صحیح بخاری کا مکمل درست نام

 اس کا مشہور نام جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے :الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ ۔(ھدی الساری:ص۶)یہی نام طاہر الجزائری (توجیہ النظر ص۲۲۰)وغیرہ نے نقل کیا ہے جو کہ درست نہیں ۔ بلکہ اس کے برعکس حافظ نووی نے اس کا نام اس طرح لکھا ہے اور دلائل کی روشنی میں یہی صحیح ہے :(الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ (تھذیب الاسماء واللغات للنووی:ج۱ص۷۳)یہی نام ابن رشید السبتیی الاندلسی (افادۃ النصیح فی التعریف بسند الجامع الصحیح ص۱۶)اور علامہ عینی (عمدۃ القاری:ج۱ص۵)میں لیا ہے ۔دکتور نورالدین عتر نھے بھی اسی نام کو صحیح ثابت کیا ہے ۔(الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ و بین الصحیحین لنور الدین عترص۴۱)اور یہی تحقیق ابوغدہ حنفی صاحب نے پیش کی ہے بلکہ انھوں نے تو قدیم دو قلمی نسخوں سے بھی یہی نام ثابت کیا ہے ۔دیکھئے(تحقیق اسمی الصحیحین واسم جامع الترمذ ی لابی غدہ)
تنبیہ:علامہ جمال الدین قاسمی نے بھی نام میں غلطی کی ہے مثلا :الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہ ﷺ وسننہ وایامہ ۔(حیاۃ البخاری ص۱۲)

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment