شیخ الحدیث محمد اسحاق محدث حسینوی رحمہ اللہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شیخ الحدیث محمد اسحاق محدث حسینوی رحمہ اللہ
آپ حسین خانوالا چک ۱۸پتوکی میں رہتے تھے ،بہت عظیم انسان تھے آخری عمر میں ایک دفعہ مجھے زیارت کا موقع ملا اس وقت بہت کمزور ہو چکے تھے جامعہ اہل حدیث چوک دال گراں لاہور میں درس بخاری استاد محترم حافظ ثناء اللہ المدنی حفظہ اللہ نے دیا تھا اس موقع پر ایک نوجوان اپنی کمر پر اٹھائے ایک نہایت کمزور ،چھوٹے سے قد والے بزرگ کو نیچے مسجد میں لائے پوچھنے پر بتا یا گیا کہ یہ شیخ الحدیث محمد اسحاق حسینوی صاحب ہیں ۔
آپ مدرسہ لکھو کے ضلع فیروز پور میں داخل ہوئے ،پھر مدرسہ دارالسلام دہلی ،مدرسہ گوندلانوالا ،مدراس وغیرہ میں پڑھے ۔
آپ کی خدمات میں سے یہ ہے کہ آپ نے جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن ،مدرسہ غزنویہ کو آباد کیا اور چالیس سال مدرسہ غزنویہ میں ہی پڑھاتے رہےاورسینکڑوں طلبہ کو صحیح بخاری پڑھائی ۔اور کئی ایک کتب تصنیف کیں ۔انھوں نے اپنے استاد محترم محدث زماں عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے حالات پر ایک تفصیلی مضمون بعنوان (عمر بھر کے راہنما )لکھا جو اشاعت خاص الاعتصام بیاد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ ص:۳۳۱۔۳۹۸میں مطبوع ہے۔دل تو کرتا ہے کہ سارا مضمون اس کتاب میں شائع کیا جائے لیکن یہ مضمون مستقل ایک کتاب ہے ۔حقیقت میں یہ سارا مضمون شیخ اسحاق حسینوی رحمہ اللہ کی خود بیتی ہے سبحان اللہ ۔آپ کے مفصل حالات پڑھنے کے لیے اس مضمون کا مطالعہ بہت ضروری ہے ۔
آپ کی تصنیفی خدمات :
رسالہ نجاتیہ فاخر زائر الہ آبادی کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا ۔[اس ترجمہ کو دوبارہ علمی شرح کے ساتھ ہم نے اپنے ادارے سلفی ریسرچ انسٹیٹیوٹ برمنگھم ،لاہور کی طرف سے دوبارہ شائع کیا ہے ۔]
قبرصیہ لابن تیمیہ کا ترجمہ کیا ۔
تعلیم الحج کے نام سے کتاب لکھی۔
رحیق رسالہ میں ہر ماہ مضمون شائع ہوتے رہے۔
دیوان حماسہ کا ترجمہ کیا ۔
تذکرۃ الحفاظ للذہبی کا ترجمہ کیا ۔
مختصر سیرت الرسول ﷺ کا ترجمہ کیا
آپ ۲۲ ربیع الثانی ۱۴۲۳ھ بمطابق ۴ جولائی ۲۰۰۲ء کو فوت ہوئے ۔
ہم مرحوم کے مضامین و فتاوی کوشائع کرنے کی غرض سے یکجا کروا رہے ہیں ۔

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment