حکیم مولانا محی الدین حسینوی حفظہ اللہ کا انٹرویو

مرتب :محمد ابراہیم بن بشیر الحسینوی
آپ کا نام مکمل نام کیا ہے؟
میرا نام محی الدین بن عبدالکریم بن قادر بخش
حسین خانوالہ پتوکی کی جامع مسجد میں کتنا عرصہ سے آپ کا خاندان کام کررہا ہے ؟
اس مسجد میں میرے دادا جی سے لیکر مجھ تک ہم کام کررہے ہیں ۔
عبدالرحیم حسینوی صاحب سے آپ کا کیا رشتہ ہے ؟
وہ میرے تایا جان تھے۔میں نے عبدالرحیم حسینوی صاحب سے مدرسہ غزنویہ لاہور میں پڑھا بھی ہے ۔حسینوی صاحب مدرسہ میں بیمار ہوگئے میں ہی ان کی خدمت کرتا تھا ۔ایک دن غلطی سے سالن میں مصالحہ کی جگہ چائے کی پتی پڑ گئی تو حسینوی صاحب فرمانے لگے کہ مولوی صاحب !آج سالن بہت مزے دار ہے آپ نے کیا ڈالا ہے ؟میں نے کہا کچھ خاص نہیں وہی پرانی روٹین کے مطابق ہی پکایا ہے پھر بعد میں معلوم ہوا کہ چائے کی پتی ڈال دی تھی غلطی سے۔
حسینوی صاحب میو ہسپتال میں داخل تھے میں ان کی خدمت کے لیے ان کے پاس روزانہ مدرسہ سے جاتا ۔ایک دن رات کے وقت میں ان کے پاس ہسپتال میں گیا باتیں وغیرہ کرتا رہا صبح پھر دوبارہ گیا تو وہاں ان کا بیڈ نہیں تھا میں ڈاکٹر سے پوچھا کہ یہاں ہمارے بزرگ تھے وہ کہاں ہیں ؟تو اس نے کہا وہ رات وفات پا گئے تھے ان کے پاس ان کا کوئی وارث نہیں تھا اس لیے ہم نے ان کے بیڈ کو باہر رکھا ہوا فلاں پردہ کے پیچھے ان کی بوڈی ہے ۔یہ ۷۷ یا ۷۸ کی بات ہے ۔اس وقت حسینوی صاحب کی عمر ستر یا اسی سال تھی ۔بوڑھے تھے لیکن کلف لگاتے تھے اس لیے عمر زیادہ نہیں لگی تھی۔
حسینوی صاحب مدرسہ غزنویہ میں کتنے سال پڑھاتے رہے؟
تقریبا دو یا تین سال ۔
آپ کے والد محترم کہاں سے پڑھے تھے ؟
وہ گوجرانوالا سے پڑھے تھے میں مدرسہ غزنویہ سے فارغ ہوں اور دو سال ماموں کا نجن بھی پڑھتا رہا ہوں ۔پھر ۱۹۹۷ ء میں شاہ فہد کمپلیکس سعودیہ میں چلا تھا تھا ۔قرآن کی نشرو اشاعت میں چیکنگ کی ذمہ داری تھی کہ قرآن کتنی زبانوں میں شائع ہو گیا ؟کاغذ کتنا لگنا ہے وغیرہ
کیا آپ کے پاس دینی کتب ہیں ؟
جی میرے پاس نادر و نایاب کتب کا بڑا مکتبہ ہے اتنی کتب پورے علاقے میں کسی کے پاس بھی نہیں ہیں۔
مولانا عبدالرحیم حسینوی صاحب کی کوئی نصیحت یا دہو آپ کو ؟
نمازیں وقت پر پڑھنی ہیں ۔بڑوں کی قدر کرنی ہے ۔کسی کی چیز کو ضائع نہیں کرنا ۔
مدرسہ غزنویہ کی بلڈنگ ؟
یہ پابندرہ ھال تھا وہ سکھوں کی عدالت تھی۔وہ داود غزنوی صاحب کو ملی وہاں انھوں نے مدرسہ غزنویہ قائم کردیا۔نیچے مدرسہ تھا اوپر غزنوی علماء کی رہائشیں تھیں۔اس بلڈنگ میں سکھوں نے اپنا گردوارہ بنایا ہوا تھا سنگ مرمرسے بنایا گیا تھا بہت عمدہ ڈیزائننگ میں ۔جب سکھوں نے بابری مسجد کو گرایا اسی وقت غزنوی صاحب نے اس گردوارے کو گروا دیا اس سے مدرسہ کی بلڈنگ اور وسیع ہوگئی ۔
آپ کی عمر کتنی ہے ؟
میری عمر ۶۵ سال ہے
آپ کا خاندان اصل کہاں سے ہے ؟
ہم حسین خانوالا ہٹھا ڑ میں رہتے تھے وہاں ہی ہماری زمین ہیڈ جوڑا کے بالکل ساتھ تھیں ،میرے پڑدادا جی نے دیکھا کہ پتو کی میں حسین خانوالا چک ۱۸ بن گیا ہے پھر انھوں نے ہٹھاڑ کو چھوڑ کر یہاں آباد ہو گئے۔
حسین خانوالہ چک ۱۸ پتوکی کب بنا ؟
یہ انگریزوں نے بنایا تھا وہ مکمل طریقے سے گاوں بناتے تھے ۔بڑے بڑے بازار چھوڑتے تھے ۔قبرستان بھی متعین کرتے تھے ۔یہ گاؤں پاکستان بننے سے پہلے قائم ہو چکا تھا ۔یہاں سارا جنگل ہی تھا بے آباد تھاہٹھاڑ سے کچھ محنتی لوگ یہاں آئے انھوں نے اس کو آباد کیا ۔اس گاؤں کا کاغذی نام وریام والا ہے بعد میں اس کو حسین خانوالہ کے نام سے پکارا گیا ۔پٹواریوں کے پاس اس کا نام وریام والا چک ۸ ہے ۔اور ہٹھاڑ کے حسین خانوالا کانام پرانا ہی تھا وہاں کے جن لوگوں نے اس جنگل کو آباد کیا انھوں نے اصرار کیا کہ اس کا نام بھی وریام والا کی بجائے حسین خانوالا رکھا جائے تو انھوں نے ایسا ہی کروایا ۔
وریام کون تھا؟
یہ باگو کے خاندان کا بڑا تھا یہ حسین خانوالا ہٹھاڑ میں رہتا تھا اس نے کھنڈرات کو آباد کیا اور اسی کے نام سے وریام والا اس کا نام رکھا گیا پھر بعد والوں نے حسین خانوالہ چک ۸ رکھ دیا ۔
جب ہمارے علماء بزرگ اس گاؤں میں آئے تو انھوں نے دینی کام شروع کردیا اور ساری عمر دین کا کام کرتے رہے ۔ہمارے بڑوں کی بھینسیں تھی ۔یہاں ایک مربع زمین ہمارے نام تھی مولویاں دا مربع کے نام سے مشہور ہے ۔اس میں ہم کاشت کاری کرتے تھے ۔
عبدالعزیز کاٹن فیکٹری کس کی تھی ؟
یہ میرے تایا جی کی تھی تمام مشینیں آٹے ،چاول ،روئی کاتنے والا پینجاوغیرہ انھوں نے لگائی تھیں اور پورے علاقے والے کام انھیں سے کرواتے تھے ۔ساری عمر ہمارے بزرگوں نے اپنا رزق حلال کمایا ہے ۔
عبدالعزیز کون تھے ؟
یہ میرے تایا جی تھی پروفیسرعبدالجبار شاکر رحمہ اللہ کے والد محترم تھے دہلی مدرسہ رحمانیہ سے فارغ تھے ۔بہت علمی بارعب اور مثالی خطیب تھے ان کو سننے کے لیے لوگ دور دور سے آتے تھے۔ عبدالعزیزکاٹن فیکٹری انھوں نے ہی لگائی تھی مسجد میں خود ہی جمعہ پڑھاتے تھے بہت لوگ آتے تھے ۔مجسٹریٹ سے انھوں نے اجازت لی کہ مسجد تنگ ہے بازار کی طرف دو صفوں کی جگہ وافر ہے اس کو مسجد میں داخل کرنے کی اجازت دے دیں تب مجسٹریٹ نے لکھ کر اجازت دے دی ۔
پروفیسر عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ پنجاب لائبریریوں کے ڈرایکٹر تھے پھر فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب بھی رہے ۔
میں بھی تین ماہ دعوہ اکیڈمی اسلام آباد میں تین ماہ کام کرتا رہا ہوں ۔انتظامی معاملات میرے ذمے تھے۔
مولانا عبداللہ حسینوی صاحب مطالعہ ہی کرتے رہتے تھے بہت نیک تھے عبدالرحیم حسینوی صاحب کے حقیقی بھائی تھے ان کی اولاد نہیں تھی۔
ہمارے خاندان میں کوئی اختلاف نہیں کوئی لڑائی نہیں ہم سب ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے رہتے ہیں اب میں ہی اس خاندان کا بڑا ہوں سارے میرا بہت اکرام کرتے ہیں ۔
میرا حقیقی بڑا بھائی عبدالقیوم بھٹی پتو کی میں رہتا ہے۔
جو ہمارے پاس پرانی کتب تھیں وہ عبدالجبار شاکر صاحب اپنی لائبریری میں لے گئے ۔
اور عبدالرحیم حسینوی صاحب کی کتب ان کا بیٹا امام یحیی زاہد صاحب حسین خانوالاہٹھاڑ سے اپنے نئے گھر جوہر ٹاؤںن لاہور میں لے جا رہے ہیں۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment