“حسن لغیرہ ” کے رد میں پیش کردہ احادیث کا تجزیہ

ہ ۔”حسن لغیرہ ” کے رد میں پیش کردہ احادیث کا تجزیہ جاری ہے،،ان شاء اللہ
تجزیہ نگار:
ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم

بعض احباب وفضلاء چند احادیث ذکر کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ائمہ محدثین نے ان احادیث کو تمام طرق سمیت ضعیف کہا ہے، جبکہ انکو ضعیف + ضعیف+ ضعیف = حسن لغیرہ، ہونا چاہیے تھا،، اگر وہ واقعی حجت بننے کے قابل ہوتیں تو ائمہ کرام ضرور انہیں حجت سمجھتے.
گویا انکے ضعیف قرار دینے سے ثابت ہوا کہ یہ ائمہ حسن لغیرہ کو حجت نہیں سمجھتے.
اب ہم ذیل میں ان فضلاء کی پیش کردہ روایات کا جائزہ لیتے ہیں:
*اولا:* ضعیف + ضعیف = کے جمع کرنے سے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ روات کی وجہ سے روایت میں آنے والا جو ضعف تھا وہ دور ہوگیا ہے،، لیکن محض روات میں ضعف ختم ہونے یا دور ہونے سے یہ کہاں سے لازم آ گیا کہ وہ حدیث لازما قابلِ حجت بھی بننی چاہئے؟!
کیا حدیث کی صحت کے لیے محض روات کی توثیق ہی کافی ہوتی ہے کہ یہ شرط مکمل ہونے پر حدیث کو لازمی طور پر صحیح اور قابل حجت تسلیم کر لیا جائے؟!
کیا صحت حدیث کے لیے اور شرائط نہیں رکھی گئیں…؟؟
اگر ہیں،، اور یقینا ہیں ۰۰۰مثلا علت اور شذوذ کا منتفی ہونا..تو پھر یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ اگر ائمہ کرام نے اس قسم کی احادیث کو تمام طرق سمیت ضعیف قرار دیا ہے تو اس سے حتما یہی سمجھا اور باور کرایا جائے کہ یہ ائمہ “حسن لغیرہ ” کی حجیت کے منکر ہیں..؟؟؟
ہاں اگر منکرین “حسن لغیرہ ” یہ اقرار کر لیں کہ حدیث کی صحت کے لیے محض روات کی توثیق اور انکا قابل حجت بن جانا یا انکا ضعف ختم ہو جانا ہی کافی ہے، علل اور شذوذ کے انتفا کی طرف بالکل بھی التفات نہیں کیا جائیگا،، صرف روات والا ضعف دور ہو جائے..پھر چاہے روات کی مخالفت ہو یا پھر اور کوئی علت ہو، اس سے حدیث کی صحت پر کوئی بھی اثر نہیں پڑتا..تو پھر ٹھیک ہے، وہ اپنی بات میں حق بجانب ہیں، اور انکی یہ بات درست ہوگی کہ واقعی ان ائمہ کے نزدیک ضعیف+ ضعیف حجت نہیں.
لیکن اگر یہ فضلاء تسلیم کرتے ہیں کہ نہیں، حدیث کی صحت کے لیے شذوذ اور علل کا منتفی ہوجانا بھی شرط ہے ـــ اور حقیقت بھی یہی ہے ــــ تو پھر ایسی صورت میں انکی یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ان احادیث کو تمام طرق سمیت محدثین نے ضعیف قراردیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ کہ انکے نزدیک “حسن لغیرہ ” حجت نہیں.
عرض ہے کہ اگر واقعی آپ ائمہ کرام سے “حسن لغیرہ ” کی عدم حجیت ثابت کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس قسم کے محتمل طرز استدلال سے ہٹ کر آپ کو کوئی واضح ،مضبوط اور نص صریح لانی پڑیگی جس سے ثابت ہو جائے کہ یہ ائمہ حدیث “حسن لغیرہ ” کی حجیت کے قائم نہ تھے۔
خلاصہ کلام!* حدیث کی صحت کے لیے صرف روات کا قوی ہو جانا اور انکا ضعف ختم ہو جانا ہی کافی نہیں،، بلکہ علل اور شذوذ کا منتفی ہونا بھی ضروری ہے. اور یہاں اس بات کا قوی امکان ہے جیسا کہ ہم واضح کریں گے کہ ان ائمہ کرام نے ان احادیث کو اس لیے ضعیف سمجھا ہو کہ ان میں کوئی علت ہو،، شذوذ ہو یا ان میں ضعف شدید پایا جاتا ہو، یا کوئی اور وجہ ہو،، تو جب ان احادیث کی تضعیف کے لیے یہ احتمالات بھی موجود ہیں تو پھر محض ایک وجہ کو اپنے تئیں متعین کر کے حتمی طور یہ فیصلہ کرنا کہ ” ان ائمہ کے نزدیک حسن لغیرہ حجت نہیں، اس لیے انھوں نے اس حدیث کو تمام طرق سمیت ضعیف قرار دیا ہے ” سرا سر نا مناسب ہے.
*ثانیــــــــــا:* جو احادیث پیش کر کے ائمہ کرام کے نزدیک “حسن لغیرہ ” کی عدم حجیت کا تاثر پیش کیا گیا ہے تو تتبع سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ احادیث ان ائمہ کرام کے نزدیک “حسن لغیرہ ” کے قابل ہی نہیں بنتیں،، جس کی درج ذیل وجوہات میں سے کوئی وجہ ہوسکتی ہے:
أ ـ ان میں ضعف شدید ہے۔
ب ـ وہ صحیح حدیث کے مخالف ہیں یعنی ان میں شذوذ ہے، اور شاذ بھی در اصل ضعف شدید ہی میں شامل ہے،، جیسا کہ امام ابن الصلاح وغیرہ نے کہا ہے.
ج ـ ان احادیث پر تضعیف کا حکم محض انکا اجتہادی فیصلہ ہے ( جسکی وضاحت آگے کی جائیگی.ان شاء اللہ العزیز)
۰۰۰۰( محقق العصر شیخ انور شاہ راشدی کی زیرترتیب کتاب سے اقتباس

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment