صحابہ کرام کو رضی اللہ عنہ کیوں کہا گیا ؟

سوال :صحابہ کرام کو کن وجوہات کی بنا پر رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کہا گیا ؟اور کیا یہ فضیلت اب بھی کوئی انسان حاصل کرسکتا ہے ؟استاد محترم شریف شرف حفظہ اللہ

جواب :قرآن وحدیث پر غور کرنے سے صحابہ کرام کو اس عظیم سعادت ملنے کی چند وجوہات سامنے آتی ہیں ۔

۱: وہ قرآن وحدیث کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرنے والے تھے ،قرآن  وحدیث کی موجودگی میں ان کی اپنی خواہشات ،اپنے جاہلانہ رسم و رواج کی ان کے ہاں کوئی حیثیت نہ رہی ۔زمانہ جاہلیت میں شراب کے عادی ہو چکے تھے اس کو چھوڑنا ناممکن تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کا پیغام سنتے ہی کہ شراب حرام ہے ۔تمام صحابہ نے شراب کے مٹکوں کو گلیوں میں بہا دیا ۲: انھوں نے اپنا سب کچھ دین پر قربان کردیا ۔نبی کریم ﷺ کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تھی اعلان کرتے تھے تو صحابہ کرام کے پاس جو کچھ بھی ہوتا وہ دین کے لیے پیش کردیتے اور اسے اپنی سعادت سمجھتے تھے ۔سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ اپنا سارا مال پیش کردیا تھا ۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ کروڑوں کی جائیداد اونٹوں اور گھوڑوں کی شکل میں صدقہ کردی۔ایک عورت نے اپنے سات بیٹوں کو نبی کریم ﷺ کی حفاظت کی خاطر قربان ہونے کے لیے وقف کردیا اور وہ ساتوں ہی نبی کریم کی حفاظت میں شہید ہوگئے ۔

۳: وہ مخلص تھے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ۔سبحان اللہ وہ اس قدر مخلص تھے کہ جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔غزوہ تبوک میں تمام صحابہ کرام نے شرکت کی حالانکہ اس وقت ان کی فصلوں کے کاٹنے کا وقت تھا ۔تین صحابہ پیچھے رہ گئے انھوں نے نبی کریم ﷺ کی واپسی پر جھوٹ نہیں بولا بلکہ سچ سچ بتلا دیا کہ سستی ہو گئی اس پر چالیس دن تک نبی کریم نے ان سے بات نہیں ان کی بیویوں کو الگ کروادیا ۔تو اللہ تعالی نے ان کی براء ت کا ذکر خود کیا (التوبۃ :۱۱۹)

۴: ان کے دلوں میں اللہ تعالی کا بہت ڈر تھا ۔کامیابی کے لیے اللہ کا ڈر ہونا شرط ہے ۔ہجرت مدینہ کے وقت سیدنا علی لوگوں کی امانتوں کے پاس تھے دن کو ساری امانتیں لوگوں تک بحفاظت پہنچائیں ۔ہزاروں مثالیں ملتی ہیں ان کے ڈرنے کی ۔سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہر موقع پر نبی کریم ﷺ کا ساتھ دیا اس کی وجہ اخلاص ہی تھا کوئی اور لالچ پیش نظر نہیں تھا ۔

۵: فرائض و سنن اور نوافل کے بہت پابند تھے سستی ان کے کاغذوں میں نہیں تھی ۔بلال رضی اللہ عنہ کے قدموں کی آہٹ جنت میں نبی کریم ﷺ کو سنائی دی صبح نبی کریم ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی تحیۃ الوضوء نہیں چھوڑے ،یعنی جب بھی وضو کیا اس کے بعد دو نوافل ضرور پڑھے ۔ہندہ رضی اللہ عنھا اپنے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کی رات میرے دل میں خیال آیا کہ کیا وجہ ہے مسلمان کامیاب ہوگئے ہیں ان کو دیکھوں یہ رات کو کیا کرتے ہیں ؟جب بیت اللہ کے پاس آئیں تو تمام صحابہ بیت اللہ کے ارد گرد نماز میں اونچی اونچی رورہے ہیں اللہ سے دعائیں کررہے ہیں ۔ہندہ فرماتی ہیں کہ اس بات نے مجھے مسلمان کردیا کہ ان کا اللہ تعالی سے تعلق بہت زیاد ہے ۔

۶: ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ دین کو عام کیا جائے ۔نبی کریم ﷺ نے جب بھی کسی صحابی کو تبلیغ کے لیے کسی ملک میں روانہ کیا تو انھوں نے انکارنہیں کیا بلکہ فورا نبی کریم کی بات پر عمل کیا ۔دنیا کے کونے کونے میں دین کو صحابہ نے ہی پہنچایا تھا ۔

۷: ان کا فکر جنت تھی وہ جنت کے حصول کے لیے سارے کام کرتے تھے ۔احادیث میں ملتا ہے کہ صحابہ کو جنت کی پریشانی تھی اس کاحصول کیسے ممکن ہے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کرتے تھے ۔کہ ہم جنت میں کیسے جا سکتے ہیں پھر اس پر عمل کرتے تھے ۔ایک صحابی نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے ایسا عمل بتائیں جس پر عمل کرنے کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں آپ نے اسے فرائض پر پابندی کا درس دیا اس نے کہا کہ میں اس سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم نبی کریم ﷺ نے اس کی بات سن کرکہا :یہ بندہ کامیاب ہوگیا اگر اس نے سچ بولا ہے ۔

۸: منافقت ،حسد اور بغض وہ اپنے قریب نہیں لاتے تھے ۔سورۃ الفتح :۱۸ میں اللہ تعالی بیعت رضوان کا ذکر کیا جب صحابہ نے عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کی خبر سنی تب یہ نوبت پیش آئی جب صحابہ کرام اخلاص کے ساتھ بیعت کررہے تھے تب اللہ نے ان کے دل کی کیفیت کو بیان فرمایا کہ فعلم ما فی قلوبھم ۔اس وقت صحابہ کے دلوں میں کیا تھا اس کو اللہ تعالی نے جان لیا ۔

۹: خدمت خلق ان کا عظیم مشن تھا ،وہ اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیتے تھے ۔کچھ غریب لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے توآپ ﷺ نے صحابہ سے ان کی مدد کرنے کو کہا تو تمام صحابہ نے اتنا تعاون کیاکہ وافر مال جمع ہوگیا ۔         ۱۰: اللہ تعالی نے ان کے دلوں کا امتحان لیا تھاجو کامیاب نکلے پھر انھیں نبی کریم ﷺ کا صحابی بنایا ۔اس بات کا ذکر قرآن  میں موجود ہے ۔یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہ صحابہ بننے سے پہلے اللہ تعالی ان کا عالم ارواح میں امتحان لے چکے تھے ۔جی جو شخص صحابہ کرام کا جیسا اپنا ایمان و عمل بنا لے ا س کے لیے بھی یہی خوشخبری ہے ۔اس کا ذکر اللہ تعالی نے خود کیا کہ اے ایمان والو تم صحابہ کرام جیسا ایمان لے آوکامیاب ہو جاو گے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب

العبد ابراہیم بن بشیر الحسینوی

About the author

ibnebashir

Add Comment

Click here to post a comment