زکاۃ کسے دوں ؟

زکاۃ و صدقات کے کل مصارف صرف آٹھ ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالى کا فرمان ہے: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ صدقات صرف اور صرف فقراء‘ مساکین‘ زکاۃ کے عاملین‘مؤلفۃ القلوب, غلاموں (کی آزادی) غارمین, (جہادِ) فی سبیل اللہ‘ اور مسافروں کے لیے ہی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ تعالى خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے۔ سورۃ التوبۃ: 60 1- فقراء: اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنکا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ان فقراء کے لیے جو اللہ کی راہ میں روک دیے گئے ہیں وہ زمین میں (حصول معیشت کے لیے) چلنے پھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ (ان کے حالات سے) نا آشنا انکے سوال نہ کرنے کی وجہ سے انہیں غنی سمجھتا ہے۔ آپ انہیں انکی نشانیوں کے پہچان لیں گے۔ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔ سورۃ البقرۃ: 273 اس آیت کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالى نے فی سبیل اللہ یعنی جہاد کے لیے اپنی زندگیوں کو وقف کر دینے والوں کو فقراء کہا ہے کہ انکے پاس جہاد یا اسکی تیاری میں مصروف رہنے کی وجہ سے کمائی کرنے کی فرصت نہیں ۔ 2- مساکین: ان لوگوں کو کہتے ہیں جنکی آمدنی انکی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری نہ کرے۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا جو کشتی تھی تو وہ مساکینوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے, میں نے اسے عیب دار بنانا چاہا (کیونکہ) انکے آگے ایک بادشاہ ہے جو ہر (صحیح سلامت) کشتی چھین کر لے لیتا ہے۔ سورۃ الکہف: 79 عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ آیت یوں پڑھتے تھے: «أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا» انکے آگے ایک بادشاہ ہے جو ہر صحیح و سالم کشتی کو چھین کر لے لیتا ہے۔ صحیح البخاری: 3401 اس آیت مبارکہ میں اللہ سبحانہ وتعالى نے کشتی کے مالکان کو ”مساکین” کہا ہے۔ یہ کشتی کے مالک تھے‘ اپنا کاروبار تھا لیکن پھر بھی مسکین۔ کیونکہ انکی آمدن انکی زندگی کی بنیادی ضروریات پورا نہیں کرتی تھی۔ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔ «لَيْسَ المِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ، وَلَكِنِ المِسْكِينُ الَّذِي لاَ يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلاَ يُفْطَنُ بِهِ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلاَ يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ» مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا رہتا ہے‘ اسے ایک یا دو لقمے اور ایک یا دو کھجوریں دے دی جائیں تو چل دیتا ہے۔ لیکن مسکین وہ ہے جو نہ تو اتنا مال رکھتا ہے جو اسے بے نیاز کر دے اور نہ اسکا پتہ چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ کھڑا ہو کر لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ صحیح البخاری: 1479 الغرض مسکین وہ ہوتا ہے کہ جسکے پاس مال ہو‘ لیکن اتنا نہ ہو کہ اسکی ضروریات پوری ہو جائیں اور وہ غنی و بے نیاز ہو جائے۔ لیکن اپنی خودداری کی بناء پر وہ کسی سے مانگتا بھی نہیں۔ گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا 3- عاملینِ صدقہ: وہ لوگ جو صدقات کا مال صاحب ثروت لوگوں سے جمع کرکے مستحق افراد تک پہنچاتے ہیں۔ چونکہ انکے شب وروز اسی کام میں صرف ہوتے ہیں تو انکی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صدقات وزکاۃ کے مال سے انہیں معقول تنخواہ دی جاسکتی ہے۔ اور عامل اس تنخواہ کے سوا اور کچھ بھی نہیں لے سکتا۔ سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا، فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ» ہم جسے بھی کسی کام پر مقرر کریں اور اسے وظیفہ دیں , تو اسکے علاوہ وہ جو کچھ بھی لے گا وہ خیانت ہے۔ سنن أبی داود: 2943 البتہ وظیفہ کے سوا وہ اپنی تین بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: «مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا» ہمارا جو بھی عامل ہے وہ (بیت المال کے خرچہ پہ) شادی کر لے, اور اگر اسکے پاس خادم نہیں تو ایک غلام لے لے, اور اگر اسکے پاس رہائش نہیں تو ایک گھر بنا لے۔ سنن ابی داود: 2945 اسکے علاوہ کچھ بھی کسی بھی عامل کے لیے حلال نہیں ہے۔ حتى کہ کسی عامل کو اگر کوئی تحفہ بھی دیا جائے تو اس پر بھی اسکا حق نہیں بلکہ اس تحفہ کو بھی بیت المال میں ہی جمع کروانا ہوگا۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا، فَجَاءَهُ العَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي. فَقَالَ لَهُ: «أَفَلاَ قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ، فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لاَ؟» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلاَةِ، فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: ” أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ العَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ، فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ: هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ، وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلاَ قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَنَظَرَ: هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لاَ، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ، إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ، وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ، فَقَدْ بَلَّغْتُ ” رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقرر فرمایا، تو جب وہ کام سے فارغ ہو کر واپس آیا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم! یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: تو اپنے باپ اور ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر تو دیکھتا کہ تجھے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟! پھر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم عشاء کے نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور خطبہ پڑھا اللہ کی حمد وثناء بیان کی، پھر فرمایا: اما بعد! عامل کو کیا ہے کہ ہم اسے کسی کام پر بھیجتے ہیں تو وہ ہمارے پاس آ کر کہتا ہے یہ تمہارا عمل ہے اور یہ مجھے تحفہ ملا ہے۔ وہ اپنے باپ اور ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھا رہا پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی اس (مال) میں کچھ بھی خیانت کرے گا تو وہ اسے قیامت کے دن اپنی گردن پہ اٹھا کر ضرور لائے گا، اگر اونٹ ہوا تو وہ اسے بھی لائے گا اسکے بلبلانے کی آواز ہوگی، اور اگر گائے ہوئی تو اسے بھی لائے گا جبکہ اسکے ڈکرانے کی آواز ہوگی اور اگر بکری ہوئی تو وہ اسے بھی لائے گا اس حال میں کہ وہ بکری ممیا رہی ہوگی۔ یقینا میں نے پہنچا دیا ہے۔ صحیح البخاری: 6636 4- مؤلفۃ القلوب: اس سے مراد نومسلم ہیں۔ انہیں اسلام پہ پختہ کرنے کے لیے ان پہ صدقات کا مال خرچ کیا جاتا ہے۔ 5- رقاب: اس سے مراد مسلمان غلام ہیں۔ یعنی مسلمان اگر غلام ہو تو غلامی کے طوق سے اسے آزاد کرانے کے لیے صدقات و زکاۃ کا مال استعمال کیا جاسکتا ہے۔ 6- غارمین: غارم ایسے شخص کو کہتے ہیں جو قرض کے بوجھ تلے دب جائے اور اسکے پاس قرض ادا کرنے کی طاقت نہ ہو۔ سیدنا قَبیصہ بن مُخارق الہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا»، ثُمَّ قَالَ: ” يَا قَبِيصَةُ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ” – أَوْ قَالَ: «سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ» – ” وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَقُولَ: ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا الْفَاقَةُ، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ – أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ – ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ المَسْأَلَةِ، يَا قَبِيصَةُ، سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا ” میں نے (کسی مقروض کے قرض یا کسی کی طرف سے دیت ادا کرنے کا) کوئی بوجھ اٹھایا تو میں نبی صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قبیصہ ٹھہر حتى کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آئے تو ہم اس میں سے تیرے لیے بھی حکم دیں گے۔ پھر فرمایا اے قبیصہ! سوال کرنا تین میں سے کسی ایک بندے کے سوا کسی کے لیے بھی جائز نہیں ہے۔ 1. وہ جس نے کوئی بوجھ اٹھایا ہو‘ اسکے لیے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتى کہ وہ بوجھ اس سے اتر جائے‘ پھر وہ مانگنے سے رک جائے۔ 2. وہ شخص جس پہ کوئی آفت آئی ہو جو اسکا سارا مال ختم کر دے‘ تو اسکے لیے بھی سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے‘ حتى کہ اسکی ضروریات زندگی اسے حاصل ہو جائیں۔ 3. وہ آدمی جو فاقہ کشی کا شکار ہو جائے‘ حتى کہ اسکی قوم کے تین سمجھدار آدمی کہیں کہ فلاں شخص فاقہ کا شکار ہوگیا ہے۔تو اسکے لیے بھی سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتى کہ اسکی ضروریات زندگی اسے مل جائیں‘ پھر وہ رک جائے۔ اے قبیصہ اسکے سوا جو بھی سوال ہے تو وہ حرام ہے, مانگنے والا حرام کھاتا ہے۔ سنن ابی داود: 1640 7- فی سبیل اللہ: یعنی اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے۔ کچھ لوگ یہاں فی سبیل اللہ سے ہر نیکی کا کام مراد لے لیتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ فی سبیل اللہ سے یہاں مراد صرف جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ، أَوْ غَارِمٍ ” پانچ آدمیوں کے سوا کسی بھی غنی کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے: 1. صدقہ کا عامل۔ 2. یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔ 3. یا وہ غنی جو صدقہ کی چیز اپنے مال سے خرید لے۔ 4. یا کسی فقیر کو صدقہ دیا گیا تو اس نے کسی غنی کو تحفہ کےطور پر دیا۔ 5. یا غارم (چٹی بھرنے والا)۔ سنن ابن ماجہ: 1841 یہ واضح نص ہے کہ فی سبیل اللہ کی خود رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے تعیین فرما دی ہے کہ اس سے مراد غازی فی سبیل اللہ ہے‘ کوئی اور نہیں!۔ 8- مسافر: اس سے مراد وہ مسافر ہے کہ دوران سفر جس کا زادِ راہ ختم ہو جائے‘ یا لُٹ جائے۔ یہ کل آٹھ قسم کے افراد ہیں جن پر صدقہ یا زکاۃ مال لگتا ہے۔ انکے علاوہ اور کسی کے لیے صدقہ کا مال جائز نہیں خواہ صدقہ فرضی ہو (مثلا: زکاۃ ‘فطرانہ‘ عشر‘ وغیرہ) یا نفلی ہو۔ اور پھر ان آٹھ قسم کے افراد کے صدقہ کا مستحق ہونے کی یہ شرط ہے کہ سب مؤمن و موحد ہوں‘ کافر و مشرک نہ ہوں۔ سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى اليَمَنِ، فَقَالَ: «ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ» جب نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا: انہیں اللہ تعالى کی توحید اور میری رسالت کی گواہی کی دعوت دینا‘ اگر وہ اس بارہ میں تیری اطاعت کر لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالى نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں‘ تو اگر وہ اس بارہ میں بھی تیری مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالى نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ فرض کیا ہے جو انکے اغنیاء سے وصول کرکے انہی کے فقراء کو دیا جائے گا۔ صحیح البخاری: 1395 اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ انہی کے اغنیاء سے وصول کرکے انہی کے فقراء کو دیا جائے گا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ توحید رسالت کی گواہی دینے اور نماز قائم کرنے والوں سے زکاۃ وصدقات وصول کیے جائیں اور توحید ورسالت کی گواہی دینے والوں اور نماز قائم کرنے والوں میں سے جو فقراء و مساکین ہیں انہی کو دیے جائیں۔ صدقہ و زکاۃ نہ تو کسی کافر سے وصول کرنا درست ہے اور نہ ہی کسی کافر کو دینا جائز ہے۔ مذکورہ بالادلائل کی روشنی میں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کسی کا یتیم, یا بیوہ ہونا,یا کسی کا دینی تعلیم حاصل کرنا, اسے صدقہ یا زکاۃ کا مستحق نہیں بناتا, بلکہ صدقہ یا زکاۃ کا مستحق ہونے کے لیے ان آٹھ قسم کے افراد میں شامل ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی بیوہ یا یتیم وغیرہ ان آٹھ قسم کے افراد میں شامل ہے تو اسے صدقہ و زکاۃ کا مال دیا جاسکتا ہے‘ وگرنہ نہیں۔ تو جن بیوگان کو آپ نے سلائی مشینیں لے کر دیں‘ انکی اس کیفیت سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مساکین کے زمرہ میں تھیں وگرنہ سلائی مشین کے لیے انہیں صدقات کی حاجت نہ ہوتی۔اسی طرح کسی دینی یا عصری ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے فقراء ومساکین کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی اگر زکاۃ دی جائے گی تو وہ درست ہوگی‘ کیونکہ مسکین و فقیر ہونا صدقہ کا مستحق ہونا ہے۔ هذا, والله تعالى أعلم, وعلمه أكمل وأتم, ورد العلم إليه أسلم, والشكر والدعاء لمن نبه وأرشد وقوم, وصلى الله على نبينا محمد وآله وسلم
وكتبه أبو عبد الرحمن محمد رفيق الطاهر‘ عفا الله عنه

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment