الجامع الکامل کے امتیازات

از محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
اللہ رب العزت کروڑوں رحمتیں نازل کرے ان لوگوں پر جن کا اوڑھنا بچھونا قرآن و حدیث ہے انھیں خوش قسمت لوگوں میں سے ہمارے ممدوح امت مسلمہ کے محسن الاستاذ المحقق المحدث الدکتور عبداللہ الاعظمی المعروف بالضیاء حفظہ اللہ بھی ہیں۔جنھوں نے پچیس جلدوں پر مشتمل کتاب (الجامع الکامل )تالیف فرما کر کتب حدیث میں بے مثال اضافہ فرما دیا یہ صرف کہنے کو حدیث پر ایک کتاب ہی نہیں بلکہ اسم با مسمی ہے ۔
(الجامع)تمام صحیح احادیث کو جمع کرنے والی والی ایسی مثال سلف و خلف میں نہیں ملتی منتشر صحیح احادیث ایک جگہ فقہی ترتیب سے صرف الجامع الکامل ہی میں مل سکتی ہیں ۔
(الکامل)دین اسلام کا ہر مسئلہ کے متعلق قرآن و حدیثکے تمام دلائل جمع کر دیئے ہیں اگر ایک مسئلہ میں ایک سو احادیث صحیح ہوں تو وہ تمام کی تمام اس کتاب میں جمع شدہ ملیں گی ۔ان شاء اللہ
(الحدیث الصحیح )صرف مرفوع صحیح احادیث کا انتخاب کیا گیا ہے کسی ضعیف حدیث سے استدلال نہیں کیا گیا تمام دین قرآن و حدیث کی صورت میں ایک جگہ جمع کر دیا ہے ۔والحمد للہ ۔
(الشامل )مصنف حفظہ اللہ کا دعوی ہے کہ انھوں نے کسی صحیح حدیث کو چہوڑا نہیں ،ہر ہر صحیح حدیث کو اس میں جمع کیا گیا ہے خوہ وہ کہاں بھی ہو ۔والحمد للہ ۔

الجامع الکامل کے امتیازات :

١:احادیث کی تخریج و تحقیق بالاستعاب کی گئی جو حدیث بھی لائی گئی اس کی تخریج و تحقیق ضرور کی گئی محدثین کے اصولوں کی روشنی میں اور کوئی شاذ اصول استعمال نہیں کیا گیا اور ہر حدیث پر صحت کا حکم ضرور لگایا گیا ۔
٢:جابجا فقہی مسائل ،لغوی بحوث مشکل الحدیث کا بہترین حل کتاب میں بے نظیر حسن اور جامعیت پیدا کر دی ۔
٣:ہر مسئلہ میں احادیث صحیحہ کے تحت وارد ہونے والی ضعیف احادیث کی بھی نشان دہی کر دی گئی ،حقیقت میں یہ انداز بیمار اور کمزور شفا پہنچاتا ہے مخالف کی دلیل کا توڑ کرتا ہے اور غیر ثابت حدیث کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔
یہ کتاب اس دور میں لکھی گئی جب لوگوں نے حدیث رسول پر محنت کرنا چھوڑ دی تھی عامی تو عامی پوری زندگی پڑھنے پڑھانے والے بھی حدیث کی چند ایک محدود کتب کے مطالعہ سے تجاوز نہیں کرتے ۔مثلا اگر کوئی استاذ محترم حدیث پڑھا رہے ہیں احادیث پر وسعت نظر ،تمام کتب حدیث کا دقیق نظر سے مطالعہ ،حدیث کے تمام منتشر الفاظ پر نظر اور فنون حدیث پر کڑی نظر خال خال ملتی ہے ۔
الجامع الکامل حدیث کے اساتذہ کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی مثل ہے جو ابواب کسی حدیث کی کتاب کے پڑھائے جا رہے ہوں تو وہی ابواب الجامع الکامل سے بھی مطالعہ کیا جائے تو گویا استاد صاحب نے صرف نصابی کتاب کا ہی مطالعہ نہیں کیا بلکہ اس نے اسی مسئلہ کے متعلق تمام احادیث خواہ وہ صحیح ہوں یا ضعیف کا مطالعہ کر لیا ہے خواہ وہ صحیح بخاری ،مسلم میں ہوں ،یا کتب سنن میں یا مسانید میں یا معاجم میں یا اجزاء میں یا مصنفات یا غریب الحدیث میں یا کتب رجال میں یا دیگر کتب میں ہوں ۔اور پھر ہر حدیث کی تحقیق و تخریج سے آگاہی بھی کہ کونسی صحیح ہے اور کونسی ضعیف ،استدلال کس سے کرنا اور کس سے نہیں اگر صحیح ہے تو کیوں اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے تو کیوں؟والحمدللہ
یہ کتاب فن حدیث میں ماہر رجال جنم دے گی اور موجودہ کمی کو پورا کرے گی ان شاء اللہ ۔
اللہ رب العزت اس کے جامع کی حفاظت فرمائے ان کی زندگی اور مال میں برکت فرمائے اور اسن کی دیگر کتب اور اس کتاب کو ان کے لئے ذریعہ نجات بنائے اور ان کی حدیث پر اس عظیم ترین خدمت کے روز قیامت حدیث کے خادموں میں ان کا شمار فرمائے ۔آمین

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment