متقدم اور متاخر میں حد فاصل کیا ہے؟ 

اور کیا سبھی اصول صحیح طور پر بعض معاصرین نے ابھی ابھی سمجھے ہیں یا پھر بیھقی سے لے کر ابن حجر تک اور سخاوی سے لے کر البانی تک تمام کے نے بھی کچھ نا کچھ تھوڑا بہت زیادہ نہیں بس تھوڑا بہت ہی متقدمین کو پڑھا اور سمجھا ہے؟
یہ خواہ مخواہ کی ضد ہے اصول میں ، اور جتنا ذھبی و ابن حجر پڑھ گئے متقدمین کو، اتنا تمام معاصرین مل بھی نہیں پڑھ اور کر سکتے،
اور ان متاخرین نے جتنا سمجھا اس پر معترض بھی کوئی نہیں سوائے شرذمہ قلیلہ کے، ہاں شامہ اور جوامع الکلم نے بہت سہولت دی ان متاخرین کو نیچا دکھانے اور ان کو یہ سمجھنے کی کہ انہوں نے سراسر غلط سمجھا تمام متقدمین کو
ہاں یاد آیا ، متقدم اور متاخر کی حد فاصل کیا ہے؟ تا کہ ہمیں معلوم ہو کہ اس کے بعد والوں سے اپ کو حوالہ نہیں دینا، اور اس حد فاصل کی بھی کوئی نص شریف ہو، اور اگر میں یہ کہ دوں کہ کسی متقدم سے ہی نص لائی جائے تو ہنسیئے گا مت، 😁
۰۰۰۰۰( منقول)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment