فتاوی صدائے قلم شمارہ نمبر 369

از محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
رئیس جامعہ امام احمد بن حنبل ،سوہڈل آباد ،بائی پاس ،قصور
سوال:قبر پر اذان دینا کیسا ہے ؟سردار شریف سوہڈل
جواب :قبرپر اذان دینا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں ۔ دین میں ہرنیا کام نکالناد رست نہیں بلکہ بہت بڑا گناہ ہے ۔قبر پر اذان کہنا علمائے احناف کی زبانی پڑھیں ۔جہاں بھی نماز پڑھنی ہو وہاں پر اذان کہنا مسنون ہے خواہ وہ مسجد ہو یا مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ۔افسوس کہ لوگوں نے بعض اور مقامات پر بھی اذانیں کہنا شروع کر دی ہیں جن کا ثبوت قرآن وحدیث میں کہیں نہیں ملتامثلاً ۱: بارش زیادہ ہو رہی ہو تو اس وقت اذانیں کہنا شروع کر دینا کہ بارش بند ہو جائے ۔۲:قبر پر اذان دینا۔۔نعیم الدین مرادآبادی بریلوی صاحب، در البحار کے حوالے سے لکھتے ہیں:من البدع التی شاعت فی بلاد الہندالاذان علی القبربعد الدفن۔ہندوستان میں عام ہونے والی بدعتوں میں سے ایک بدعت دفن کے بعد اذان کہنا ہے۔(منقول از جاء الحق:ج۱ص۳۱۸)ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں: لا یسن الاذان عند ادخال المیت فی قبری کما ہو المعتاد الان،قد صرح ابن حجر بانہ بدعۃوقال:من ظن انہ سنۃلم یصب۔میت کو قبر میں داخل کرتے وقت مروجہ اذان سنت نہیں حافظ ابن حجر المکی نے اس کے بدعت ہونے کی صراحت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جس نے اس کو سنت سمجھا،وہ درستی کو نہیں پہنچا۔(شامی:ج۳ص۲۳۵)شرعی عبادات کی تاریخ،دن،وقت اور جگہ مقرر شدہ ہیں،قبر ایک جگہ کا نام ہے وہاں پر وہی کام کئے جائیں گے جو ہماری شریعت نے مقرر کئے ہیں اپنی طرف سے کوئی بھی طریقہ مقرر کرنا درست نہیں ہے۔1:اذان کہنا ہماری شریعت نے مقرر کیا ہے اور اس کا محل اور وقت بھی بتایا ہے اور وہ نماز ہے۔2:قبر پر اذان کہنا ہماری شریعت میں کہیں نہیں بیان ہوا جو کرے گا ہم اس کو کہیں گے بھائی جان تم نے یہ کہاں سے لیا؟شریعت کی رو سے بیان کریں؟وہ اس کا جواب کبھی بھی نہیں دے سکتا؟!3:اذان کہنا عبادت ہے اور عبادات میں قیاس نہیں چلتا،تو قبر پر اذان کہنے کی شرعی دلیل چاہئے۔4:اذان کہنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے،قبر کے اندر بھی کیا شیطان اپنا حملہ کرتا ہے،یہ بلا دلیل بات ہے،شیطان کا انسان سے تعلق مرنے تک ہے نہ کہ مرنے کے بعد بھی۔5:اذان کہنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔جو اس وجہ سے قبر پر اذان کہنے کا جواز فراہم کرے،ہم عرض کریں گے کہ پھر ہر جگہ اور ہر کام سے پہلے،بلکہ ہروقت شیطان کو بھگانے کے اذانیں کہی جائیں؟!!کیا کوئی یہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ماھو جوابکم فھو جوابنا۔6:ہماری شریعت نے شیطان کو بھگانے اور اس سے بچنے کی مکمل رہنمائی فرمائی ہے،جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔اگر کوئی اسی علت پر مصر ہے تو معاذ اللہ شریعت کے نامکمل کی طرف کی اشارہ ملتا ہے حالانکہ یہ کوئی بھی نہیں کہتا!اس کے کئی اور بھی جوابات دئیے جا سکتے ہیں مگر ہم انھیں پر اکتفا کرتے ہیں۔
سوال :گمشدہ چیز کے لیے کون سی دعا پڑھی جائے ؟
جواب :سیدنا ابن عمر گمشدہ چیز کے لیے یہ پڑھا کرتے تھے :اَللّٰھُمَّ رَدَّ الضَّالَّۃِ وَھَادِی الضَّالَّۃِ تَھدِی مِنَ الضَّلَالَۃِ رُدَّ عَلَیِّ ضَالَّتِی بِقُدرَتِکَ وَ سُلطَانِکَ مِن عَطَائِکَ وَ فَضلِکَ ۔(الدعوات الکبیر للبیہقی :۴۶۲،۴۶۳،امام بیہقی نے اس کو حسن کہا ہے اور امام ضیاء مقدسی نے صحیح کہا ہے ۔کذا فی (الفتوحات لابن علان :۵؍۱۵۲)امام حاکم نے کہا :رواتہ موثقون مدنیون لا یعرف واحد منہم بجرح ۔نیز دیکھیں :نزل الابرار فی سلسلۃ الصحیحۃ من الآثار رقم :۵۶)
سوال : نماز عشاء سے پہلے اور بعد کتنی سنتیں ادا کرنی چاہیے ؟
جواب :سیدنا عبداللہ بن زبیرسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ ما من صلاۃ مفروضۃ إلا وبین یدیھا رکعتان‘‘’’کوئی فرض نماز ایسی نہیں ہے جس سے پہلے دو رکعتیں نہ ہوں۔‘‘ ( صحیح ابن حبان ، الاحسان: ۲۴۴۶ وسندہ صحیح اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے ) نمازِ عشاء کے بعد دو رکعت پڑھنا:سیدہ ام حبیبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جس شخص نے دن اور رات میں ( فرضوں کے علاوہ ) با رہ رکعتیں پڑھیں اس کے لئے بہشت میں گھر بنایا جاتا ہے ( ان میں ) دو رکعتیں نماز عشاء کے بعد ( بھی) ہیں۔ (سنن الترمذی : ۴۱۵ وقال :حسن صحیح)۶۔ نمازِ عشاء کے بعد گھر میں آکر چار رکعتیں پڑھنا بھی مسنون ہے۔ ( صحیح البخاری : ۱۱۷)
سوال : نماز وتر کا وقت بتائیں ؟
جواب : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس کو ڈر ہو کہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا تو وہ رات کے اول حصے میں (نماز عشاء کے بعد)پڑھ لے۔اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں اٹھے گا تو وہ وتر رات کے آخری حصے میں پڑھے اس لیے کہ آخری رات کی نماز ایسی ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ (صحیح مسلم: ۷۵۵)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی وصیت کی ۔ (صحیح البخاری: ۱۱۲۴، صحیح مسلم: ۷۲۱)ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے وتر اول رات میں اور درمیان رات میں اور آخر رات میں سب وقت ادا کیے ہیں اور آپ کے وتر کی انتہا سہری تک ہوئی۔ (صحیح مسلم:۷۴۵، دارلسلام: ۱۷۳۷) نماز کے آخری حصے (فجر)تک نماز وتر کا وقت ہے۔ (صحیح مسلم:۷۴۵، دارالسلام: ۱۷۳۸)رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں جب صبح (صادق)ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو ۔یہ ایک (رکعت پہلی ساری)نماز کو طاق بنا دے گی۔(صحیح البخاری:۹۹۰،۹۹۳صحیح مسلم:۷۴۹)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment