شیخ علی حسن حلبی کی کتاب (طليعة التبيين ) کا تعارف

از حافظ خضر حیات مدنی حفظہ اللہ

شیخ علی حسن حلبی حفظہ اللہ علمی حلقوں میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ، شیخ البانی رحمہ اللہ کے مشہور تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ، اب تک مختلف موضوعات پر درجنوں کتب تصنیف و تالیف فرماچکے ہیں ، برصغیر کے اہل علم سے بھی ان کا خصوصی تعلق ہے ، گذشتہ سال انڈیا میں شیخ عبد المعید مدنی حفظہ اللہ کے زیر سرپرستی جمعیت اہل حدیث کی طرف سے شیخ الکل سید نذیر حسین رحمہ اللہ کی حیات و خدمات پر ایک ندوہ کا انعقاد ہوا ، جس میں بذریعہ ویڈیو پیغام شیخ حلبی نے بھی شرکت کی ، اور شیخ الکل کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش فرمایا ۔
شیخ رحمہ اللہ کی کتابوں سےمیرا تعارف ان کے محدث ہونے کی بنا پر ہے ، لیکن انہوں نے منہج ، عقیدہ و دیگر موضوعات پر بھی بہت کچھ لکھا ہے ، اس وقت شیخ کی کتاب ’ طلیعۃ التبیین ‘ کے حوالے سےکچھ تعارفی باتیں کرنے کا اراد ہ ہے ۔

کتاب کا نام او ر موضوع :
کتاب کا مکمل نام کچھ اس طرح ہے : طليعة التبيين في ثبوت وحدة المنهج النقدي عند عموم المحدثين ، و نقد مسالك المفرقين بين منهج علمائنا المتقدمين و المتأخرين ۔ گویا ’طلیعہ ‘شیخ کی ایک دوسری مفصل کتاب “التبيين ” کا مقدمہ ، ابتدائیہ اور اختصار ہے ، جس میں منہج محدثین کی وحدت کا بیان ہے ، اور متقدمین و متاخرین میں منہجی فرق کی سوچ رکھنے والوں کے افکار پر تنقید کی گئی ہے ۔
یہاں لفظ ’ طلیعہ ‘ پر تھوڑی توجہ کرلیں ، طلیعہ لشکر کے ہراول دستے کو کہتے ہیں ،جو مخالف سمت کا سب سےپہلے سامنا کرتا ہے، اور بعد والوں کو صورت حال سے آگاہ کرتا ہے ۔ متقدمین و متاخرین کے درمیان تفریقی سوچ کے رد پر شیخ کی یہ پہلی کتاب ہے ، اور اس سے گویا وہ طرف ثانی کو مزید کریدنا چاہتے ہیں ، کہ ان کے پاس مزید کیا ہے ، تاکہ آئندہ تفصیلی کتاب میں وہ سب بحثیں سمو دی جائیں ۔
اس سے قبل شیخ معلمی بھی اپنی کتاب ’ التنکیل بما فی تانیب الکوثری من الأباطیل ‘ سے پہلے ’ طلیعۃ التنکیل ‘ کو نشر کرکے یہ انداز اختیار کر چکے ہیں ، گو اب طلیعۃ اور تنکیل دونوں اکٹھی ہی مطبوع ہوتی ہیں ۔

تمہیدی مباحث :
’ مداخل علمیہ ‘ کے عنوان سے کتاب کی ابتدا کچھ تمہیدی مباحث سے کی گئی ہے ، جس میں اس تفریقی سوچ کی سطحیت کا ذکر ہے اور اس کے نتائج کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ کتاب کا اسلوب ِ رد ہلکا سے ہلکا رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، لفظی اعتراضات اور ظاہری ایرادات میں الجھنے کی بجائے ، سیاق و سباق اور مقصدِ کلام مد نظر رکھتے ہوئے تبصرہ کیا گیا ہے ۔ کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ لطافتِ اسلوب سے متعلق مصنف نے جو وعدہ کیا ہے ، کافی حد تک اس کے پابند رہے ہیں ، بلکہ جب بھی کسی بڑے چھوٹے عالمِ دین کا ذکر کرتے ہیں ، عموما ’ الشیخ ‘ ، ’الدکتور ‘ ، الفضیلۃ ‘ جیسے سابقے اور ’ وفقہ اللہ ‘ ، ’ سددہ اللہ‘ جیسے دعائیہ کلمات کا التزام کرتے ہیں ۔ بعض جگہ پر اسلوب میں کچھ سختی ہے ، جس کی وجہ بھی شروع میں ہی بیان کر چکے ہیں ۔ شیخ نے کتاب میں فریق ثانی کی طرف سے بہ کثرت نقولات ذکر کی ہیں ، حتی کہ مطبوعہ کتابوں سے ہٹ کر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحثوں کے اقتباسات تک موجود ہیں ، اس طرزعمل کی توجیہ کے طور پر انہوں نے چار نکات بیان کیے ہیں :
1۔ تاکہ ان کے اقوال انہیں کے لیے الزامی طور پر پیش کیے جائیں ۔
2۔ اس تفریقی سوچ کے قائلین کا تناقض و تعارض واضح ہو ۔
3۔ اس منہج کے قائلین کے نظریات اور تطبیقات میں موجود خلا سامنے آئے ۔
4۔ قارئین کتاب کو اندازہ ہو کہ ہم ان لوگوں کے افکار سے تفصیلی طور پر واقف ہیں ، اور اس طبقے کی علمی و تحقیقی کاوشوں سے ہم ان میں سےبھی بعض لوگوں سے زیادہ باخبر ہیں ۔

  1. اصلی مباحث :
    کتاب کو ابواب ، فصول یا مین اور ذیلی سرخیوں میں تقسیم کرنے کی بجائے کچھ عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا ہے ، اور ان تمام عناوین کو ایک مسلسل نمبرنگ دے دی گئی ہے ، یوں کتاب میں تمہیدی مباحث کو شمار کرکے آخر تک تقریبا چالیس سے زائد اہم عناوین کی ایک لڑی پرو دی گئی ہے ۔
    ابتدا میں کچھ مستقل عناوین کے تحت خیر القرون کی فضیلت ، متقدمین علما کی علوشان کا ذکر ہے ، پھر اس حقیقت کا بیان ہے کہ ’ الفضل للمتقدم ‘ اور ’ کم ترک الأول للآخر ‘ جیسے حقائق ایک دوسرے سے متعارض نہیں بلکہ متناسق ہیں ۔ کتب تاریخ و تراجم سے کئی ایک مثالیں ذکر کی گئی ہیں کہ کس طرح علماء کرام ایک دوسرے سے علمی بنیادوں پر اختلاف رکھتے تھے ، اور اصغر و اکبر کی تفریق کے بغیر حق بات کی طرف رجوع کرلیا کرتے تھے ۔
    منہج متقدمین و متاخرین میں تفریقی سوچ رکھنے والے اہل علم میں اس منہج کی تأصیل و تعریف میں شدید اختلاف ہے ، بلکہ بعض دفعہ ایک ہی مصنف ایک ہی کتاب میں متعارض باتیں کرتے پائے گئے ہیں۔ کتاب میں یہ ساری باتیں قدرے تفصیل سے آگئی ہیں ۔ چیدہ چیدہ عناوین کو اردو میں ذکر کرتا ہوں ، تاکہ کتاب کے تعارف میں ممد و معاون ثابت ہوسکیں :تفریقی دعوی کی سلبیات ۔متاخرین کے منہج سے اختلاف کرنے والے در حقیقت ان کی ہی علمی کاوشوں کے اسیر ہیں ۔مزعومہ منہجی تاصیل کا لازمی نتیجہ ہے کہ بعض کبار متقدمین کو متاخرین میں شمار کیا جائے ۔ تفریقی سوچ رکھنے والوں کے ہاں اصلِ دعوی میں اضطرابات کے کچھ نمونے۔ اتفاق و اجماع متقدمین کا دعوی اور اس کی حقیقت ۔ تفریقی سوچ متاخرین و معاصرین علماء کی بات کو رد کرنے کا ایک سطحی بہانہ اور غیر علمی انداز ہے ۔ مسائلِ عقیدہ اور منہجِ محدثین ۔ محدثین کے ہاں حکم علی الأحادیث کا انداز ۔تفریقی سوچ کا مقصد اتفاق ہےیامزید انتشار و افتراق ۔ علمی پختگی اور تفریقی سوچ ۔ علما متقدمین ہوں یا متاخرین ، سب لائق ادب و احترام ہیں ۔ احادیث کی تصحیح و تضعیف اور رواۃ کی تجریح و تعدیل میں فرق ۔
    سب سے آخری عنوان میں شیخ نے تفریقی سوچ رکھنے والوں کے اسلوب اور طرز استدلال میں پائی جانے والی خامیوں کو پانچ نکات میں ذکر کیا ہے ، جنہیں اختصار کے ساتھ یہاں ذکر کردیا جاتا ہے :
    1۔ علمی قصور : ان اصحاب کا دعوی سبر و تفتیش اور استقراء تام کا ہوتا ہے ، جبکہ حقیقت میں متاخرین سے ان کا اختلاف ان کے علمی قصور کا نتیجہ ہے ۔
    2۔ تشکیک :جب ان کے استدلالات اور تاصیلات کے خلاف ان کے کسی من پسند امام کی بات آرہی ہو ، تو اس قول کی صحت ، یا کتاب کی نسبت میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
    3۔ تشقیق : اگر کسی امام کا قول ، حکم ان کے اختراعی قاعدے سے ٹکرار رہا ہو ، کوئی رد نہ بن پڑے ، تو بلاوجہ کی تفریقات ذکر کرنا شروع کردیتے ہیں ، مثلا یہ کہ فلاں بات حدیثی نقطہ نظر سےتو اسی طرح ہے ، جبکہ امام کی بات کا تعلق فقہی حیثیت سے ہے ۔ یا اس بات کا تعلق سند سے ہے ، جبکہ دوسری بات متن کے بارے کہی گئی ہے ۔
    4۔ تأویل : ائمہ کے اقوال کو بلا قرائن اپنی تاویلات کی بھینٹ چڑھانا ، اس طبقے میں عام ہے ۔ مثلا راوی کو ثقہ کہنے سے مراد ’ ضبط ‘ نہیں صرف ’عدالت ‘ ہے وغیرہ ۔
    5۔ تشغیب : دلیل سے خالی شور وغل کرنا ، علمی بات کا علمی جواب کی بجائے ، متاخرین ، معاصرین کے طعنے دے کر بات رد کردینا۔
    کتاب کا ایک حصہ یہیں ختم ہوتا ہے ، جو کہ تقریبا دو سو صفحات کو محیط ہے ۔
    اس کے بعد شیخ کے وطن اردن کے دو دکاترہ کے درمیان ہونے والی سوال و جواب پر مشتمل ایک علمی مجلس کا تفصیلی رد ہے ، چالیس پینتالیس نکات پر مشتمل یہ رد تقریبا ایک سو بیس صفحات پر مشتمل ہے ، جس کا موضوع بھی اول تا آخر منہج محدثین اور تفریقی سوچ ہے ۔

  2. تفریقی منہج کے مشہور مسائل :
    اس مرحلے میں فاضل مصنف ان اہم مسائل کو زیر بحث لائے ہیں ، جو تفریقی سوچ رکھنے والے اہل علم کا پسندیدہ موضوع ہیں ، ’ مسائل و دلائل ‘ کے عنوان کے تحت یہاں تفرد ، زیادت ثقہ ، علت ،حدیث حسن ، تدلیس ، متابعات و شواہد کل چھے مسائل ذکر کیے گئے ہیں، اور مختصر انداز میں ان کے اندر تفریقی سوچ کی غلطی کو واضح کیا گیا ہے ، کہ کسی بھی مسئلہ میں ایسا نہیں ہوا، متقدمین سب ایک طرف ، اور متاخرین ان کے برعکس دوسری طرف ہوں ، جسے بنیاد بناکر تفریقِ منہج کا ڈھول پیٹنا شروع کردیا جائے ۔
    کتاب کے آخر میں دو مشہور معاصر مصری اہل علم شیخ احمد معبد عبد الکریم اور شیخ ابو اسحاق الحوینی کے مقالات منسلک کردیے گئے ہیں ، جنہوں نے انتہائی مختصر ،اور سہل انداز میں اس تفریقی منہج کی غلطی اور تناقض کو واضح کردیا ہے ۔

  3. کتاب کی کچھ خصوصیات :
    1۔ شیخ حلبی ایک بہترین ادیب بھی ہیں ، کتاب ایک بہترین نقد ہونے کے ساتھ عربی نثر کا بھی ایک بہترین نمونہ ہے ۔ نئے نئے الفاظ ،تراکیب اور جملے پڑھنے کو ملیں گے ۔
    2۔ کتب کا انداز مناقشے اور حوار کا ہے ، کتاب کو پڑھنے سے عربی زبان میں ان مسائل کو زیر بحث لانے کی استعداد پیدا ہوتی ہے ۔ بر محل اشعار ، اور ضرب المثل کا اسلوب کتاب میں جا بجا نظر آتا ہے ۔
    3۔ جدید طرز تحریر میں علامات ترقیم کی بہت اہمیت ہے ، شیخ علی حسن الحلبی کی یہ کتاب عنوان سے لیکر لفظ اخیر تک علامات ترقیم سے مزین و مزخرف ہے ، رموز اوقاف کی عملی تطبیق دیکھنےکے لیے شیخ حلبی کی کتابیں بہترین ہیں ۔
    4۔ عربی زبان میں حروفِ جر وغیرہ صِلات کی بہت اہمیت ہے ، شیخ نے علامات ترقیم اور صلات کے ملے جلے استعمال سے عجیب سما ں پیدا کردیا ہے ۔
    5۔ کتاب میں قدیم و جدید کتب کے بہ کثرت حوالے ہیں ، علوم حدیث کا ذوق رکھنے والے کتاب کے مطالعہ کے دوران بیسیوں نئی کتابیں ملتے جلتے موضوعات پر نوٹ کرسکتے ہیں ۔ بلکہ کئی ایک ایسے علماء ، طلابِ علم اور باحثین کے نام آئے ہیں ، جو سوشل میڈیا پر متحرک ہیں ، عالم عرب میں علوم حدیث کے تعلق سے بحث و مباحثہ کی فضا سے مطلع رہنے کے لیے ان ناموں کو نوٹ کیا جاسکتا ہے ۔
    6۔ کتاب کا موضوع ’ منہج نقد روایات ‘ ہے ، کتاب کے مطالعہ سے اس فن کا پس منظر پیش منظر سمجھنے میں مدد ملتی ہے ، اور بہت سارے تصورات اور علمی آفاق کھلتے محسوس ہوتے ہیں ۔ انکار حدیث جیسے فتنوں کا مقابلہ کرنے والے طالبان ِعلم و تحقیق کے مطالعہ میں ایسی کتابیں ہونی چاہییں ، تاکہ انکار حدیث جیسے فتنوں کا رد کرتے کرتے ہم اصل منہج سے نہ پھسل جائیں ، بالکل اسی طرح جیسے منکرین حدیث ملحدین و معترضین کے ڈر سے یہاں تک پہنچ گئے ہیں ۔
    7۔ کتاب کے مطالعہ سے ایک عزم و ہمت پیداہوتاہے ، کہ محدثین کے نقش قدم پر چلنے والے معاصر اہل علم اس دور میں بھی کس قدر محنت کرتے ہیں ، ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل شیخ کی یہ کتاب انہوں نے تقریبا تین چار ماہ میں مرتب کی ہے ، بلکہ لکھتے ہیں ، یہ میری پہلی کتاب ہے، جو میں نے خود کمپیوٹر پر ٹائپ کی ہے ۔ فجزاہ اللہ خیرا۔
    نوٹ :کتاب طبع بھی ہوچکی ہے ، اور انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے ، لیکن پی ڈی ایف نسخہ براہ راست کمپیوٹر فائل سے بنایا گیا ہے ، مطبوع کتاب کی تصویر نہیں ہے ۔

  4. کتاب کے اختتام میں اہل علم بالخصوص علوم حدیث میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کے لیے چند نصیحتیں نقل کی گئی ہیں ، اس تعارفی تحریر کا اختتام بھی انہیں میں سے ایک نصیحت پر کیا جاتا ہے ، شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    ’میری نصیحت ہے کہ ، تصحیح و تضعیف کے حوالے سے لکھنے والے ، تحمل سے کام لیں ، حکم حدیث میں جلدی بازی سے گریز کریں ،اس علم کے اصول و ضوابط ، تراجم ِرواۃ ، اور علل سیکھنے میں ایک طویل عرصہ گزاریں حتی کہ وہ اس علم میں نظریاتی اور تطبیقی دونوں طرح مہارت محسوس کریں ، اور ان کی تحقیقات ذہبی ، زیلعی ، عسقلانی جیسے اس فن کے نمایاں حفاظ کے قریب قریب ہوں ۔ طالبان علوم حدیث کو میری یہ نصیحت ہے تاکہ ہم آیت ’ لا تقف ما لیس لک بہ علم ‘ کے مصداق نہ بنیں ، اور ہمارا حال ’ تزبب قبل أن یتحصرم ‘ ( انگور بننےسے پہلے منقی ہونے کا دعوی کرنا)والا نہ ہو ، اور ہم ’ من استعجل الشیء قبل أوانہ ، ابتلی بحرمانہ ‘ (کسی چیز کی قبل از وقت حصول کی کوشش اس سے محرومی کا سبب بن جاتی ہے) کا شکار نہ ہوجائیں ۔ ساتھ ہمیں یہ قول بھی یاد رہنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی معصوم عن الخطا نہیں ہے ، ہر ایک کی بات اختیار بھی کی جاسکتی ہے ، چھوڑی بھی جاسکتی ہے ۔‘ ( السلسلۃ الضعیفۃ : 4 /8 )۔

    ختم شد​

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment