سوالات کے جوابات صدائے قلم شمارہ ۳۵۵

  1. ازمحمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
    رئیس جامعہ امام احمد بن حنبل ،سوہڈل آباد ،بائی پاس ،قصور
    سوال: رات کو سونے سے پہلے سورۃ الملک کی تلاوت کرنے کا ثواب کیا ہے ؟مزمل عارفی
    جواب :سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :بے شک قرآن کی سورتوں میں ایک ایسی صورت ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ اس کے پڑھنے والے کے لیے سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو معاف کردیا جائے گا ۔اور وہ سورۃ الملک ہے ۔(سنن ابی داود :۱۴۰۰ ،سنن الترمذی : ۲۸۹۱ ،اسنادہ حسن )سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے سورۃ الم السجدہ اور سورۃالمک پڑھتے تھے ۔(سنن الترمذی :۲۸۹۲،حسن )نیز دیکھیں ( الجامع الکامل :۱۱؍۲۲۱۔۲۲۲) اس سے معلوم ہوا کہ سونے کے وقت دونوں سورتوں کی تلاوت کرنا مسنون ہے ۔تنبیہ : سورۃ النبا ء (عم یتساء ،لون )کی بھی تیس آیات ہیں لیکن مذکورہ حدیث میں سورۃ الملک ہی مراد ہے نہ کہ سورۃ النباء۔
    سوال :کیا نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیسے سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ان کے ساتھ نکاح کے وقت کچھ جہیز خرید کر دیا تھا ؟سردار محمد شریف سوہڈل
    جواب :ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ درست بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز کا کچھ سامان دیا تھا۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جہز رسول اللہ ﷺ فاطمۃ فی خمیل ، قربۃ ، و وسادۃ أدم ، حشوہا لیف الاذخر ۔رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کیا ایک چادر ،مشک اور تکیہ کے ساتھ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی ۔(صحیح ۔سنن النسائی :۳۳۸۴ ، مسند احمد :۶۴۳نیز دیکھیے الجامع الکامل :۶؍۲۵۵)اس سے ثات ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے تعاون ، صلہ رحمی اور تحفے کے طور پر اپنے گھر سے ہی اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیا تھا۔
    سوال :کیا سفید مرغ پالنے کی فضیلت میں کوئی حدیث آتی ہے ؟
    جواب :سوشل میڈیا پر بعض ان پڑھ لوگ جھوٹی اور من گھڑت روایات شیئر کرتے رہتے ہیں ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کسی بھی چیز کو شیئر یا بیان کرنے سے پہلے علماٗ کرام سے تصدیق کروالینی چاہیے کہ یہ روایت ثابت بھی ہے یا نہیں کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے کوئی دنیاوی صحافت نہیں ۔رسول اللہ ﷺ نے سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے منع فرمایا ہے ۔(مسلم :)ایک روایت فیس بک پر عام کی جارہی ہے کہ مرغ نماز کے لیے جگاتاہے ،جو سفید مرغ پالے گا ۔ اللہ پاک تین چیزوں سے اس کی حفاظت فرمائیں گے ۔ہر شیطان ،جادو گر اور کاہن سے ۔(بیہقی :۷؍۴۱۴)یہ روایت ثابت رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس کی سند منقطع اورضعیف ہے ،اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش غیر شامیوں سے بیان کررہے ہیں اور جب شامیوں کے علاوہ سے بیان کریں تو روایت ضعیف ہوتی ہے ۔اورعمر بن محمد بن زید نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نہیں پایا ہے ۔ان دو وجوہات کی وجہ سے یہ روایت ثابت نہیں ہے ۔اس کو رسول اللہ ﷺکی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔اس روایت کی تحقیق میں ہمارے فاضل بھائی اکبر علی سلفی حفظہ اللہ نے مفصل مضمون لکھا ہے ۔
    سوال :ایک مشہور روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :انا مدینۃ العلم و علی بابھا ۔میں علم کا شہر ہوں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کا دروازہ ہیں ۔کیا یہ روایت ثابت ہے ؟
    جواب : یہ موضوع روایت ہے ،اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔اس کی سند میں عبدالسلام بن صالح الھروی متہم بالکذ ب راوی ہے ۔دیکھئے (الضعیفہ لامام البانی :۲۹۵۵)سیدنا علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ ہیں ۔ان سے محبت ایمان سے ہے ۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بہت سے فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں لیکن جس فضیلت کے بارے میں سوال کیا گیایہ ثابت نہیں ہے ۔تفصیل کے لیے دیکھئے (الجامع الکامل :۹؍۶۳ ۔۷۸)
    سوال : کیا سفر میں دونمازوں کو جمع کر کے پڑھنادرست ہے ؟
    جواب : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم غزوۂ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ نکلے، آپ ظہر و عصر کی نماز اکٹھی ( جمع کر کے ) پڑھتے تھے اور مغرب و عشاء کی نماز اکٹھی پڑھتے تھے۔ ( صحیح مسلم : ۷۰۶)مقیم آدمی بھی بارش ، خوف یا شدید عذر کی بنیاد پر دونوں نمازیں جمع کر سکتا ہے۔(دیکھئے صحیح مسلم : ۷۰۵)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بارش میں دو نمازیں اکٹھی پڑھتے تھے ۔( موطأ امام مالک ص ۱۲۶ وسندہ صحیح )اس سے ثابت ہوا کہ سفر میں دونمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا درست ہے ۔
    سوال ـنماز وتر کی رکعات کی تعدادبیان کریں ؟
    جواب : ایک وتر:سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’الوتر رکعۃ من آخر اللیل‘‘ وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصے میں۔(صحیح مسلم:۷۵۲)ایک وتر کے مسنون ہونے پر بہت زیادہ دلائل ہیں تفصیل کا طالب (الدلیل الواضح از:شیخ عبدالعزیز نورستانی )کی طرف رجوع کرے۔تین اورپانچ وتر:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :وتر ہر مسلمان پرحق ہے پس جس کی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے۔ (سنن النسائی:۱۷۱۰، صححہ الألباني)تین وتر پڑھنے کا طریقہ: دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں پھر ایک وتر الگ پڑھیں۔(صحیح البخاری:۶۲۶،صحیح مسلم:۷۵۲)یا تین وتر اکٹھے پڑھنا اورتشہد صرف آخری رکعت میں بیٹھنا ۔ (مسلم:۷۳۷)تنبیہ:تین وتر دو قعدوں اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا منع ہے۔رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تین وتر (اکٹھے)نہ پڑھو،پانچ یا سات پڑھو۔اور مغرب کی مشابہت نہ کرو۔(سنن الدار قطنی:۱۶۳۴،صحیح ابن حبان:۶۸۰،واسنادہ صحیح )تفصیل کے لیے دیکھئے (فتاوی الدین الخالص:۵/۵۳۶۔۵۳۸)جب تین وتر پڑھنے ہوں تو پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی دوسری میں سورۃ الکافرون اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنی چاہیے۔(سنن ابو داؤد: ۱۴۲۳، سنن ابن ماجہ: ۱۱۷۱ ۔ صحیح)سات(۷) وتروں کے ثبوت کے لیے دیکھئے۔ (صحیح مسلم:۱/۲۵۶)نو (۹)وتر وں کے ثبوت کے لئے دیکھئے۔ ( صحیح مسلم:۱/۲۵۶) نو (۹) وتروں میں پہلا تشھد اس وقت ہو گا جب آٹھ رکعات مکمل ہو جائیں اور دوسرا تشہد نو یں رکعات میں کرنا ہے۔ (مسلم:۱/۲۵۶)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment