محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی کا دورہ ایبٹ آباد

مرتب
ا بوحاتم حافظ غلام مصطفی

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اشھد ان لاالہ الااللہ وا شھد ان محمدا عبدہ ورسولہ امابعد :
استاد محترم شیخ حسینوی صاحب نے ہمیںبتایا کہ مجھے ہزارہ کے ایک مدرسہ کے طلبہ کا 20،21جنوری 2018ء امتحان لینے کے لیے بلایا گیا ہے اور اسی سفر میں ایبٹ آباد کے علماء کرام کو خدمات محدثین کے عنوان پر درس بھی دینا ہے ۔اور ایک درس پبلک کے لیے بھی کہا گیا ہے ۔اس عظیم مشن کے لیے استاد محترم نے بروز جمعہ بمطابق 19جنوری کوخطبہ جمعہ کے فورا بعد قصور سے سفر شروع کرنے کا پروگرام طے کیا ۔انھوں نے ایک ہفتہ پہلے مجھے بھی کہہ دیا کہ بیٹا سفر لمبا ہے آپ نے میرے ساتھ جانا ہے ۔
استاد محترم نے اپنے جامعہ امام احمد بن حنبل سوہڈل آباد ،بائی پاس ،قصور میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور 2:30pmپر سفر شروع کردیا قصور سے لاہور ، لاہور سے ڈائیوو پر راولپنڈی اترے ،وہاں سے ہائی ایس پر سلطان پورہ (کینٹ )حویلیاں رات 10:48پر پہنچ گئے ۔راستے میں ہمارے میزبان مولانا سفیر ہزاروی حفظہ اللہ مسلسل رابطے میں تھے۔
دورانِ سفر استاد محترم سے علمی گفتگو:
دوران سفر استاد محترم نے کئی ایک علمی باتیں کیں جن میں قابل ذکر یہ ہیں ۔تحقیقی کام میں تمام محدثین سے استفادہ اٹھانا بہت ضروری ہے لیکن ہر ہر بات کواصل حوالوں سے خود چیک کرنا ہے تاکہ غلطی لازم نہ آئے ۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے تقریب التھذیب میں جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کی وجوہات پر بھی بحث کرتے رہے کہ ان کے سامنے امام ابن معین کی کتب جو سوالات پر مشتمل ہیں بعض امام ابن حجر کے سامنے نہیں تھیں اگر وہ ہوتیں تو کبھی بعض راویوں میں حکم لگانے میں غلطی نہ کرتے ۔ سارا سفر ماشاء اللہ بہت اچھا ہوا ۔ابھی ہم سلطان پورا سٹاپ پر اترے ہی تھے کہ مولانا سفیرہزاروی حفظہ اللہ اپنے ایک شاگرد کے ساتھ ہمیں وصو ل کرنے کے لیے اسٹاپ پر کھڑے تھے فجزاہ اللہ خیرا
جب ہم جامعہ انوار الاسلام حویلیاں پہنچے:
مولانا سفیر حفظہ اللہ نے میزبانی کے بعد دو دن کے شیڈول سے آگاہ کیا اور ایک دعوت نامہ دکھایا۔
دعوت نامہ :
بسم اللہ الرحمن الرحمن محترمی و مکرمی جناب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم بعد از سلام خیریت موجود خیریت مطلوب اخی الکریم ! ہم نے جامعہ انوار الاسلام سلطانپور میں طلبہ جامعہ کا امتحان لینے کے لیے معزز مہمان عظیم محقق و علمی شخصیت ابن بشیر حسینوی حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابن حنبل قصور کو مدعو کیا گیا ۔موصوف انتہائی علمی شخصیت ہیں ان کے علمی جواہر پاروں سے مستفید ہونے کے لیے علاقہ کے علماء سے بروز اتوار بعد از ظہر مورخہ 21جنوری 2018 ء کو فکری و اصلاحی اور علمی نشست کا انعقاد کیا ہے ۔ جس میں آپ کی تشریف آوری ہمارے لیے باعث افتخار ہو گی ۔والسلام محمد سلیمان مہتمم جامعہ انوار الاسلام سلطانپورہ
بیس جنوری  :
نماز فجر کے بعد درس الجا مع الکامل :
استاد محترم کو نماز فجر کے بعد الجامع الکامل سے کتاب الطہارہ پر درس دیا جس میں کتاب کا مفصل منہج سمجھایا اور بطور مثال الجامع الکامل سے کچھ احادیث پر درس دیا ۔
جامعہ کے شعبہ درس نظامی کی پانچ کلاسز کا شفوی امتحان :
استاد محترم نے صبح نو بجے جامعہ کے طلبہ کا امتحان لینا شروع کیا ہرہر طالب علم سے تین سوالات کرتے جاتے تھے اور جہاں کوئی غلطی کرتا اس پر تسلی بخش بحث کرتے ۔یہ شفوی امتحان تقریبا 2:30pmتک جاری رہا ۔اسی دوران استاد محترم نے بہت زیادہ منہجی اور فکری بحوث طلبہ کو سمجھائیں ۔بطور خاص لغت ،جر ح و تعدیل ،علل حدیث اور علوم حدیث کی بعض بحوث پر سیر حاصل بحث کی ۔جن سے طلبہ نے خوب فائدہ اٹھایا ،درجہ چہارم اور درجہ پنجم دونوں کلاسز کا اکٹھے امتحان لیا سنن الترمذی اور سنن النسائی ،مشکوۃ ،بلوغ المرام اور الہدایہ کے منہج پر سیر حاصل بحث کی ۔ :

بعد نماز مغرب درس جامع مسجد حویلیاں :
شیڈول کے مطابق درس کے لیے نماز عصر کے بعد استاد محترم حویلیاں کی جامع مسجد میں پہنچے اور نماز مغرب کے متصل بعد اخلاص کے عنوان پر درس دیا جو لوگوں نے بہت پسند کیا ۔اس مسجد کے بانی فضیلۃ الشیخ محمد سلیمان حفظہ اللہ سنیئر نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان ہیں وہ خود ہی اس مسجد خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہیں ۔اس مسجد میں جامعہ کے زیر اہتمام شعبہ حفظ کی ایک کلاس جاری ہے ۔بڑی خوبصورت مسجد ہے ۔اسی مسجد میں درس کے بعد شعبہ حفظ کے استاد اور جامعہ کے ناظم محترم المقام اورنگ زیب حفظہ اللہ سے بھی ملاقات ہوئی کافی دیر بعض اہم مسائل پر بات بھی کرتے رہے ۔
بعد نماز عشاء جرح و تعدیل کی عملی ورکشاپ :
نماز عشاء کے بعد جامعہ کی تمام کلاسز کے طلبہ کو تقریبا دو گھنٹے جرح و تعدیل کی عملی ورکشاپ کروائی گئی جس میں تقریب التھذیب ،تھذیب التھذیب ،میزان الاعتدال ،التاریخ الکبیر ،الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،سیر اعلام النبلاٗ اور تاریخ الاسلام للذھبی کے منہج پر سیر حاصل بحث کی اور طلبہ کو ان کتب کے استعمال کی پریکٹس کروائی ۔جس سے طلبہ کو ایک بہت عمدہ منہج ملا ۔پھرطلبہ خود راوی تلاش کرنے لگے اور جو سوالات کرتے تھے استاد محترم ان سوالات کے جوابات دیتے جاتے تھے ۔اس ورکشاپ میں جامعہ کے ناظم اور جامعہ کے بعض اساتذہ بھی شریک ہوئے ۔
تاریخ ہزارہ پر کتاب لکھوانے کی درخواست :
استاد محترم نے لیکچر کے بعد جامعہ کے ناظم صاحب سے تفصیلی میٹنگ کی اور اس میں انھیں کہا کہ جامعہ کے ایک استاد محترم کی یہ ڈیوٹی لگائیں کہ وہ تاریخ ہزارہ پر ایک مستقل کتاب لکھیں ۔جس پر انھوں نے اس پر کام کروانے کی یقین دہانی کروائی

اکیس جنوری :
طلبہ کا امتحان :
استاد محترم نے تقریبا نوبجے سے بارہ بجے تک درس نظامی کے طلبہ کا شفوی امتحان لیا ۔
استاد محترم کے طلبہ کے متعلق تاثرات :
شیخ صاحب نے کہا کہ میں نے دو دن درس نظامی کی پانچ کلاسز کا امتحان لیا ۔شریک امتحان طلبہ کی تعداد چالیس تھی ۔ماشاء اللہ طلبہ کو نحو ،صرف ،اجراء ،عربی عبارت گرائمر کے مطابق پڑھنے اور اس کا ترجمہ کرنے میں بہت ماہر پایا ۔تمام طلبہ خوش اخلاق ،تربیت یافتہ اور باادب پائے ۔دل باغ باغ ہوگیا ۔کہ ہزارہ میں اس طرح کامثالی ادارہ کام کررہا ہے ۔
ایبٹ آباد کے علمائے کرام کو درس ’’خدمات محدثین ‘‘
جامعہ کی انتظامیہ نے ایبٹ آباد اور دیگر شہروں کے صرف علمائے کرام کو مدعو کیا تھا تا کہ وہ بھی استاد محترم سے فائدہ اٹھائیں ۔یہ درس 22جنوری بروز اتواربعد نمازظہر دیا گیا جس میں علاقہ بھر کے تقریبا سو علمائے کرام تشریف لائے ۔مدیر الجامعہ فضیلۃ الشیخ محمد سلیمان حفظہ اللہ بھی تشریف لائے تھے ۔انھیں استاد محترم نے خدمات محدثین کے موضوع پر پر تاثیر اور حیران کن درس دیا جس میں محدثین کی عجیب و غریب خدمات کا تذکرہ کیا خصوصا امام احمد بن حنبل ،امام بخاری ،امام البانی ،نواب صدیق الحسن خان ،میاں نذیر حسین محدث دہلوی ،ا مام محمد عبدالرحمن مبارکپوری ،شیخ الحدیث عبیداللہ رحمانی مبارکپوری ،عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمھم اللہ کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان محدثین کتنے نا مساعد حالات میں کام کیا ۔پھر درس کے آخر میں ،شیخ ارشاد الحق اثری اور شیخ محدث محمد عبداللہ الاعظمی حفظہ اللہ کی خدمات حدیث کا تذکرہ بھی کیا اور الجامع الکامل کا منہج بتایا بلکہ تمام علمائے کرام کو الجامع الکامل کی ایک جلد کا دیدار بھی کروایا ۔
ہم نے نمازعصر کے فورا بعد حویلیاں سے واپسی قصور کا سفر شروع کردیا ۔الحمدللہ ۔اللہ تعالی ہمارا یہ سفر قبول فرمائے ۔آمین
مدرسہ کے ضروری کوائف :
مدرسہ انوار الاسلام السلفیہ رجسٹرڈ سلطان پور( کینٹ )نزد ۳ نمبر ٹیوب ویل تحصیل حویلیاں ضلع ایبٹ آباد
بانی :فضیلۃ الشیخ محمد سلیمان حفظہ اللہ سنیئر نائب امیر مرکزی جمعیت پاکستان5630170 0300
ناظم: مولانا اورنگ زیب حفظہ اللہ ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ایبٹ آباد03212457136
شیخ الحدیث :فضیلۃ الشیخ عبدالمقیت ہزاروی حفظہ اللہ
مدرسین جامعہ :
؎مولانا نعمت اللہ ہزاروی حفظہ اللہ
مولانا سعید الرحمن ہزاروی حفظہ اللہ
مولانا ضیاٗ الرحمن ہزاروی حفظہ اللہ
مولانا حافظ طاہر شہزاد معاویہ ہزاروی حفظہ اللہ
مولانا سفیر احمد ہزاروی حفظہ اللہ
سر سمیع الحق حفظہ اللہ میتھ ٹیچر
مولانا زاہد نواز حفظہ اللہ انگلش ٹیچر

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment