مفتی صاحب اور محمد شیخ کے مابین مکالمہ

الحافظ ابوالمحبوب سید انورشاہ راشدی سندھی حفظہ اللہ(پیر جھنڈا سندھ)

محمدشیخ اور مفتی صاحب کا مناظرہ کوجیساکہ سب جانتے ہیں،،، حیرانگی کی بات ہے کہ محمد شیخ سے ایسا شخص مناظرہ کرنے گیا جو لگتا ہی نہیں کہ وہ مناظر ہے،، یااس میں مناظرانہ صلاحیت ہے،،،
ایک مناظر کو بارعب اور حاضر دماغ اور فریق مخالف کے دلائل اور انکے جواب سے پوار واقف ہونا چاہیے….مفتی صاحب تو یکسر ان خصائص سے عاری نظرآتے ہیں..نہ رعب ودبدبہ، اور نہ ہی حاضر دماغی،وفریق مخالف کے ادلہ سے واقفیت….ادھر محمد شیخ نے مفتی صاحب سے پوچھاکہ ”بتاؤ…اللہ تعالی نے قرآن مجید میں یہ کہاں فرمایاہے کہ میں نے موسی علیہ السلام پر ”تورات ” نازل کی ہے،،، وہ آیت پڑھیں…اُدھر سے مفتی صاحب خاموش….جبکہ وہ اسی مناظرہ میں باربار یہی تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ انہیں قرآن مجید اچھی طرح یاداور حفظ ہے،،،پھر خود محمد شیخ ایک آیت کی تلاوت کرتا ہے،،، اس کے بعد مفتی صاحب بھی تلاوت کرنے لگ جاتے ہیں..لیکن وہ اس آیت کریمہ کو درست انداز میں نہ پڑھ سکے،،، خیر..پھر محمد شیخ صاحب کہتے ہیں کہ اس آیت میں یہ کہاں لکھاہے کہ ”تورات ” کو موسی علیہ السلام پر نازل کیاگیا،،،؟؟؟ اس میں تو یہ ہے کہ ”تورات نازل ہوئی،، اور اسی کے مطابق انبیاء فیصلہ کرتے تھے،،،، ادھر پھر مفتی صاحب پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے،،،، تعجب کی بھی انتہاء ہوتی ہے….مفتی صاحب اسی وقت کہتے ہیں کہ میں غلط آپ صحیح….اجی..اگر اتنی جلدی شکست اور ہار ماننا تھا تو پھر مناظرہ کرنے کے لیے آئے ہی کیوں تھے…انکے انداز سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ محمد شیخ کو ایک وار سے شکست خوردہ اور ناکارہ بنادینگے…..لیکن حالت یہ ہے کہ وہ پہلے ہی شکست تسلیم کرنے لگ گئے….یقین جانئے مناظر کا انداز مدافعانہ نہیں بلکہ حملہ آورکاسا ہونا چاہیے..جب ہی فریق مخالف پر رعب ودبدبہ ہوسکتا ہے…اور یہ تب ہوگا جب ادلہ کے حوالے سے پختگی اور رسوخ وحاضردماغی ہو،، مفتی صاحب کا پورے مناظرے میں مدافعانہ انداز رہا ہے….وہ بس کسی نہ کسی طرح محمد شیخ کے اعتراضات سے نکلنا چاہ رہے تھے…حالت یہ ہے کہ وہ دوران مباحثہ ہی اعتراضات کے جوابات تلاش کرتا رہا.کیا اس پوزیشن میں وہ مناظرہ کرنے آیاتھا کہ پلہ میں کچھ نہیں،،، جب صورتحال یہ ہوکہ وہ دوران مناظرہ ہی ادلہ کو اکٹھا کرے اور اعتراضات کے جوابات بھی اسی بحث میں تلاش کرتا رہے،،، تو کیا ایسا شخص حملہ آورتو کجا مدافع بھی نہ سکے گا،، ادھر محمد شیخ کوئی سوال کرے،، ادھر مفتی صاحب پر ایسی خاموشی طاری ہوجاتی کہ جیسے کسی کوسانپ سونگھ گیا ہو…..حیرت ہوتی ہے کہ اس قسم کے حضرات بھی مناظرہ کے لیے کمربستہ ہوجاتے ہیں…حقیقت یہ کہ مفتی صاحب اصلا مناظر نہیں تھے، اور نہ ہی انہیں مناظرہ کا کوئی ڈھنگ اور طریقہ آتا ہے…..مناظرہ کااصول یہ ہوتا ہے کہ فریق مخالف کو ایک ہی نکتہ پر رکھناہوتا ہے،، اس سے باہر قدم نہیں نکلناچاہیے…اور محمد شیخ کبھی کس وادی میں، کبھی کس وادی میں…اور مفتی صاحب بھی انکے پیچھے پیچھے ہولیئے..واللہ العظیم…شرم کا مقام ہے….آخر انکا کیا سوجھی کہ وہ محمد صاحب سے مناظرہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے…..سوائے بدنامی کے کچھ حاصل نہیں ہوا…الٹا لوگ ہی بد ظن ہوگئے…اس سے آگے چلیئے..مفتی صاحب کو تو عربی بھی پوری نہیں آتی…کہتا ہے کہ ”انصاف ”منصف ”عربی کے الفاظ نہیں….کمال ہوگیا نہ جی….اب مفتی صاحب کی اس بات پر سرپکڑ نہ بیٹھاجائے، تواور کیاکیاجائے…..یعنی….مفتی صاحب قسم لیے بیٹھے تھے کہ آج ہار کے ہی جانا ہے……یعنی اسکا مطلب یہ ہواکہ مفتی صاحب لغت سے بھی بلکل ناواقف تھے…اب جب نہ لغت ہے…اور نہ ہی ادلہ سے واقفت ہے…تو پھر انکو یہ کس مخلص اور خیرخواہ نے مشورہ دیا تھا کہ مناظرہ کے لیے خود کو پیش کردیں…سچ تو یہ ہے کہ میں نے اچھے بھلے احباب کودیکھا ہے کہ وہ لغت اور گرائمر کے حوالے سے بہت ہی کچے معلوم ہوتے ہیں. محمد شیخ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا…وہ ایک لمحہ بھی آگے نہ جاسکتے تھے…وہ ایک ہی بات پر گرفتار ہوسکتے تھے…..لیکن آخر پلے کچھ ہوبھی سہی نہ….بہرکیف پورا مباحثہ اس انداز سے چل رہا تھا کہ جیسے کہ مناظرہ نہیں…..ایک استاد اور شاگرد..یاسائل اور مسؤل عنہ کی حیثیت سے مکالمہ ہورہا ہے…اب اسکو اگر کوئی مناطرہ کانام دیتاہے تو یہ اسکی اپنی مرضی یے.. خلاصہ کلام…یہ کہ مفتی صاحب اس قابل نہیں کہ ڈبیٹ کرسکیں…پہلے وہ اچھی طرح آداب مناظرہ سیکھیں…پھر میدان میں آئیں….ورنہ وہ اپنا شغل اپنے محل میں ہی جاری رکھیں….کم ازکم اہل اسلام کے اوپر تو جگ ہنسائی کے موجب نہ بنیں.. اس واقعہ میں ان لوگوں کے لیے بھی سبق ہے جو خود کو شناور میدان مناظرہ کے شہسوار سمجھتے ہیں..اور پلے کچھ بھی نہیں…اللہ تعالی سمجھ بوجھ عطافرمائے.۰۰۰ تکفیر کا مسئلہ بہت ہی پیچیدہ ہے..ہر کسی کو اس میں بحث کرنی ہی نہیں چاہیے..یہ مسئلہ خالصتا ان علماء کرام کا ہے جن کو علوم اور دینی مسائل میں قوی رسوخ ہو…یہی وجہ ہے کہ اسلاف میں تکفیر کا شوشہ صرف خوارج ہی چھوڑتے تھے..اور اھل السنہ نے تو ان کو مسلمانوں کی تکفیر کرنے سے ہر انداز سے روکا ہے…..یہی وجہ ہے کہ اسلاف کفریہ عقائد کی وضاحت کرتے ہوئے مسلمانوں کی اصلاح ہی کرتے نظرآتے ہیں.لیکن آج اصلاح ختم..بس ہر ایرا غیرا کفر کے فتاوی جیب میں رکھ کر اسلام اور کفر کا فیصلہ کرتا نظر آتا ہے….اسی وجہ سے ہم مسلمان ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے چلے جارہے ہیں…. ایک ہوتا ہے کسی میں کفریہ عقیدہ کا ہونا،، دوسرا ہوتا ہے کسی کو کافر کہنا….کسی شخص میں کفریہ عقیدہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کافر ہوگیا….تکفیر کے ضابطے اور اصول موجود ہیں…ایسے نہیں کہ بس جس میں کفریہ عقیدہ پایاجائے وہ کافر ہوگیا….یہ منہج خوارج کا ہے..اہل السنہ کا نہیں….ورنہ پھر خود ہمارے اہل السنہ والے لوگ بھی بدعتی وکافر ہوجائینگے…کوئی بھی نہیں بچیگا…..کسی کے نزدیک تعویذ شرک ہے….ہمارے بعض اہل حدیث تعویذ لکھتے ہیں…تو کیا پھر وہ مشرک ہوگئے…نہیں..قطعا نہیں….لہذا کفر کے فتوی سے عوام رک جائے….اگر اصلاح نہیں کرسکتے تو کافر بھی کسی کو نہ بنائیں…شیخ مبشر احمدربانی حفظہ اللہ نے تکفیر کے اصول وضوابط ہر بہترین کتاب لکھی ہے…اسکا مطالعہ کریں..امید ہے تشفی ہوجائیگی.
استخفاف حدیث کرنے والے لوگ بھی دفاع حدیث کرنے جا رہے !!ابھی میں نے محمد علی مرزا کا ایک وڈیوکلپ دیکھا ہے،، جس میں وہ حدیث کے دفاع کے متعلق گفتگو کررہا تھا۔ اس میں کہتا ہے کہ: (۱)،،،،، اگر صحیح بخاری میں موسی اور خضرعلیہماالسلام والا واقعہ ہوتا،،، (جس میں خضر علیہ السلام بچے کوقتل کردیتے ہیں) اور قرآن مجید میں نہ ہوتا تو یہ عقل پرست لوگ قرآن مجید پر اعتراضات کرنے لگ جاتے..!!!! (۲)اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے بھی شادی کی تھی،، اور زید رضی اللہ عنہ آپکے لے پالک (منہ بولا بیٹا) تھے،،، اگر یہ قصہ بھی صحیح بخاری میں ہوتا اورقرآن مجید میں نہ ہوتا تو،، کیا یہ لوگ قرآن پر بھی اعتراضات کرنے لگ جاتے….؟؟؟ (۳) قرآن مجید (سورہ مائدہ)میں ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کوے کو قتل کردکے اسے دفن کردیا،،، اسے بھی عقل نہیں مانتی،،کہ ایک کوا دوسرے کوے کو قتل کرکے اسے دفن کردے.. تعجب کی انتہاء دیکھیں…اور ان صاحب کی جرات کو داد دیں کہ کس طرح خلاف وقعہ بات کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہیں…..اور عوام کالانعام اسے سن اور دیکھ کر محظوظ ہوتی رہتی ہے…اب سنیں….موسی اور خضرعلیہماالسلام کا واقعہ صحیح بخاری وغیرہ میں بھی مروی ہے،،،، زید بن حارثہ،، اور بیبی زینب رضی اللہ عنہا کی شادی کا ذکر بھی صحیح بخاری میں موجود ہے… رہا کوے کا ذکر….تو اس نے کہاکہ قرآن مجید میں ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کیا…تو سورہ مائدہ کو کھول کردیکھیں..اس میں ہے:”کہ اللہ تعالی نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودرہا تھا، تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی نعش کو چھپائے…. اب اس میں کہاں ہے کہ اللہ تعالی نے دوکوے بھیجے، اور وہ دونوں میں آپس میں لڑپڑے،، ایک نے دوسرے کوقتل کردیا،، اور پھر اس نے اسے دفن کرنا شروع کردیا….یہ قرآن مجید میں سرے سے ہے ہی نہیں….کتنی جراتمندی سے اسنے اسے قرآن مجید میں ہونے کاکہہ کر زیادتی کردی….بلکہ یہ بات تو کسی حدیث میں بھی نہیں..بلکہ چند اقوال وآثار ہیں….مرفوع نہیں ہیں….تو ایسے میں یہ کیسے بے باکی سے ان واقعات کو بیان کرتے چلے جارہے ہیں.. اب اس قسم کے لوگ بھی دفاع حدیث کا بیڑہ اٹھانے چلے ہیں..جنہیں نہ قرآن مجید کا پتہ ہے اور نہ حدیث کا.. قارئین کرام…ان صاحب کی اس قسم کی سطحیات اور شطحیات کو جمع کردیا جائے تو ایک اچھاخاصہ ذخیرہ جمع ہوجائیگا.

About the author

ibnebashir

1 Comment

Click here to post a comment