مخطوطات کی دنیا

۰۰۰۰( ابوالمحبوب سيدانورشاه راشدي)

دنیا میں دو ممالک مخطوطات کے اعتبار سے بہت اہمیت کے حامل ہیں، (۱): ترکی، (۲): ایران. ایران چونکہ کسی دور میں بڑی ایرازی پر مشتمل ملک اور محدثین، جراح، نقاد اور محافظین حدیث کے لیے ایک زبردست آماجگاہ اور مسکن رہا ہے،، جس میں بے شمار محدثین پیدا ہوئے، دوردراز علاقوں سے سفر کرکے طلب حدیث کے لیے اس میں وارد ہوئے ،، ایران کا ایک علاقہ “شہر نیسابور ” علمی دنیا میں اور محدثین کے محطہ کے حوالے سے بہت زیادہ مشہور ہے،، تقریبا ہر بڑا محدث وہاں ضرور علم حدیث کو حاصل کرنے جاتا تھا، امام ذہلی، امام مسلم، امام حاکم، امام بیہقی، جیسے کبار محدثین اور حفاظ حدیث اسی علاقہ اور شہر “نیسابور “کے ہی مکین اور رہائشی تھے،،، ان جیسے عظیم المرتبت وعظیم الشان جماعت کی وجہ سے “نیسابور ” شہر کو دنیا میں بہت شہرت، اور پذیرائی حاصل ہوئی،امام بخاری جب شہر” نیسابور ” جارہے تھے، امام ذہلی اسکی اطلاع پاتے ہوئے اہل علاقہ کو امام بخاری کے لیے استقبال کرنے کے لیے جانے کو کہا، اور اہل نیسابون نے بڑے پرتپاک اور شاندار انداز میں انکااستقبال کیا، امام محمد بن یحی الذہلی کو نیسابور میں وہ مقام ومرتبہ حاصل تھا، جیسا کہ امام بخاری کو اپنے علاقہ میں اعزاز ومرتبہ ملاتھا،وہ امام زہری کی تمام احادیث کے حافظ تھے، اوراس حوالے سے انہوں نے “الزہریات “کے نام سے ایک کتاب بھی تالیف فرمائی تھی، افسوس کہ وہ اس وقت ناپید ہے،، چونکہ امام زہری حدیث کے بہت بڑے حافظ تھے، وہ ہمیشہ منکرین حدیث کے نشانے پررہے ہیں،اور ہیں، امام مسلم کامقام کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،وہ امام بخاری کے حقیقی جانشین رہے ہیں، اور انہیں اپنے شیخ( امام بخاری) سے بے پناہ اور بے حد محبت تھی، صحیح مسلم انکی دین اسلام کے لے عظیم خدمت شمار کی جاتی ہے، امام حاکم رحمہ اللہ، جنکی حدیث، اصول حدیث اور علم الرجال پر بے پناہ خدمات ہیں، انہیں تصنیف وتالیف کاخوب ملکہ حاصل تھا، ائمہ کرام انکے تصنیفی انداز کو سراہتے ہیں، اور اس حوالے سے انکی ثناء میں رطب اللسان ہیں، آپ نے محسوس کیاکہ “نیسابور “اتنی بڑی اہمیت کاحامل شہر ہے، لیکن کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ وہ اسکے محدثین کی تاریخ کو بیان کرے ، اوراسکے محدثین کے حالات زندگی جمع کرے اور لکھے ، اسی وجہ سے وہ خود اس عظیم کام کے لیے تیار ہوگئے، اور ایک زبردست وعمدہ کتاب “تاریخ نیسابور ” کے نام سے تالیف فرمائی، جسے محدثین “سید التواریخ ” کے نام سے یاد کرتے ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ تاریخ اس وقت دنیا میں مفقود ہے،جدامجد رحمہ اللہ اس کتاب کے بے حد مشتاق تھے، “کتاب القراءة “للبيهقي کے جب رجال جمع کررہے تھے تو انکو اسکی ضرورت محسوس ہوئی،اور اپنی کتاب میں ایک راوی کے متعلق کہاہے کہ امید ہے اسکے حالات “تاریخ نیسابور ” میں قدرے مذکور ہونگے اوکماقال. ہمارے اسلاف کی آنکھیں انتظار کرتی کرتی بے شمار کتب کو بنا دیکھے دل میں انکی آس لیکر اس دنیا سے رخصت ہوگئے، جس دن “تاریخ نیسابور ” چھپ کر منظرعام پر آئیگی وہ دن شائقین علم علم الرجال کے طلباء کے لیے بڑی مسرت اور خوشی کادن ہوگا، اللھم یسر.کسی ساتھی نے کہاکہ میں نے یہ کتاب “تاریخ نیسابور” ایران میں کسی شخص کے پاس دیکھی ہے، لیکن مخطوطات وقلمی کتب کے ماہر شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ اسکی تردید کرتے ہیں، اور یہی بات حق ہے، اس کتاب کا فی الحال کوئی اتاپتہ نہیں، امید ہے ایران اور ترکی کے مکتبات کے خزانے جب کھلیں گے تب شاید یہ لاجواب اور فقیدالمثال کتاب وہاں سے ظاہر ہوجائے.وماذالک علیہ بعزیز. امام بیہقی، امام حاکم کے اخص تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں، جنکے متعلق کہاگیا ہے، امام شافی کا شوافع پر احسان تھا، مگر امام بیہقی، کا امام شافعی پر احسان ہے،آپ تصنیف وتالیف کی وجہ سے منقطع ہوکر اپنی بستی میں منتقل ہوگئے، جہاں دین کی خدمت میں حدیث پر عمدہ کتابیں تصنیف کیں، آپ ایران کے شہر “بیہق ” کے مکین ورہائشی تھے، “السنن الکبری ” معرفة السنن والآثار ” الخلافيات ” السنن الصغير “جیسی عظیم کتب امت محمدی کو تحفة دیکر اس دنیاسے رخصت ہوگئے،۰۰۰۰۰۰۰( جاری ہے)

(((ایران وترکی: ۲)))۰۰۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی) کہاجاتا ہے ایران، نامی ایک شخص تھا، جو حضرت نوح علیہ السلام کا پڑپوتاتھا، جسکا سلسلہ نسب یوں ہے: ایران بن الاسود بن سام بن نوح علیہ السلام، ملک ایران کسی دور میں دس بڑے علاقوں پر مشتمل ایک عظیم سلطنت تھا،،اور وہ دس علاقے یہ ہیں،: ـ خراسان، سجستان، کرمان، مکران جیلان، سیدان، جرجان، آذربائیجان، ارمنان، مؤرخ یاقوت حموی، رومی نے ان ناموں کی ایک وجہ یہ بتائی ہے کہ “ایران “نامی شخص کے دس بیٹے تھے، جن کے نام یہ تھے، ان میں سے ہرایک کی طرف ان علاقوں کی نسبت ہوگئی ( معجم البلدان: ۱/ ۲۸۷) یاد رہے،، یاقوت حموی، بہت بڑے، ادیب، مؤرخ، نحوی ، شاعراور مصنف تھے،،آپ کی کتب کو قابل اعتماد سمجھاجاتا ہے،، البتہ خوارج کی کتب پڑھنے کی وجہ سے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تعصب رکھتے تھے، یعنی ان میں ناصبیت تھی،،، حافظ ذہبی کہتے ہیں، اسی وجہ سے “اہانت “کاسامنا کرنا پڑا،، ( السیر: ۲۲/ ۳۱۲) خیر ، پھر یہ دس بڑے علاقے بھی چھوٹے چھوٹے شہروں، اور بستیوں پر مشتل تھے، خراسان،،، ایران کا یہ علاقہ بہت وسیع تر تھا، نیسابور، طوس، دامغان، اسفرایین، ھمذان، اسداباذ، ساوہ، ری، قرمیسین،نسا، سرخس، بیہق، أبیوَرد، رامران، محمدابازی، ابزاز، استراباذ، وغیرہ بہت سارے علاقے اسی میں شامل تھے، محدث ابوسعید السمعانی کے بقول خراسان میں ہر فن کے اہل علم اتنے رہے ہیں کہ جنہیں گناہی نہیں جاسکتا ( الانساب: ۵/ ۷۰ ـ مادہ: خراسانی) تاتاریوں نے جب بغداد کی طرح ان علاقوں کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی، اور ہرطرف خون کی ندیاں بہنے لگیں،، علم،محدثین، مؤرخین، ادباء، مصنفین کی سجی مسندوں،اور انکی آمجگاہوں کی رونقوں کو بے نور کررہے تھے، خوب صورت معطر فضائوں کی خوبصورتی کو مسخ کررہے تھے،، صدیوں پر محیط محنتوں سے لکھی گئی کتب اور جمع کیے گئے بے شمار کتب کے خزانوں کو دریاء برد کررہے تھے، ان حالات کو مؤرخین نے قیامت سے تعبیر کیا ہے،، تو ایسے اجڑے حالات کو دیکھتے ہوئے مؤرخ یاقوت حموی “خراسان “پر آہ وزاری کرتے یوں شاعری کرتے ہیں: « وكان لعمر الله ذات رياض اريضة، واهوية صحيحة مريضة، غنت اطيارها، وتمايلت اشجارها، وبكت انهارها، وضحكت ازهارها، وطاب نسيمها، فصح مزاج اكليمها، اطفالهم رجال، وشباههم ابطال وشيوخهم ابدال، فهان علي ملكهم ترك ترك المماليك، ……يانفس الهوا لكِ ، والافانت في الهوالك، ……. آگے کہتے ہیں: فمررت بين سيوف مسلولة، وعساكر، مغلولة، ونظام محبولة، ودماء مسكوبة، مطلولة، ولولاالاجل لالحقت بالالف الف اويزيدون ( السیر: ۲۲/ ۳۱۳) اللہ اکبر،، خراسان کے پرندے گنگنارہے ہیں،جسکے درخت جھکے ہوئے ہیں، جسکی نہریں رورہی ہیں، جسکی خوبصورتی ہنس رہی ہے، …. بچے، مرد ہیں، اسکے مرد شجاع اور دلیر ہیں، انکے بوڑھے ابدال ہیں،،،، تلواریں،،نیاموں سے نکلی ہوئی ہیں،،لشکر سخت پیاسے ہیں، خون بہہ رہا ہے،میں اس سارے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے گذررہا ہوں. تاتاریوں کے ظلم وستم اور بربریت اسلامی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے،، جس میں بے شمار مسلمان، مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کا بلا تفریق قتل عام ہوا، مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی،مسلمانوں کو قیدی بنادیاگیا، مؤرخین، ومحدثین اس ہیبت ناک منظر نامہ کو بیان کرتے ہوئے کانپ جاتے ہیں، عمارات، مدارس کو منہدم کیاگیا،فصلوں کو آگ لگادی گئی، انکے اموال ضبط کیے گئے،چونکہ یہ تاتاری ایک وحشی قوم تھے، انہیں منگول کہاجاتا ہے، جو چین کے علاقوں میں آباد تھی.، جو تعلیم ومذہب سے سرے سے ناآشنا تھے،،مسلمانوں کے عظیم کارنامے انکی کتاب اور کتب خانے تھے،، صدیوں پر محیط سلسلے پر بے شمار محدثین پیدا ہوئے، جنہوں نے بے شمار کتب لکھیں،، ایک، ایک محدث سینکڑوں کتابوں کا مصنف تھا،، اس ظالم اور فسادی قوم نے مسلمانوں کے اس عظیم سرمائے کو برباد کرکے رکھ دیا،،یہ سارا ظلم سنیوں کے ساتھ ہوا،، اور اس سارے ظلم کے مجرم اور مکھیہ کردار ادا کرنے والے یہ رافضی ہی تھے، جنہوں نے اس بے لگام قوم کو خلافت اسلامیہ پر اٹیک کرنے اور دھاوا بولنے کی دعوت دی،، اللہ تعالی نے اس ذلیل اور کمینہ شخص ابن العلقمی کو بھی نشان عبرت بنادیا، جس نے یہ ساری ہولی مسلمانوں کے خون سے کھیلی…. ۰۰۰۰( جاری ہے)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment