نماز میں قرآن پکڑ کر تلاوت کرنا

مکمل سوال ١:شیخ آپ نے لکھا کہ مصحف اٹھانا اس لیے درست نہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھے دائیں کو بائیں پر رکھنے کی مخالفت ہوتی ہے جبکہ حدیث ایسے کرنے کا کہتی ہے. پھر نماز میں بچہ آٹھا کر پڑھنے کا بھی جواز ختم اسی اصول سے؟ اگر وہ جائز تو بچہ اٹھانے سے ہاتھ باندھنے کی تلقین والی ساری روایات ہضم اور مصحف اٹھانے کا بھی جواز نکل آیا. ٢:نماز میں ادھر ادھر جھانکنے سے منع ہے. کیا نماز میں امام کی طرف دیکھا جاسکتا ہے؟ اور مصحف ہاتھ میں ہوتو ادھر ادھر جھانکنے کی نوبت ہی نہیں آتی. بلکہ نظر اسی جگہ پر ہوتی ہے بس درمیان میں خلا کی جگہ مصحف آجاتا ہے ادھر ادھر تو نہیں جھانکا جاتا. ٣:آپ نے جو جواز پیش کیا کہ ضرورت کہ تحت دیکھا جاسکتا ہے سائیڈ پر یا سامنے رکھے ہوئے مصحف سے ناکہ اٹھانا یا مسلسل دیکھنا. اب ضرورت کے تحت دیکھنا بھی تو جھانکنا ہوگیا, اس کی دلیل؟ کیا یہ مخالفت نہیں اس حدیث کی کہ ادھر ادھر نہ جھانکیں. ٤:مسئلہ صرف اتنا ہے کہ جس کو زبانی قرآن نہیں آتا کیا وہ لکھے ہوئے کی مدد لے سکتا ہے؟ مصحف کا وزن سائز اب یہ باتیں نہیں رہیں. کیونکہ اب موبائل میں مصحف آگیا ہے اگلی ٹکنالوجی فضا میں ہوگا، نا ہاتھ بندھے کھولنے کی نوبت نہ ہی ادھر ادھر جھانکنے کی نوبت. تب دلائل کیا ہوں گے؟ براہ مہربانی ان سب نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب عنایت فرمائیں. جزاک اللہ الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب ان سب باتوں کا جواب میرے مضمون (حالت نماز میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قراءت کا حکم) میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ اسے دوبارہ بغور پڑھ لیں۔ 1۔ نماز میں ہاتھ باندھنے کے حکم سے دوران نماز بچہ اٹھانے کی رخصت ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ نماز میں بچہ کو اٹھانے کے ایسے انداز بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں جن سے ہاتھ باندھنے والے حکم پہ زد نہ پڑے اور ہاتھ بندھے رہیں۔ بچہ کو اٹھا نے کا طریقہ نبی صلى اللہ علیہ وسلم نے جو اختیار کیا اس میں سارے قیام میں ہاتھ بندھتے ہیں کیونکہ انہوں نے امامہ کو اٹھایا اور کندھے پر سوار کر لیا۔ امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: «بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ صَبِيَّةٌ يَحْمِلُهَا عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ، وَيُعِيدُهَا إِذَا قَامَ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا» ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم تشریف لائے انہوں نے امامہ بنت ابو العاص بن ربیع کو اٹھا رکھا تھا اسکی والدہ زینب بنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ہیں, امامہ ابھی چھوٹی بچی تھی, آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے کندھے پہ سوار کر رکھا تھا, تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی جبکہ وہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ہی تھی, جب آپ صلى اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اسے اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے پھر واپس اسی جگہ (یعنی کندھے پر) بٹھا دیتے, نماز مکمل کرنے تک آپ صلى اللہ علیہ وسلم اسکے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے۔ سنن أبی داود: 918 دیکھیے کتنی واضح بات ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صرف قیام کے آغاز میں امامہ رضی اللہ عنہا کو کندھے پہ سوار کرنے اور قیام کے اختتام پہ اسے اتارنے کے لیے ”اضافی حرکت” فرماتے۔ اور سارے قیام کے مقابل یہ عمل انتہائی قلیل ہے۔ اور شریعت کا اصول ہے : القلیل کالمعدوم قلیل تو نہ ہونے کی طرح ہوتا ہے۔ اور پھر بچہ کو کندھے پہ سوار کرنے سے ہاتھ آزاد رہتے اور انہیں باندھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بچہ بغل میں لینے کے باوجود بھی ہاتھ بندھ جاتے ہیں۔ لہذا بچہ کو نماز میں اٹھانا ہاتھ باندھنے کے منافی نہیں ہے۔ اور یہ حمل مصحف کے لیے دلیل نہیں بنتا۔ 2,3۔ بوقت ضرورت بقدر ضرورت التفات کی چند روایات میں نے مضمون میں درج کی ہیں ۔ التفات والا اعتراض انکی روشنی میں ختم ہو جاتا ہے۔ مصحف کی طرف مسلسل التفات جب وہ ایک سائیڈ پہ ہو , اس پہ نکیر کی گئی ہے۔ کیونکہ سارے قیام میں ایسا مسلسل التفات ثابت نہیں۔ 4- جسکو زبانی قرآن نہیں آتا اسے جتنا یاد ہے اسے ہی بار بار دھرائے ۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو سارا قرآن زبانی آتا تھا لیکن پھر بھی ایک رات تمام رکعتوں میں ایک ہی آیت بار بار دہراتے رہے۔ سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ بِآيَةٍ، وَالْآيَةُ {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک رات قیام کیا اور صبح تک صرف ایک ہی آیت بار بار تلاوت کرتے رہےوہ آیت یہ تھی: إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [المائدة: 118] سنن النسائی:1010 اور کچھ نہیں تو سورہ اخلاص تو سبھی کو آتی ہے اسے ہی بار بار پڑھتا رہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ القُرْآنِ» ایک شخص نے ایک آدمی کو قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھتے سنا وہ اسے ہی بار بار دہرا رہا تھا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور یہ بات آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی, اور وہ شخص اسے کم سمجھ رہا تھا, تو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے, یہ(سورہ اخلاص) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ صحیح البخاری:5013 دیکھیے اتنی عظیم سورت ہے اور اتنا زیادہ اجر ہے کہ ایک مرتبہ پڑھنے سے ایک تہائی قرآن کے برابر اجر ملتا ہے یعنی تین مرتبہ پڑھنے سے مکمل قرآن کے برابر اجر مل جاتا ہے۔ اور جب نمازی کا مطلوب ومقصود اجر ہی لینا ہےتو سورہ اخلاص ہی بار بار پڑھتا جائے جتنا مرضی لمبا قیام کر لے اسی کو دہرائے لمبے قیام کا بھی اجر ملے گا, تلاوت قرآن کا بھی, بلکہ اتنا زیادہ کہ کسی اور سورت کی تلاوت میں اتنا اجر نہیں۔ جب اتنی آسانی سے شرع کی پابندی کرتے ہوئے اتنا اجر مل رہا ہے تو شرع کی حکم عدولی کرنے کی کیا حاجت ہے؟۔ خوب سمجھ لیں! مصحف کا سائز بھی چھوٹا ہوگیا وزن بھی کم ہوگیا اور اب یہ موبائلوں میں دستیاب ہے۔ لیکن پھر بھی وہی مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ نمازی قیام میں ہاتھ نہیں باندھتا بلکہ مصحف یا موبائل کو تھامے ہوئے ہوتا ہے۔اور اسکی نظر قیام میں سجدہ والی جگہ پر نہیں بلکہ مصحف پہ ٹکی ہوتی ہے۔ یہ دو خرابیاں اس سے لازم آتی ہیں۔ ہاں اگر کوئی چھوٹے سے مصحف یا موبائل کو اس انداز میں پکڑے کہ اسکے ہاتھ باندھنے میں خلل واقع نہ ہو‘ تو اس پہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ مقصود شرعی احکام کی پابندی ہے۔ اور پھر اس طرح سے مصحف کو تھامنے والا اگر کبھی کبھار بوقت ضرورت نظر مصحف پہ ڈالے اور باقی اسکی نظر سجدہ والی جگہ پر ہی رہے تو یہ دوسرا اعتراض بھی ختم ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ جو حفاظ ہیں اور انہیں منزل اچھی طرح سے یاد نہیں نہ ہو, اور نماز میں انکا سامع بھی کوئی موجود نہ ہو ‘ ان کے لیے مصحف کی طرف کبھی کبھی التفات ہی کافی ہوتا ہے۔ جب مصحف فضاء میں ہوگا, تو اس وقت ہاتھ باندھنے والے فرمان کی حکم عدولی نہیں ہوگی۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہاں ایک اعتراض پھر بھی قائم رہے گا کہ نگاہ سجدہ والی جگہ کے بجائے کہیں اور ہے اور مسلسل ہے, تو یہ بھی درست نہیں۔ شریعت میں جو رخصت جس قدر ہے اسے اس قدر ہی رکھا جائے کھینچ کر بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment