مدلسین کی طبقاتی تقسیم، ائمہ متاخرین کے اصول، مسئلہ حسن لغیرہ۰۰۰۰۰

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

( مرتب.: ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

(۱) طبقاتی تقسیم جن مدلسین کو طبقہ اولی میں داخل کیاگیا ہے تو اسکی چند اقسام ہیں.. * سرے سے مدلس ہی نہیں، محض وہم کی وجہ سے لگے الزام کی بناء پر انہیں طبقہ اولی میں داخل کیاگیا ہے * ان پرارسال کا الزام ہے نہ کہ تدلیس اصطلاحی کا،، فبینھما فرق * ان پر تدلیس فی الاجازہ کا الزام ہے،اور تدلیس فی الاجازہ کا عنعنہ عنعنہ سے تعلق نہیں ہوتا.. * روایات کے تناسب سے انکی تدلیس بہت کم اور شاذ ونادر ہے ..اور یہ بات واضح کے کہ حکم ہمیشہ اغلب اور اکثر کا ہوتا ہے، نہ کہ شذوذ وندرت کا … اس قسم کے مدلسین طبقہ اولی وثانیہ میں مذکور ہیں…قلت تدلیس سے متصف کے علاوہ مدلسین ویسے تدلیس کے الزام سے بری ہوجاتے ہیں..باقی رہے قلت تدلیس سے متصف.. تیسرا اور چوتھا طبقہ کثیرالتدلیس سے متصف روات کے لیے ہے( اگر چہ بعض روات کے حوالے سے اختلاف کیاجاسکتا ہے) بانچواں طبقہ ضعیف مدلسین کا ہے..جو سماع کی صراحت کردیں تب بھی انکی روایت مردود ہے الاکہ انکی متابعت آجائے اگر وہ متابعت کے قابل ہوں.. نتیجہ. ..گویا اصل حکم کے اعتبار سے تدلیس کے دوہی طبقے ہوئے.. ۱ ـ.قلت تدلیس، اس میں اولی وثانیہ کے مدلسین ہیں. ۲ ـ ثالثہ ورابعہ.: اس میں کثیرالتدلیس ہیں.. گویا باقی دوہی طبقے رہ جاتے ہی.. قلیل اور کثیر…متقدمین محدثین کرام سے قلت اور کثرت کے مابین فرق ثابت ہے…مثلا امام بخاری، علی بن المدینی وغیرہ.. لہذا یہ کہنا کہ طبقات متقدمین محدثین سے ثابت نہیں،، بلکل بچگانہ اعتراض ہے…. (۲) (ائمہ متقدمین ومتاخرین کاشوشہ، اور ائمہ متاخرین کے اصولوں کی حجیت)

بعض حضرات ائمہ متقدمین اور ائمہ متاخرین کوآمنے سامنے لاکر ائمہ متاخرین کے اصولوں کوکلیتا رد کردیتے ہیں، تو ایسوں کے لیے عرض ہے کہ کیاخبر متواتر ائمہ متقدمین سے ثابت کرسکتے ہیں.. کیاحسن لذاتہ کی اصطلاح ائمہ متقدمین سے ثابت کرسکتے ہیں..؟؟ جب کہ ان حضرات نے اپنی تازہ کتاب میں یہ دونوں اصطلاحات بھی ذکرکی ہیں. کیاامام ترمذی کا متساہل ہونا ائمہ متقدمین سے ثابت کرسکتے ہیں..؟؟؟ کیاامام ابن خزیمہ کا متساہل ہونا ائمہ متقدمین سے ثابت کرسکتے ہیں..؟؟ کیاامام عجلی کا متساہل ہونا ائمہ متقدمین سے ثابت کرسکتے ہیں… ائمہ متاخرین کو کس طرح بے دردی کے ساتھ ردی کی ٹوکری میں پھینکا جارہا ہے…یہ قطعا قطعا قطعا غلط راستہ ہے جو ائمہ متقدمین اور ائمہ متاخرین کے درمیان دراڑ لگا کر انکو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کرتے ہیں.. بہت ساری اصطلاحات ایسی ہیں جنکی اگر ائمہ متاخرین وضاحت نہ کرتے تو ہم وہی کے وہی رکے ہوتے… انہوں نے ائمہ متقدمین کے تعاملات سے استنباط، اور استقراء کرکے ہمارے لیے اصول وقواعد بنائے…ہمیں تو انکا احسان مند ہوناچاہیے تھا..لیکن افسوس در افسوس کہ ہم احسان فراموشی کررہے ہیں…کیا احادیث میں ہر مسئلہ نصا بیان ہوا ہے..یا اجتہاد اور قیاس بھی کیاجاتا ہے.ائمہ متقدمین نے اصول وضع کیے..لیکن اسکے ساتھ انکے تعاملات بھی ہیں جن سے ائمہ متاخرین نے استخراج واستنباط کر کے اصول وضع کیے…گویاان اصولوں کی اصل ائمہ متقدمین کا تعامل ہی ٹہرا..بلکل اسی طرح جس طرح جس طرح قیاس کی اصل قراں مجید وحدیث مبارک میں موجود ہے…. دکتور شیخ حمزہ مدنی حفظہ اللہ فرماتے ہیں. : متقدمین کا تحقیق حدیث کے سلسلہ میں جو تعامل تھا اسے ھی تو اھل تدوین نے فن کی صورت دی ھے ۔۔۔ اگر تدوین کے بجائے سب کچھ ماقبل زمانہ تدوین کے آئمہ کے واضح تھا تو اھل تدوین کا سارا کام جھک مانے اور یبڑیاں مارنے کے سوا کیا رہ جاتا ھے ۔۔۔ یا للعجبمتقدمین کے ھی اتفاقی تعامل کو بعد والوں نے جب ایک فن کی صورت دیدی ھے اور اسے تمام محدثین کے ھاں بلا اختلاف قبول بھی کیا گیا ھے تو اب یہ کونسا انداز ھے کہ “آپ متقدمین محدثین سے طبقات ثابت کردیں میں بات تسلیم کرلوں گا”بات کرنے سے پہلے سوچیں، پھر اسے تولیں پھر اسے بولیں… مزید کہا کہ.: بلکہ یہ حضرت فن مصطلح کی کون کون سی اصطلاحات کو اپنے سطحی معیار نقد سے متقدمین سے پیش کرسکے گے؟!یہاں تو سیکڑوں مصطلحات ھیں جن کو فن حدیث کی کتب ھی سے معلوم کیا جاسکتا ھے، متقدمین میں انہیں بطور ضابطہ ومصطلح جاننے کا ھمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ماسوائے متاخرین کے فن حدیث کے!!چنانچہ خطرناک دروازے نہیں کھولنے چاھییں کہ فن حدیث ھی مشکوک ٹھہر جائے۔۔۔( ان) صاحب جیسی باتیں ھم نے منکرین حدیث مثل غامدی وغیرہ سے براہ راست استخفاف حدیث کے ضمن میں سنی ھیں ۔۔۔ در اصل پرویز وغیرہ نے تو حدیث وسنت کی حجیت کا انکار صاف صاف، لگی لپٹی بغیر کھل کر دیا تھا تو عوام الناس نے بہت شدید رد عمل کا مظاھرہ کیا تو بعد کے منکرین نے انداز تاویلیں اختیار کرلیا ھے ۔۔۔ اب شبلی، تقی امینی، اصلاحی، غامدی وغیرہ کا انداز انکار حدیث یہ ھے کہ “حدیث کی حجیت تسلیم لیکن محدثین تھے تو آخر انسان تھے اور ان کا مرتب کردہ فن حدیث جامع وکامل نہیں ۔۔۔ ان کا فن روایتی وسندی معیار کے اعتبار سے تو معیاری ھے، لیکن درایتی نقد کے پہلو سے ناقص ھے اس لیے احادیث ھم تک محفوظ حالت میں پہنچ نہیں سکیں “۔۔۔۔ ذرا یہ بات نوٹ کریں کہ ان منکرین میں بھی اتنی جرات نہ تھی کہ کھل کر محدثین کے فن حدیث پر اسنادی روایتی جہت سے انگلی اٹھاتے لیکن ھمارے آجکل کے بے سمجھ ان سے آگے بڑھ کر اپنے اسلاف پر یہ طعنہ زنی کرتے ھیں کہ نہیں نہیں! محدثین کرام کا فن تحقیق سندی اعتبار سے بھی غیر محفوظ وغیرمعیاری ھیں ۔۔۔ والعیاذ باللہ اللہ تعالیٰ فتنوں سے بچائے. بلکہ متقدمین و متاخرین کے درمیان رسہ کشی کا یہ گھناؤنا کھیل صرف فن حدیث تک محدود نہیں رھے گا، بلکہ تمام شرعی فنون (عقیدہ، اصول فقہ، منھاج تفسیر، فن تجوید وقراءات وغیرہ) اور آلی علوم نحو و صرف بلاغہ وغیرہ جو کہ اھل تدوین کی کاوشوں ھی سے محفوظ صورت میں ھم تک پہنچے ھیں اور اگر بالفرض۔۔۔ نعوذ باللہ ۔۔۔۔ یہ فنون ھم دریا برد کردیں تو اسلاف اول (صحابہ وتابعین واتباع وغیرہ) کے اجماعی تعامل اور علمی تصورات کو مکمل صورت میں جاننے کا ھمارے پاس کوئی ذریعہ ھی نہیں رہ جاتا ۔۔۔ کیا مدونین کی علمی و فنی کاوشوں پر عدم اعتماد کروانے حضرات نحو و صرف اور بلاغہ ومنطق وغیرہ کی اساسی باتوں کو بھی تسلیم کرنے کے جاھلانہ نظریہ کے حامل ھیں کیونکہ یہ سب کچھ بھی تو اھل تدوین کی پیش کردہ خدمات ھیں جن پر ھمارے یہ کرم فرما مطمئین نہیں .جب لوگوں کی علوم دینیہ میں رسوخ اور فنون سے متعلق اساسی تصورات سے لاعلمی کی حالت یہ ھو کہ وہ علوم کی تدوین اور اس سے متعلقہ بنیادی باتوں سے بھی واقف نہ ھوں لیکن خود کو علامہ فہامہ سمجھ بیٹھیں تو انتظار کریں کہ وہ دیگر بڑے بڑے انکشافات بھی مستقبل قریب میں فرمائیں گے ۔۔۔ کسی بات سے ناواقفیت ھو تو اس کی معرفت ھونا اور خاموش رہ کر لا اعلم کا اقرار کرنا۔۔۔۔ یہ بھی آدھا علم ھے، چہ جائیکہ انسان اپنی لاعلم شخصیت کے تعارف کے اشتہار نصب کرنا شروع کردے ۔۔۔ اور اگر مکابرت پر مبنی یہ سب کچھ آئمہ اسلاف کے بالمقابل ھو تو یہ رویہ میری مذکورہ باتوں سے بھی کئی گنا زیادہ خطرناک ھوجاتا ھے ۔۔۔۔ اھ شیخ محمد صارم حفظہ اللہ فرماتے ہیں.: ابن حجر رحمہ اللہ کا خاصہ یہ ہے کہ انہوں نے متقدمین کی کتب کی تنقیح کر دی ہے اور مصطلاحات کو ان کے مقام پر ایسے رکھ دیا ہے کہ بعض اصطلاحات جن کی تعریفات میں ٹکراو تھا وہ ختم ہو گیا۔مثال کے لئے ((النکت)) میں ارسال کی بحث دیکھی جا سکتی ہے۔اھ (۳)( حسن لغیرہ حدیث) حسن لغیرہ امام ترمذی سے ثابت ہے..بلکہ وھو اول من اشھرہ…قالہ ابن حجر.. انہوں نے اسکو شہرت دی..یہ نہیں کہ اسکے موجد ہی وہی ہیں…گویا یہ اصطلاح اوروں سے بھی ثابت ہے….مگر چونکہ امام ترمذی نے کثرت کے ساتھ اپنی کتاب میں اسکا ذکر کیا ہے..لہذا اسی لیے انکو اسکی شہرت کرنے والا کہاجاتا ہے….کہنے کا مقصد ..کیاامام ترمذی ائمہ متقدمین میں سے نہیں…. ان صاحب نے اپنی تازہ کتاب میں انکارکردیا ہے کہ امام ترمذی حسن لغیرہ کے قائل ہیں…اناللہ واناواناالیہ راجعون…آپ اصول حدیث کی کتب اٹھاکر دیکھیں تقریبا ہر مصنف نے اس اصطلاح امام ترمذی کی طرف منسوب کیا ہے..تو کیا انہوں نے وہ محض ظن، تخمین اور تقلیدا ایسا کہا ہے..یہ سارے جواب میری زیر ترتیب کتاب میں آرہے ہیں..ان شاءاللہ العزیز… آخری اور اہم بات…اور قابل غور بھی ..محدثین کرام نے تین قسم کی روایات جمع کی ہیں.. ۱ ـ صحیح ۲ ـ قلیل الضعف روایات ۳ ـ شدید الضعف روایات اول قسم پرتو کلام ہی نہیں.. تیسری قسم…یہ بتانے اور متنبہ کرنے کے لیے کہ کس کس قسم کے ظالم لوگ پیدا ہوگئے تھے….اور سب سے بڑھ کر ایمانداری سے یہ پورا حصہ منتقل کردیا..اور بھی فوائد ہیں دوسری قسم….تو اسکو اس لیے جمع کردیا تاکہ اگر اسکا کہیں شاہد یا متابع ہوتو اسکے ساتھ یہ قوت پکڑلیگی…. اور اس حوالے سے ایک بھی محدث سے یہ ثابت نہیں کیاجاسکتا کہ اس نے صحیح شاہد یامتابع کی قید لگائی ہو..اور حقیقت بھی یہی ہے…ورنہ اگر لازمی طور پر صحیح متابع یاشاہد کو ہی تلاش کیاجائے تو پھر ضعیف کی ضرورت ہی کیارہیگی جواسکے لیے صحیح متابع تلاش کیاجائے….؟؟ امام ترمذی رح ائمہ متقدمین میں سے ہیں…انہوں نے اپنی کتاب میں حسن لغیرہ کوکثرت کے ساتھ ذکرکیا ہے.. اور انکے دور سے لیکر پانچویں، چھٹی صدی ہجری تک ــ سواء ابن حزم کے ــ کسی ایک بھی محدث سے ان پر نکیر ثابت نہیں..آخر کیوں…؟؟ اگر نئی اصطلاح وضع کیجارہی ہے، جس پر ہزاروں احادیث کا فیصلہ ہے..اگر اس اصطلاح. سے ائمہ متقدمین واقف نہ ہوتے تو کیا وہ اسدد پر خاموش تماشائی بیٹھے رہتے….؟؟ ابن حزم کا تشدد اور شذوذ معروف ہے..لہذا انکی بات قابل التفات نہیں… شیخ زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس پر نکیر ثابت نہیں وہ اجماع ہے…لہذا امام ترمذی کی حسن والی اصطلاح پر ائمہ متقدمین سے نکیر ثابت نہیں.لہذاانکےبقول اجماع ہوا…اگر ابن حزم کو لاتے ہیں نکیر ثابت کرنے کے لیے تو پھر ابن مسعودرضی اللہ عنہ بھی قران مجید میں معوذتین کے قائل نہیں.ملاحظہ ہو “توضیح الکلام “.تو لہذا یہاں پر اجماع قرآن سے پھر انکار کردیں.. اس ساری تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ ائمہ متقدمین اور ائمہ متاخرین کاشوشہ چھوڑنا ترک کردیں…ورنہ پھر ائمہ متقدمین کے الگ اصول،، اور ائمہ متاخرین کے الگ اصول “کے نام سے. کتاب لکھ کر امت پر عظیم احسان کرکے چلے جائیں…امت بیچاری پہلے ہی بڑے بڑے فتنے سہ رہی ہے…ایک یہ بھی سہی…جیسے تیسے سہلیگی…1/24/18, 10:39 AM –

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment