تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنا ؟

از ابوالمحبوب الحافظ انورشاہ راشدی حفظہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم. تکبیرات عیدین کے ساتھ رفع الیدین کرنے پر استدلال کرنے کے لیے ابوداؤد، دارقطنی اور سنن الکبری للبیہقی وغیرہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی شدہ روایت کاجائزہ جناب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:يَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ۔ (سنن ابی داؤد ج۱ص۴۶۴رقم ۷۲۲ والبغوی فی شرح السنۃ: ج۳ص۲۲وسنن دارقطنی: ج۱ص ۲۸۸)’’رسول اللہﷺ رکوع سے پہلے ہر تکبیر پر اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے حتی کہ آپ کی نماز ختم ہوجاتی۔‘‘شرح السنہ کے محقق نے اس حدیث کے بارے میں کہا کہ اس کی اسناد صحیح ہیں۔ بقیہ صحیح مسلم کا راوی ہے ار مختلف فیہ ہے۔ حافظ ذہبی(متوفی۷۳۸ھ) نے کہا:وَثِقَه الْجَمْھُوْرُ فِیْمَا سَمِعَه مِنَ الثقات وَقَال إِذَا قَالَ ثَنَاوَنَا فَھُوَ ثقة۔’’بقیہ کو ثقہ قرار دیا ہے جب وہ ثقہ راویوں سے سماع کی تصریح کرے۔‘‘نسائی نے کہا جب وہ حد ثناواخبرنا کہے تو ثقہ ہے۔ (الکاشف ۱؍۱۰۶رقم ۶۲۶)بقیہ نے اپنے استاد الزبیدی سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ الزبیدی کا پورا نام محمد بن الولید بن عامر ہے۔ (سنن الکبریٰ للبیھقی ۲؍۸۳) جواب. : جب تک کسی حدیث کے جمیع طرق جمع نہیں کیے جاتے تب تک اس پر حکم نہیں لگایا جاسکتا ..عرض ہے کہ یہ کوئی مستقل روایت نہیں…جو اس سے تکبیرات عیدین پر استدلال کیا جاسکے..بلکہ یہ وہی ابن عمر سے مروی معروف حدیث کا ہی ایک طریق ہے جو بخاری ومسلم وغیرہما میں موجودہے،، اس طریق میں دو احتمالات پائے جاتےہیں،، ۱ ـ یرفعھما فی کل تكبيرة يكبرها قبل الركوع ” سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ نماز کی تمام رکعات میں رکوع میں جانے سے قبل رفع الیدین ہو.اس پر حدیث کے یہ الفاظ “حتی تنقضی صلاتہ ” بھی دلالت کرتے ہیں،،، کہ جب تک نماز جاری رہے، تمام رکعات میں رکوع میں جانے سے قبل تکبیر کے ساتھ رفع الیدین ہوگا. اور اس طرح مطلب لینے سے یہ روایت اس باب میں موجود باقی روایات سے بھی متفق ہوجائیگی،، اور اصول الحدیث کا اصول بھی یہی ہے کہ اولا بظاہر مختلف فیہااحادیث کے مابین تطبیق وتوفیق دی جائیگی، اگر بغیر کسی تکلف وتعسف اور دور کی توجیہ کے بغیر ممکن ہو،، ورنہ پھر ترجیح کی صورت اختیار کی جائیگی…لہذا جمع وتطبیق کو مدنظررکھتے ہوئے اس حدیث سے یہی مطلب اخذ کیا جائے تو پھر اسکا وہی مطلب ہوگا جو اوپر بیان ہواکہ اس سے مراد نماز کی تمام رکعات میں رکوع میں جانے سے قبل(جو تکبیر کہی جاتی ہے ) رفع الیدین ہو، ۲ ـ رکوع سے قبل تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین ہو،، جیسا کہ اوپر یہی استدلال کیا گیا ہے اور کیا جاتا ہے،، یعنی اس حدیث میں یہ دو احتمالات پائے جاتے ہیں،، لازمی بات ہے جب احتمالات آجائیں تو پھر اس صورت میں حتمی طورپر کسی ایک احتمال کوترجیح دینے کے لیے کوئی خارجی دلیل اور قرینہ مطلوب ہوتا ہے،، اگر اس حدیث میں دوسرے احتمال کو ترجیح دینی ہے تو کوئی خارجی دلیل یا قرینہ پیش کیا جائے، جس سے اسکا یہ احتمال یقین اور جزم میں بدل جائے،، اور اگرپہلے احتمال کو ترجیح دینی ہے تو پھر اس کے لیے بھی دلیل اور قرینہ پیش کرنا ھوگا،، سو ہم نے وہ پیش کردیا ہے،، کہ یہ کوئی مستقل حدیث نہیں، بلکہ یہ ابن عمر سے مروی معروف روایت ہی ہے،،،اگر ہماری پیش کردہ توجیہ کا انکار کیاجائے تو پھر یہ حدیث شاذ ہوگی.، کیونکہ راوی نے دوسرے روات کی مخالفت کی ہے،، روات کے معروف الفاظ اس طرح نہیں ہیں،،بلکہ ان سے مختلف ہیں، اور راوی نے اس قسم کی زیادتی بیان کرکے مخالفت کی، اور یہ مخالفت بلکل واضح ہے،، واللہ اعلم بالصواب. یاد رہے بقیہ بن الولید تدلیس تسویہ سے بھی متصف ہے، لہذا جب تک وہ سند کے جمیع طبقات میں مسلسل بالسماع نہیں کریگا تب تک اسکی بیان کردہ روایت قابل حجت تسلیم نہیں ہوگی، اور بقیہ نے جمیع طبقات السند میں سماع کی تصریح نہیں کی ہے، لہذا یہ بات بھی اسکی اس روایت کو معلول کردیتی ہے، واللہ اعلم بالصواب. بعد میں بقیہ کی متابعت مسند احمد میں مل گئی، لیکن اس میں بھی وہی بات ہے، جو پہلے عرض کرچکا ہوں، وہ متابعت ملاحظہ فرمائیں. امام احمد بن حنبل رح فرماتے ہیں.: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ، رَكَعَ ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ” سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ “، ثُمَّ يَسْجُدُ ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ، *وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ،* حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ. (مسند احمد) عرض ہے کہ یہاں بقیہ کی واقعی قوی متابعت ہے…لیکن بات یہ ہے کہ یہ ابن عمر کی حدیث کا ہی یہ ایک طریق ہے،، مستقل کوئی حدیث نہیں،،، اور اس میں اطلاق ہے،، جس کی تقیید دوسرے طرق میں آگئی ہے،، یعنی اس سے مراد نماز کی رکعات میں ہر رکوع سے قبل کی تکبیر ہے ….یعنی یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیاجائیگا.. گویا اس طریق سے بقیہ کی تدلیس تسویہ کا خوف نہیں، مگر اس کا مفہوم ومطلب کیا ہے، اسکی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۰۰۰۰۰۰۰۰( ابوالمحبوب عفااللہ عنہ)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment