میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کا آخری خط

ایک سو چوہترواں(۱۷۴)خط باطلاع بیماری و نصائح آخری

بسم اللہ الرحمن الرحیم از عاجز محمد نذیر حسین بمطالعہ گرامی مولوی سید عبدالعزیزی صمدنی سلمہ ربہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کے بعد واضح ہو کہ مسرت نامہ آیا ۔آپ کے چلے جانے کے بعد رات ہی میں میری طبیعت خراب ہو گئی کچھ مفرح کھانے سے میری طبیعت ٹھہری اور اس ٹھہر جانے سے اب تو چلا جانا ہی اچھا ہے ۔اور خوب پڑھا لیا ۔اور کتاب اللہ و سنت نبوی ﷺ کی خدمت کر لی ۔اللہ تعالی و رسول اللہ ﷺ کے احکام کی بخوبی تبلیغ کی اور اب کوئی تمنا اس دنیائے فانی میں باقی نہیں رہی ہے ۔ہاں البتہ جل شانہ کے دربار حق جانے کے لیے فقیر تیار ہے ۔اور وہ ہی ان شاء اللہ تعالی میری آرزو پوری کرے گا۔تم سب لوگ ہمیشہ زندہ و کامران رہو اور میرا ضعفِ دماغ اور میرا موجودہ حال مجھ سے کہہ رہا ہے کہ آپ لوگ شاید آئندہ مجھے نہ دیکھ سکیں گے ۔خیر خوش رہو ۔بڑی عمر پاؤ۔تاکہ اور اشاعت کلمۃ الحق میں مصروف رہو اور اب اللہ کے سپرد تم کو کرتا ہوں ۔اللہ تعالی تم سب کا حافظ وناصر ہے ۔اور میرے لیے ہر وقت اور ہمیشہ ہمیشہ میری مغفرت کے لیے اپنی اپنی دعاؤں سے یاد کرتے رہنا۔اب تو قوائے جواب دے چکے ۔آئندہ شاید تمہیں کسی خط کا جواب نہ ہی مل سکے گا۔فقط۔والسلام خیر الختام ۔
(مکاتیب نذیریہ ص:۱۷۲)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment