حاجی احمد دین بن اسماعیل فیروز پوری حسینوی رحمہ اللہ

جائے پیدائش فیروز پور،گاؤں چھینہ میں پیدا ہوئے
ہجرت :آپ نے اپنے نانکے کھریپڑ کی طرف ہجرت کی جو حسین خانوالا ہٹھاڑ سے تین کلو میٹر جانب مشرق بڑا گاوں ہے ۔اور خود کہا کرتے تھے کہ
جب پاکستان بنا تو ہجرت کی کھریپڑ آگئے ۔ہم کئی بار اپنی نانی کے ساتھ فیروز پور جاتے تھے ۔
؎میرے ماں باپ کی قبر فیروز پور ہے ۔
آپ کے والد چھبر ہٹھاڑ سے تھے ۔
ان کے بھائی محمد دین تھے ان کے بیٹے قاری محمد صدیق آف کوٹ رادھا کشن ہیں۔
پھر پیدل حج کیا اس وقت پاکستان بنے کو چھ ماہ ہوئے تھے ۔جب پیدل حج کیا ۔ایک سال کی مدت میں مکہ مکرمہ پہنچے ۔روزانہ مزدوری کی اکثر سفر ٹرکوں پر کیا مزدوری بھی کی اور سفر بھی کیا ۔
؎ایک سال وہاں ٹھہرے پھر واپس بھی پیدل سفر کیا۔
حج کے بعد پھر فتوحی والا شادی کی ۔مولانا عبدالرحیم حسینوی رحمہ اللہ نے ہی ان کی مناں بن فتح محمد کی بیٹی عائشہ سے شادی کی جو آنکھوں سے محتاج تھیں۔
پھر لاہور قینچی امر سدھو میں رہائش اختیار کی ۔وہاں کئی سال رہے وہاں سے کپڑے کا کاروبار کرنے لگے ۔سائیکل پر کپڑے لادھ کر حسین خانوالا ہٹھاڑ کے ارد گرد دیہاتوں میں فروخت کرتے اور دیہاتوں سے مرغیاں اور دیسی انڈے خرید کر واپس لاہور لے جاتے ۔
عبدالرحیم حسینوی صاحب نے ان سے کہا کہ مجھ سے پڑھا کرپھر انھوں نے دینی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی ۔ ان کے کلاس فیلو مولوی یحیی بازید پوری اور مولانا اسماعیل حلیم حفظہما اللہ تھے ۔
اور ساتھ مولانا عبدالرحیم حسینوی صاحب مطب پر کام بھی کرتے تھے ۔رہائش بھی حسین خانوالا میںایک مکان آٹھ سو میں خرید کر رہائش اختیار کر لی ۔اس زمین کی رقم سردار ا لکھے کے نے بطور نیکی ادا کی ۔سردارا ایک نیک دل انسان تھے سرادار رحمہ اللہ کے بیٹوں میں حاکم علی،رحمت اللہ رحمھما اللہ،محمد علی ہیں ۔
حاجی احمد دین صاحب نے مولانا عبدالرحیم حسینوی صاحب سے کہا کہ اپنے بالوں کو خضاب نہ لگایا کرو تو انھوں نے کہا مجھے مجبوری ہے اس لیےلگاتا ہوںویسے یہ حرام ہی ہے۔
حسینوی صاحب کو بار بار روکتے تھے۔حسینوی صاحب نے کہا کہ احمد دین میر انکما شاگرد ہے یہ مجھے میرے منہ پر ہی روکتا ہے ۔
آپ کی اولا د:محمد یحیی ،ثناء اللہ اور رضاء اللہ ثاقب رحمہ اللہ جو کہ عالم دین اور عربی ٹیچر تھے۔جامعہ محمدیہ گوجرانوالا سے فارغ تھے ۔اور بیٹی کوئی نہیں تھی۔
ان کی بیوی محترمہ ۱۹۷۰ میں فوت ہوئیں ۔
تدریس:آپ نے کئی سال حسین خانو الہ کی جامع مسجد میں ناظرہ ،ترجمہ وغیرہ پڑھایا پھر آپ نے کئی سال تر راجہ جھنگ کے قریب گٹھیاں والی ،انیاں والی حویلی میں بچیوں کو قرآن و حدیث کی تدریس کی وہاں سالہا سال صحیح بخاری بھی پڑھاتے رہے ۔
آخر عمر میں حسین خانوالاہٹھاڑ میں تدریس شروع کر دی بہت سخت تھے جس کو کوئی نہ پڑھا سکتا اس کو حاجی صاحب پڑھاتے تھے ۔نرمی ان میں نہیں تھی ۔بہت سخت سزاد یتے تھے ۔
میں جب جامعہ رحمانیہ لاہور سے چھٹی پر گھر آتا تو بہت شفقت کرتے دعائیں دیتے اور جو ان کے حجرے میں ہوتا پیش کرتے اور کوئی نہ کوئی نحو یا صرف کا مجھ سے سوال کرتے ایک مرتبہ انھوں نے مجھ سے ابواب الصرف کے کچھ ابواب بھی سنیں ۔مجھ سے مل کر بہت خوش ہوتے ۔رحمہ اللہ

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment