حسن لغیرہ پر ایک اہم وضاحت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

۰۰۰۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

جب بھی کسی ساتھی سے بحث ہوتی،، تو یہی کہاجاتا کہ” اگرحسن لغیرہ “کوحجت سمجھتے ہوتو قصہ غرانیق کو بھی “حسن لغیرہ “قرار دیں،، جس پر ہم نے شیخ زبیر رحمہ اللہ کا اپنا منہج انکی کتاب سے اقتباسات لیکر بیان کیاکہ انکے منہج کے مطابق بھی یہ قابل حجت بن رہا ہے،،، تو اب طرح طرح کے طعنے مل رہے ہیں،،، کہ یہ شیخ رحمہ اللہ کے متعلق نہ لکھاجاتا،،، اگر علامہ البانی پر ایسا کچھ لکھاہوتا توبھی ہمیں دکھ ہوتا،،، وغیرہ وغیرہ.
جناب،،،، جب تک خاموش تھے تو مسسل جواب دینے پر مجبور کیاجارہا تھا،، مگر اب جب میں نے دلیل سے بات کی ، اور جواب لکھا،اور دلائل سے اختلاف کیا،، تو اب غم کھائے جارہا ہے،، کوئی کچھ کہرہا ہے، کوئی کچھ کہرہا ہے،، ایسی ایسی سطحیات پڑھنے کو مل رہی ہیں کہ توقع نہیں تھی کہ ایسا کچھ بھی کہاجائیگا،،
جب جواب کااصرار کیا ہے تو اب جواب دیدیا ہے،، اس جواب کا علمی وتحقیقی رد ہے تو وہ بیان کریں..باقی شیخ زبیررحمہ اللہ کی عزت، احترام، اور عقیدت ہمیں بھی ان سے ہے،،اس لیے نہ کبھی میں نے انکی ذات کو مطعون کیاہے، اور نہ ہی میری کسی تحریر میں انکے متعلق کچھ ملیگا.ان شاء اللہ العزیز..بلکہ “حدیث ابن مسعود “( عدم رفع الیدین) پر ایک مفصل مقالہ محض انکے دفاع میں ہی لکھا ہے،، جو بھی عنقریب “مقالات ” کی صورت میں شایع ہوگا، والحمدللہ.
لہذا علمی اختلاف کو علمی اختلاف تک ہی محدود رکھیں،، یہ میری گذارشات تھیں،، باقی ہر کسی کی مرضی ہے، جو چاہے،سوچے، جو چاہے کرے..

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment