تفسیری -نکات

انور راشدی صاحب: #

پہلا نکتہ. قرآن مجید کی سورہ مریم کے الفاظ ہیں. « وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّاإِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ وَلا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًايَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّايَا أَبَتِ لا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَنِ عَصِيًّايَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَن فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّاقَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّاقَالَ سَلامٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا» ان آیات میں سے آخری آیت میں ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر کو کہتے ہیں کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعامانگونگا. سوال یہ ہے کہ چونکہ آزر گمراہ اور مشرک تھا، توابراہیم علیہ السلام کوتو اپنے والد کے لیے ہدایت اور سیدھی راہ کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہیے تھی، نہ کہ استغفار کی.کیونکہ بخشش بھی تبھی ممکن ھے جب انسان ایمان اور ہدایت پر ہو، تو انہوں نے بخشش کی دعا کا کیوں کہا،، ؟؟ ہدایت اور ایمان کاکیوں نہ کہا،،، ؟؟ جواب. : جو مجھے سمجھ آئی ہے بتادیتا ھوں..اللہ تعالی میرے حال پررحم فرمائے … بات یہ ہے کہ قرآن جامعیت چاہتا ھے،، چونکہ ابراھیم علیہ السلام اپنے والد آزر کے لیے دونوں باتوں ہی کے لیے متمنی تھے، یعنی ہدایت بھی ملے، اور اسکی جوسیاہ کاریاں ہیں وہ بھی معاف ہوجائیں…تو ابراہیم علیہ السلام کے ان الفاظ “ساستغفرلک ربی ” میں ہی یہ بات بھی مخفی ہے کہ اللہ تعالی اسے ہداہت بھی دیدے…قرآن مجید کی جامعیت کی وجہ سے استغفار بولا گیا ..ہدایت اور استغفار دونوں لازم وملزوم ھیں.یعنی معافی ہدایت کے بعد ہے ..تواستغفار کا کہکر ہداہت کی بھی التجاء کا کہدیا ….اور یہی قرآن کریم کا اسلوب ھے…واللہ اعلم بالصواب پھر معلوم ہواکہ امام ابن کثیر، شیخ ابوبکر الجزائری اور ایک اور مفسر نے بھی یہی مفہوم بیان کیاہے.۰۰۰۰۰( ابوالمحبوب عفااللہ عنہ)1/24/18, 10:49 AM –

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment