دوست کے چناؤ میں احتیاط کیجئے

از پروفیسر محمد صارم آف گوجرانوالا
انسان کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے۔صحبت اسے اچھا برا کرتی ہے۔کل مولود یولد علی فطرۃ فابواہ یھودانہ او ینصرانہ۔بادشاہ کے حکم پر بچہ جادو سیکھنے گیا لیکن راستے میں اہل اللہ سے ملاقات و مصاحبت ہوگئی۔ مصاحبت کے اثرات ہوتے ہیں۔ وہ جادو سے متنفر ہوا۔ بادشاہ نے قتل کی کوشش کروائی مگر ناکام رہا۔ بچے نے طریقہ بتایا کہ سب لوگوں کو اکٹھا کرو۔ بسم اللہ پڑھ کر تیر مارو۔ ایسا ہوا۔ بچہ شہید۔ لوگوں نے جان لیا کہ اللہ ایک ہے۔ بادشاہ نے اگ کے گڑھے کھدوائے اور موحدین کو اس میں گرا دیا۔بچہ کورے ذہن کا تھا۔ عالم کی صحبت سے اللہ پاک کے فضل و رحمت سے زندگی کہانت و سحر سے بدل کر ایمان والی بن گئی۔ہم نے علما سے تعلق توڑا۔ جو رب سے قریب کرنے والے تھے۔ شیطان نے اچک لیا۔جو بکری ریوڑ سے الگ ہوتی ہے وہ بھیڑیے کا شکار ہو جاتی ہے۔ناکام افراد قیامت کے دن اپنی گندی صحبت ہی کو اپنی ضلالت کا سبب ٹھہرائیں گے۔اچھی صحبت کے اختیار کرنے کا حکم کے تاکہ کامیابی حاصل ہو۔ جیسے کہ ارشاد باری تعالی ہے۔توبہ پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو بھی بری دوستی چھوڑ کر اچھی دوستی اختیار کرنی پڑے گی۔100 افراد کے قاتل کو یہی کہا تھا عالم نے برے لوگوں کی بستی کو چھوڑ کر نیک لوگوں کی بستی میں جانا ہے۔کیونکہ نیک افراد کی صحبت میں نیکی کی تعلیم ملتی ہے۔ اس کی ایک مثال بھی حدیث میں ائی ہے اور علماء سے بڑھ کر نیک کون ہوگا کہ جن خشیت الہی کی تصدیق اللہ سبحانہ و تعالی نے کی ہے۔لوگو ان کی صحبت اختیار کرو جو انبیا کے وارث ہیں۔جو روئے زمین پر سب سے اعلی ہیں۔ جن کا ذکر اللہ پاک نے اپنے اور فرشتوں کے ساتھ کیا ۔جن کے پاس اللہ تبارک و تعالی نے تمہیں جانے کا حکم دیا کیونکہ وہ تم کو اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان علماء کی دوستی احترام کے رویے سے اپناو کیونکہ انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔علماء سے محبت کرو کیونکہ انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ علما کی بے ادبی شیطانی سازش گمراہی کا پہلا زینہ ہے۔ انگریز کا برصغیر پر خطرناک حملہ ہی یہ تھا کہ اس نے1۔ لفظ مولوی کے خطاب کو طعنے دے دے کر گالی بنا دیا۔2۔ مولوی سے نفرت اس حد تک پروان چڑھائی کہ زبان زد عام ہوگیا جے مولوی بخشے گئے تے اسیں دوڑدیاں جنت وچ جانا ایں3۔ ہر قسم کے لطیفے ان پر بنائے گئے۔لوگو! اللہ کے دین پڑھنے پڑھانے والا بناو۔کہ جب تم دنیا سے جاو تو1۔ تمہاری اولاد کم از کم تمہارا جنازہ ہی پڑھا سکے۔2۔ رو رو کر تمارے لئے دعائیں ہی مانگ سکے۔دیکھو جناب ابراہیم علیہ السلام کو اپنی اولاد کی فکر دامن گیر تھی اسی لئے تو امامت ملتے ہی اپنی اولاد کا سوال کیا۔ مجھے اور اپ سب کو اپنی اور اپنی اولاد کی دوستی کا خیال رکھنا ہوگا۔ اور علما سے اچھے دوست کہیں نہیں ملیں گے۔اپنے بچوں کو مدارس میں بھیجیں۔ حفظ کروائیں۔ سب ترجمہ پڑھیں۔ اپنا اور ان کا مستقبل روشن کریں۔ اللہ پاک کی رحمت سے یہ سب علماء سے مضبوط تعلق کے ساتھ ممکن ہوگا۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑے تو عرب کے بدو صحابی بن گئے۔ رضی اللہ عنہم۔ثمامہ بن اثال قتل کے ارادے سے آئے۔ تین دن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہے اور رضی اللہ عنہ بن گئے۔اور یہ اس وقت ممکن ہے جب ہماری دوستی رشتہ احترام کے ساتھ علماء سے ہوگی۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment