ڈاکٹر مرتضی بن بخش کو پہچانیے ؟؟

تحریر ابوالمحبوب الحافظ انورشاہ راشدی

بسم اللہ الرحمن الرحیم بخشی حضرات محض اپنے امام حضرت مرتضی بن بخش صاحب کو بچانے کے ہی چکر میں ہین،، بس طریقہ یہ اپنایا کہ دوسروں پر کیچڑ اچھالیں، تاکہ مخالفین بس اپنے علماء کے تزکیہ کو بچانے میں ہی مصروف رہیں،،، یہ طریقہ خالصتا شیعانہ ہے،، وہ یہی کیا کرتے تھے کہ سنیوں کو انکی کتب احادیث میں ایسا پھنسائے رکھیں کہ ہماری کتب کی طرف متوجہ ہی نہ ہوسکیں،،یعنی وہ صرف اپنی کتب کے دفاع میں ہی لگے رہیں، اور کسی چیز کا بھی نہ سوچیں، کیونکہ پتہ تھا کہ اگر انکی توجہ ھماری کتب کی طرف ہوگئی تو جو گند ان کتب میں موجود ہے، اسے باہر نکال کر عام کردیا جائیگا،،جس سے ان کی چھپی ہوئی خباثت ظاہر ہوجائیگی. ان بخشی حضرات کا بھی طریقہ واردات یہی ہے کہ بس ہم کو اپنے علماء کرام کے تزکیہ کی فکر پڑی رھے، اور انکا ہی ہر وقت دفاع کرتے رہیں،، لیکن ہمارے علماء کو ہمارے دفاع کی کوئی ضرورت نہیں،،، انکا تعارف، خدمات اور سلفی ہونا اس قدر واضح ہے کہ انہیں تزکیہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں۰۰۰ یاد رہے یہ تزکیہ وغیرتزکیہ ایک قسم کی جرح وتعدیل ہے،، اور جرح وتعدیل بھی اس کی مقبول ہے جو واقعی اس پلہ کا ہو اور اس میں جرح وتعدیل کرنے کی خوبیاں وشرائط باتم موجود ہوں،، ورنہ ازمنہ سابقہ میں ایسے جارحین وناقدین بھی ہوگذرے ہیں کہ جنکے اقوال کو مردود سمجھاگیا ہے کہ وہ انکی اہلیت نہیں رکھتے تھے،، لہذا یہ جرح وتعدیل یاتزکیہ کرنا بھی ہر ایرے غیرے کا حق نہیں کہ وہ اٹھ کر آنا، فانا اپنی مرضی سے تزکیہ اور جرح وتعدیل کرناشروع کردے،، اس کے اصول، ضوابط اور قواعد ہیں،، کیا مرتضی بن بخش صاحب ان اصولوں، اور قواعد سے واقفیت رکھتے ہیں، ؟؟کیاانہیں اس بات کا علم ہے کہ جرح وتعدیل اور تزکیہ کے لیے کو نسی باتیں مد نظر رکھنی پڑتی ہیں،، ؟؟ مرتضی بن بخش صاحب یہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ پاک وہند میں سلفی کون ہے،، مجھے نہیں پتہ…؟؟ تو عرض ہے کہ یہ زمانہ سوشل میڈیا کا ہے،، پاک وہند کے علماء اور انکی خدمات اس قدر معروف ہیں کہ جن کی وضاحت محتاج بیان نہیں، لیکن اسکے باوجود بھی اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ” میں نہیں جانتا ” تو یہ کلمہ “جنکو وہ نہیں جانتے ” ان( علماء)کے لیے نہیں، بلکہ خود انکے لیے مضر ہے۰ کیونکہ معرفت کے اس قدر وسیع پیمانے پر وسائل اور زرائع ہونے کے باوجود بھی انکو بروئے کار لاکر پاک وہند کے سلفی علماء کو نہ جان سکے تو یہ انکی اپنی کمزوری اور انکا اپنا قصور ہے، امام ابن حزم رح سے منقول ہے کہ وہ امام ترمذی اور امام ابوالعباس الاصم رح کو مجہول کہاکرتے تھے، تو انکے اس طرز پر ائمہ نقد نے ان پر بڑے تعجب کااظہار کیا ہے کہ اس قدر معروف شخصیات کی معرفت سے وہ کیسے ناواقف رہے، لہذا اگر انکو پاک وہند کے سلفی علماء کا علم نہیں تو یہ تعجب اور افسوس خود ان پر ہے نہ کہ دوسروں پر۰۰۰آخر میں ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ موجودہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ یہ پتہ لگائیں کہ پاک وہند میں سلفی علماء کون سے ہیں، ورنہ یہ انکا قصور تصور کیاجائیگا۰۰۰۰۰۰( ابوالمحبوب عفااللہ عنہ)1/24/18, 10:48 AM –

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment