فوت شدہ نمازوں کی قضائی کے لیے اذان ؟ مصدر

کیا فوت شدہ نمازوں کی قضاء دیتے وقت اذان کہنا ضروری ہے؟ الجواب بعون الوہاب ومنہ الصدق والصواب والیہ المرجع والمآب فوت شدہ نمازوں کی قضاء کی مختلف صورتیں ہیں ۔ مثلا: 1- کسی ایک فرد کی ایک ہی نماز قضاء ہو۔ 2۔ کسی ایک فرد کی ایک سے زائد نمازیں قضاء ہوں۔ 3- کسی جماعت کی ایک نماز قضاء ہو۔ 4- کسی جماعت کی ایک سے زائد نمازیں قضاء ہوں۔ اور ادائیگی کی جگہ بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ 1- جہاں کوئی مسجد وغیرہ نہ ہو‘ نماز باجماعت اور اذان کا اہتمام نہ ہو۔ 2- جہاں باجماعت نماز کا اہتمام ہو‘ اور باقاعدہ اذان دی جاتی ہو۔ مؤخر الذکر پہلی صورت میں مقدم الذکر چاروں ہی اذان دیں اور نماز ادا کریں۔ اسکی دلیل نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا سفر کا وہ واقعہ ہے جس میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی فجر کے لیے جگانے کی ذمہ داری لگائی گئی تھی ‘ لیکن انہیں بھی نیند آگئی اور سب سوئے رہے حتى کہ سورج طلوع ہوگیا۔ تو نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے‘ انہوں نے سب کو جگایا اور وہاں سے نکل کر آگئے گئے‘ اور اذان کہی گئی‘ سب نے فجر کی سنتیں ادا کیں اور پھر فجر کی نماز اقامت کہہ کر باجماعت ادا کی گئی۔ [سنن أبی داود: 437] اور مؤخر الذکر دوسری صورت میں سبھی اذان کہے بغیر نماز ادا کریں گے۔ اسکی دلیل وہ واقعہ ہے کہ جب ایک شخص مسجد میں اس وقت آیا جب جماعت ہو چکی تھی تو نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «أَيُّكُمْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا؟» تم میں سے کون اس پر اجر حاصل کرے گا؟ تو ایک شخص کھڑا ہوا ‘ اور اس نے اسکے ساتھ مل کر نماز ادا کی۔ [جامع الترمذی : 220] هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم
وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment