امام احمد اور حسن لغیرہ

امام احمد اور حسن لغیرہ

۱-

امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:

ما حديث ابن لهيعة بحُجَّة، وإني لأكتب كثيراً مما أكتبُ أعتبرُ به وهو يُقَوي بعضُه ببعض

(الجامع لاخلاق الراوی للخطیب: ۲/۲۵۰)

اسی قول کو امام ابن تیمیہ اس طرح نقل کرتے ہیں:

قال أبو عبد الله أحمد بن حنبل : ما أكتب حديث ابن لهيعة إلا للاعتبار والاستدلال وقد أكتب حديث هذا الرجل على المعنى كأني أستدل به مع غيره يشده لا أنه حجة إذا انفرد .

(الصارم المسلول ص ۳۳)

۲-

حافظ ابن رجب شرح علل الترمذی میں نقل کرتے ہیں: “قال إسحاق بن هانيء، قال لي أبو عبد الله: -يعني أحمد- قال لي يحيى بن سعيد: “لا أعلم عبيد الله –يعني ابن عمر- أخطأ إلا في حديث واحد لنافع عن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: “لا تسافر امرأة فوق ثلاثة أيام…” الحديث.

قال أبو عبد الله: فأنكره يحيى بن سعيد عليه.

قال أبو عبد الله: قال لي يحيى بن سعيد: “فوجدته قد حَدَّث به العمري الصغير عن ابن عمر مثله.

قال أبو عبد الله: لم يسمعه إلا من عبيد الله، فلما بلغه عن العمري صححه”

یعنی احمد اور یحیی القطان کے نزدیک عبید اللہ بن عمر (جو کہ اگرچہ ثقۃ ہیں لیکن انہوں) نے اس حدیث میں غلطی کی ہے یعنی یہ روایت ان کے نزدیک ضعیف ہوتی۔
لیکن جب ان کو پتہ چلا کہ العمری الصغیر (جو کہ احمد اور دیگر محدثین کے نزدیک ضعیف ہے) نے ان کی متابعت کر رکھی ہے تو انہوں نے اس ضعیف حدیث کو صحیح قرار دے دیا۔
یعنی اگر یہ متابعت نہ ہوتی تو ان کے نزدیک وہ روایت ضعیف ہی رہتی۔ اس سے پتہ چلا کہ احمد اور یحیی القطان نے ایک ضعیف روایت کو دوسری ضعیف متابعت کے بعد صحیح قرار دے دیا۔
۰۰۰۰( ابن ابی رضا حفظہ اللہ)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment