ملاحظہ ہو: حدثنا عمروبن علي،( هو الفلاس) ثنا محمد بن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، قال: حدثني يزيد بن ابي حبيب به. دوسرے کے لیے مستخرج علی الترمذی للطوسي کی سند: نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ الْعَبْدِيُّ ، قَالَ : نا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ به.. تیسرے کے لیے “تاریخ دمشق ” کی سند:فأخبرناه أبو الفتح يوسف بن عبدالواحد أنا شجاع أنا ابن مندة أنا محمد بن الحسين بن الحسن نا أحمد بن الأزهر نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن محمد ابن إسحاق حدثني يزيد بن ابي حبيب بہ. لیکن ابراہیم کی اس سند میں دو باتیں ہیں، ۱ ـ اس نے اس حدیث کو مالک بن ہبیرہ سے موقوفا روایت کیا ہے، ۲ ـ اس نے اس روایت میں مرثد بن عبداللہ اور مالک بن ھبیرہ کے درمیان ایک راوی کا واسطہ ذکر کیا ہے. اس واسطہ کی صراحت امام بخاری، امام ترمذی، امام ابونعیم، امام ابن مندہ، امام ابن عساکر،امام مؤتمن الساجی، امام مزی، امام ابن حجر وغیرہ نے کی ہے، لیکن اس راوی کے نام میں اختلاف ہے، بعض نے حارث بن مخلد الزرقی کا کہا ہے، بعض نے اسے مالک بن الحارث کا نام دیاہے، پہلی رائے کے حامل امام بخاری، مؤتمن الساجی وغیرہ ہیں. ملاحظہ ہو “التاریخ الکبیر ” امام مزی نے”تحفة الاشراف ” میں “قیل ” کہکر اس خالد الزرقی کی طرف اشارہ کیا ہے.حافظ ابن حجر “النکت الظراف ” میں کہتے ہیں.: قلت: وجدت بخط ابي محمود.: انه وجد ذالك في حاشية “الترمذي ” منسوبا للمؤتمن الساجي.اھ وبذالک جزم شیخنا فی شرحہ » دوسری رائے کے حاملین درج ذیل محدثین کرام ہیں. امام ابونعیم. امام ابن عساکر امام ابن مندہ یاد رہے خالد الزرقی کو اگر چہ امام بزار نے “لیس بالمشہور “، “ابن حجر نے “تقریب ” میں “مجہول الحال”اور محققین علی التقریب “نے “مقبول ” کہاہے، لیکن حافظ ذہبی نے “الکاشف “(۲/ ۲۲۸) میں اسکی توثیق کی ہے، اور اسے “صدوق ” کا درجہ دیا ہے.اور خالد بن الحارث کا مجھے ترجمہ نہیں مل سکا.. امام ترمذی، امام ابونعیم، امام ابن عساکر نے اس واسطہ کو وہم قراردیکرجماعت کی روایت کوترجیح دی ہے،، امام ترمذی یونس بن بکیر کے طریق سے بغیر واسطہ کے مروی روایت کوذکر کرکے فرماتے ہیں: ھكذارواه غير واحد عن محمد بن اسحاق، وروي ابراهيم بن سعد عن محمد بن اسحاق هذا الحديث، وادخل بين مرثد، ومالك بن هبيرة رجلا، ورواية هؤلاء اصح. امام ابونعیم، حماد بن زيد کے طریق سے مروی اس حدیث کو بیان کرکے فرماتے ہیں «رواه جرير بن حازم، وعبدالله بن المبارك، وعبدالله بن نمير، وعبدالاعلي، عن ابن اسحاق، وخالفهم ابراهيم بن سعد، فقال: عن ابي الخير عن الحارث بن مالك، عن مالك بن هبيرة، فوقفه. امام ابن عساکر اس حدیث کو ذکرکرکے فرماتے ہیں « هكذارواه حماد بن زيد وجرير بن حازم، ومحمد بن ابي عدي البصري، وعبدالله بن المبارك، ويونس بن بكير، ويزيد بن هارون، عن ابن اسحاق، وخالفهم يعقوب بن ابراهيم(۱) بن سعد، فرواه عن ابيه عن ابن اسحاق، وزاد في اسناده الحارث بن مالك بين ابي الخير ومالك بن هبيرة، ووقف الحديث . گویا واسطہ کو نہ ذکر کرنے والے یہ روات ہیں. حماد بن زید(التاریخ الکبیر، المعجم الکبیر) جرير بن حازم( تاریخ دمشق) عبدالله بن المبارك( تاریخ دمشق) عبدالله بن نمير( ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ) عبدالاعلي، يونس بن بكير( جامع ترمذی) يزيد بن هارون( تاریخ دمشق) محمد بن ابی عدی( مسندالرویانی،تاریخ دمشق)) اسماعیل بن علیہ(مستدرک حاکم، تاریخ دمشق) محترم قارئین! ان ائمہ کرام نے مذکورہ جماعت کی روایت کو ترجیح دیکر ابراہیم کی روایت کو رد کردیا ہے.گویا انکے نزدیک اس روایت کا مرفوع ہونا اور واسطہ کی عدم موجودگی ہی راجح ہے..کیونکہ یہاں بات ہر صورت ترجیح کی ہی ہوگی، اور لازمی بات ہے ایسی صورت میں جماعت کو ہی ترجیح ہونی چاہیے، خصوصااس جماعت میں بڑے، بڑے ثقات روات موجود ہیں.. خلاصہ کلام: * ـ محمد بن اسحاق نے اپنی روایت میں سماع کی صراحت کردی ہے، لہذا تدلیس کاشبہ ختم ہے. * ـ جماعت کی روایت کو ترجیح دیکر واسطہ کو راوی کا وہم قرار دیاجائیگا، جماعت کی روایت محفوظ اور اور منفرد راوی ابراھیم کی روایت کو شاذ قرار دیاجائیگا. * ـ روایت کا مرفوع ہونا ہی راجح ہے، راوی کا اسے موقوف بیان کرنا راوی کی خطا ہے، اور اسے معلول نہیں کرسکتا. * ـ. اس حدیث میں نماز جنازہ میں تین صفوں کا جواز موجود ہے..ھذاما عندی، واللہ اعلم بالصواب.۰۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ(۱) امام ترمذی اور ابونعیم نے اس خطا کا مرتکب اسکے والد ابراھیم کو قرار دیاہے.

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment