محمدا براہیم بن بشیر الحسینوی کا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے تعلق

راقم جامعہ رحمانیہ کی چوتھی کلاس میں زیر تعلیم تھااس کلاس میں استاد محترم میرے محسن اور مربی شیخ عبدالرشید راشد رحمہ اللہ ہمیں سنن النسائی پڑھاتے تھے تو راقم نے سنن النسائی کے ضعیف رواۃ پر کام شروع کردیا روزانہ رحمانیہ لائبریری میں جاتا اور کتبِ رجال کی مدد سےسنن النسائی کے ضعیف راوی جمع کرنے شروع کئے تھے اسی دوران میں اکثر شیخ مبشر ربانی حفطہ اللہ کے پاس بھی جایاکرتا تھا جو سکیم موڑ ابوبکر صدیق مسجد میں ہوا کرتے تھے ایک دن میں نے ان سے سنن النسائی کے ضعیف رواۃ پر مشورہ کیا کہ کام کس طرح ہوناچاہئے؟تو شیخ ربانی صاحب شفاہ اللہ نے مجھے کہا کہ آپ شیخ زبیر علی زئی صاحب سے رابطہ کریں وہ دارالسلام لاہور میں ہوتے ہیں اور مبشرصاحب نے مجھے شیخ محترم کا نمبر بھی دیا۔
پھر راقم نے حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کو فون کیا اور مشورہ لیا توشیخ صاحب نے بتایا کہ یہ بہت اچھا کام ہے اس میں ایک اضافہ بھی کریں کہ ضعیف راوی کے استاد اور شاگر دکا نام بھی لکھ دیں یہ بھی فائدہ مند رہے گا
شیخ محترم کا پہلی مرتبہ نام سنا اورپہلی مرتبہ شیخ سے میری بات ہوئی اس کے بعد گاہے بگاہے فون پر رابطہ رہا ۔حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے پاس حضرو اٹک میں میں 2003کوچار دن ٹھہرا تھا ۔اس وقت ان کے پاس حافظ ندیم ظہیر ،حافظ شیر محمد ،تنویر الحق ہزاروی اور فضل اکبر کاشمیری حفظہم اللہ وہاں موجود تھے ان سے بھی ملاقات ہوئی ۔اس ملاقات کے بعد فون پر بہت زیادہ رابطہ رہا۔ فون پر استفادہ کی انتہاء نہیں ہے۔پی ٹی سی ایل فری ہوتا تھا بعض دفعہ گھنٹے سے زیادہ بات ہوتی تھی ۔ والحمدللہ
راقم نے شیخ محترم سے بہت کچھ سیکھا اور انھوں نے اپنا قیمتی وقت نکال کر مجھے وقت دیا اور ہر طرح کی علمی استفادے کا موقع فراہم کیا۔فجزاہ اللہ خیرا
میں اس وقت مرکز التربیۃ الاسلامیۃ فیصل آباد میں تخصص کی کلاس کے آخری سال میں تھا اور حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ کی کتاب الاصلاح کی تحقیق و تخریج کرکے مقالہ پیش کرنا تھا اس کی خاطر میں نے شیخ صاحب کے طرف سفر کیا کیوںکہ چند کتب مل نہیں رہی تھیں تو شیخ صاحب سے فون پر رابطہ ہوا تو شیخ محترم نے فرمایا کہ میرے وہ کتب ہیں اس لئے مجھے جانا پڑا۔
اور شیخ محترم سے میری پہلی ملاقات تھی لیکن انھوں نے اس طرح محبت کی گویا کئی سالوں سے میرے ان سے تعلقات ہیں فجزاہ اللہ خیرا
اتنا گہرا رابطہ تھا کہ ماہ نامہ الحدیث میں میرے قیمتی مضامین بھی شائع ہوتے رہے ۔جو آپ اس لنک سے پڑھ سکتے ہیں http://ishaatulhadith.com/writers/ibn-e-bashir/
میں نے اپنی کتاب بالوں کا معاملہ مفصل لکھ کر حافظ صاحب کو نظر ثانی کے لیے ارسال کی انھوں نے نظر ثانی فرمائی ۔اسی طرح میں نے اپنی کتاب غیر ثابت دعائیں اپنے قلم سے لکھ کر حافظ صاحب کو نظر ثانی کے لیے ارسال کی وہ کتاب مجھے نہیں ملی ۔ حافظ صاحب نے مجھے بتایا بھی تھا کہ کتاب مجھے مل گئی ہے شاید مکتبہ میں کہیں موجود ہوگی ۔واللہ اعلم بالصواب
پھر حافظ صاحب کے کہنے پر ماہ نامہ الحدیث کی علمی فہارس تیار کیں اطراف الحدیث ،مضامین،رواۃ وغیرہ یہ کام بھی مکمل کرکے حافظ صاحب کو بھیجا ۔انھوں نے پسند کیا لیکن نامعلوم اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ۔
پھر میری توجہ سے کئی علمائے کرام حافظ صاحب کے پاس بھی گئے مثلا میرے گاؤں کے مولانا خورشید قصوری حفظہ اللہ تقریبا دو سال حافظ صاحب کے پاس ٹھہرے ،ماہ نامہ الحدیث حضرو پر خورشید قصوری صاحب کا رابطہ نمبر بھی حافظ صاحب شائع کرتے رہے ۔پھر میرے ہونہار شاگردوں میں مجیب الرحمن آف واہنڈو اور حافظ محمد احمد آف بھوئے آصل بھی حافظ صاحب کے پاس گئے ۔
گوجرانوالہ مکرم مسجد میں درس بخاری کے حافظ صاحب تشریف لائے میں ان سے ملاقات کی غرض سے قصور سے وہاں گیا اور ملاقات ہوئی اور اپنی کتاب موسوعۃ المدسین کمپوز شدہ انھیں تحفہ پیش کی ۔
حضرو اٹک کی طرف دوسرا سفر :
مجھے پشاور جانا تھا میرے ساتھ قاری رحمت اللہ ،قاری بشیر ،قاری ریاض اور قاری ابراہیم مظفر گڑھی حفظہم اللہ بھی تھے ۔میں نے کہا کہ حافظ صاحب سے ملتے جائیں ڈرائیور صاحب نے حضرو کی طرف گاڑی موڑی اور حافظ صاحب سے نمازمغرب کے وقت ملاقات ہوئی کچھ دیر بیٹھے رہے باتیں ہوتی رہیں ۔پھر ہم نے آگے سفر کرنا تھا تو اجازت چاہی تب حافظ صاحب نے شیر محمد سے کہا کہ کھانا کا اہتمام کریں اور ہمیں پابند کیا کہ کھانا کھائے بغیر نہیں جانا۔
شیخ محترم کے وہ اوصاف و معمولات جو میں نے دیکھے :
راقم نے دیکھا کہ شیخ محترم وقت کے بہت پابند ہیں وقت پر سوتے ہیں وقت پر لکھتے ہین اور وقت پر ہی مطالعہ کرتے ہیں ،میں دیکھا تھا کہ شیخ محترم تہجد کے وقت بیدار ہو جاتے تھے راقم تھجد کے وقت لائبریری میں آتا تو شیخ محترم مطالعہ میں مصروف ہوتے ایک دفعہ پوچھا کہ شیخ صاحب اب کیا کر رہے ہو تو فرمانے لگے کہ کوئی اچھی سی عربی کتاب تلاش کررہاہوں جس کا ترجمہ کیا جائے ۔
نماز فجر خود پڑھاتے تھے اور جمعہ بھی خود پڑھاتے تھے ،نماز فجر کے بعد لائبریری میں آجاتے تو مسلسل لکھتے رہتے اور کھانے کے وقت گھر تشریف لے جاتے پھر دوبارہ لائبریری میں آجاتے اور تقریبا گیارہ بجے تک لکھنے اور تحقیق کرنے میں مصروف رہتے پھر قیلولہ کرتے اور یہ قیلولہ بھی لائبریری سے متصل ایک چھوٹے سے حال میں کرتے ویسے شیخ محترم کا لائبریری کے چھسوٹے کمرتے میں بھی ایک چارپائی موجود تھی اور آپ وہاں بھی کبھی سوتے تھے۔قیلولہ تقریبا آدھا گھنٹہ تک کرتے تھے ۔پھر ظہر تک مسلسل تحقیق اور کتب لکھنے میں مصروف رہتے نماز ظہر سے فارغ ہوکر نماز عصر تک مسلسل لکھنے میں مصروف رہتے اور نماز عصر کے بعد بھی یہی مصروفیات ہوتیں لیکن نماز مغرب سے تقریبا آدھا گھنٹہ پہلے ہم اکٹھے بارہ چلتے مختصر سی سیرو تفریح کرتے اس میں علمی بحوث جاری رہتیں ۔اسی طرح نماز مغرب کے شیخ محترم صرف مطالعہ کرتے اور وہ آج تک ترتیب سے کتب کا مطالعہ کررہے ہیں اس میں شیخ محترم ہزاروں کتب بالاستیعاب مطالعہ کیا اور شیخ محترم فوائد جمعہ کرنے کی غرض سے مختلف رجسٹر بنائے تھے جن میں و فوائد لکھتے رہتے تھے۔نماز عشاء کے بعد فورا سو جاتے تھے ۔یعنی حافظ صاحب کا اوڑھنا بچھونا علم اور لکھنا تھا۔ والحمدللہ ۔حافظ صاحب کی ساری زندگی کتب کی تالیف ،ترجمہ اور تحقیق میں صرف ہوئی ہے تمام کتب ہی قیمتی ہیں لیکن نور العینین بلا مبالغہ اپنے موضوع پر انسائیکلوپیڈیا ہے اسی طرح ماہنامہ الحدیث ایک جدید طرز کا خالصۃ تحقیقی رسالہ ہے جو شاید اپنے انداز میں بر صغیر میں پہلا رسالہ ہےاور شیخ محترم کی بے شمار کتب وتحقیقات پہلے اس رسالے میں شائع ہوئی ہیں لیکن بعد میں کتابی شکل میں بھی شایع کی گئی ہیں ،اور انوار الصحیفۃ بھی قیمتی کتاب ہے کہ مختصر انداز میں روایات کی تحقیق کردی گئی ہے فجزاہ اللہ خیرا ۔یاد رہے کہ شیخ محترم کے منھج پر آخر میں بات ہو گی ۔
آخری ملاقات :
جب استاد محترم حافظ عبدالمنان نورپوری رحمہ اللہ کے جنازے پر محترم سے ملاقات ہوئی میں نے معانقہ کیا کچھ طلبہ محترم کے ساتھ تھا تو حافظ صاحب نے ان طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ہیں ابن بشیر الحسینوی صاحب وہ طلبہ بھی مجھ سے ملے ۔
منہجی اختلاف :
راقم نے یہ منہج حافظ صاحب سے ہی لیا تھا کہ کبھی کسی استاد کی تقلید نہیں کرنی بلکہ دلائل کی بنیا دپر اختلاف کرو اور الحمدللہ جو بات یا تحقیق کسی کی صحیح ہو وہ سر آنکھوں پر لیکن ہمیں شیخ محترم سے بعض منہجی و تحقیقی و اصولی اور منہجی اختلاف ہے (شیخ محترم کی ہر ہر کتاب میں علمی و منہجی اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور اہل علم اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ غلط بات کی تردید کی جائے اور غلط کو حق نہ سمجھا جائے !!) ۔اور یہ بات ہمارے ذہن میں ہے اور اسی منہج کو اپنے طلباء اور اپنی کتب و رسائل میں بھی عام کررہے ہیں اس سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی اسے کفر ،اسلام کی جنگ سمجھنا چاہئے جیسا کہ بعض طلبہ باور کرانا شروع کر دیتے ہیں ہماری زندگی کا منہج سچ کی تائید اور غلط کی تردید ہے خواہ غلطی کرنے والا حقیقی باپ ہی کیوں نہ ہو ۔راقم نے اپنی کتب ’’تخریج و تحقیق کے اصول و ضوابط ‘‘’’جر ح و تعدیل کے اصول و ضوابط ‘‘’’اصول حدیث رشحات قلم حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ ‘‘وغیرہ میں حافظ رحمہ اللہ کے منہج سے علمی اختلاف کیا ہے اور دلائل کے ساتھ کمزور منہج کی نشان دہی کی ہے ۔راقم ہر اس شخص کے لئے دعا گو ہے جس سے تھوڑا یا زیادہ فائدہ اٹھایا اللہ تعالی مجھے ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
نماز جنازہ میں شرکت : جب حافظ صاحب کے فوت ہونے کی اطلاع ملی تو اللہ تعالی نے جنازے میں شرکت کا موقع بھی دیا ۔اور چہرے کا دیداربھی کیا ۔رحمہ اللہ ۔اللہ تعالی محترم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے آمین ۔
میں حافظ صاحب کا مستقل شاگرد نہیں ہوں :
اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ میں نے حافظ صاحب سے مستقل نہیں پڑھا ،جس بنا پر میں ان کا شاگرد نہیں ہوں ۔ہاں میں نے ان سے اتنا فائدہ اٹھایا ہے شاید بعض مستقل اساتذہ سےبھی اتنا نہیں اٹھا سکا ۔اگر کسی جگہ میں نے انھیں استاد کہا بھی ہے تو وہ عرف کے لحاظ سے ہے کہ جس سے بھی انسان کچھ سیکھتا ہے اسے استاد کہہ دیتا ہے ۔
بعض کالم نگاروں نے حافظ صاحب کے حالات میں مجھے بھی ان کا شاگرد کہا ہے ۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment